پلوٹو سیارے پر برفانی پہاڑ کیسے؟ جبکہ درجہ حرارت انتہائی زیادہ

350

2015 میں کی گئی خلائی تحقیقات میں پلوٹو سیارے پر حیرت انگیز برفانی پہاڑوں کا پتہ چلا جو بظاہر زمین کے برفانی پہاڑوں کی طرح تھے۔ اس طرح کا منظر اس سے پہلے شمسی نظام میں کہیں اور نہیں دیکھا گیا تھا۔

تاہم جس چیز نے سائنسدانوں کو الجھا دیا وہ یہ تھا کہ ہمارے سیارے پر ماحولیاتی درجہ حرارت اونچائی پر کم ہوتا ہے جبکہ پلوٹو پر شمسی تابکاری کے نتیجے میں اونچائی پر درجہ حرارت زیادہ ہوتا ہے، تو پھر یہ برف کیسے بنی؟

سی این آر ایس کے سائنسدانوں کی سربراہی میں ایک بین الاقوامی ٹیم نے اس سوال کا جواب تلاش کرلیا۔ کی تلاش کرلیا۔ پلوٹو کے پہاڑوں پر واقع “برف” دراصل منجمد میتھین گیس ہے۔ زمین کے پانی کے بخارات کی طرح یہ گیس پلوٹو کی فضا میں موجود ہے۔

ٹیم نے دیکھا کہ پلوٹو کی اوپری فضاء میتھین گیس سے مالا مال ہے۔ پہاڑوں کی چوٹیاں اُس مقام پر جب پہنچتی ہیں تبھی ہوا میتھین گیس کو گاڑھا کردیتی ہے جس سے یہ برف بن کر پہاڑوں کی چوٹیوں پر نمودار ہوتی ہیں لیکن فضا کی نچلی سطح میں چونکہ میتھین گیس کم ہے، اسلیے وہاں برف نہیں بن پاتی۔