کورونا وبا کےباوجود 20لاکھ امریکیوں کا فضائی سفر

302

کورونا وائرس کی عالمی وبا کے باوجود موسم سرما کی تعطیلات کیلیے 20لاکھ سے زائد امریکی شہریوں نے فضائی سفر کرڈالا۔

امریکی ٹرانسپورٹیشن سیکیورٹی ایڈمنیسٹریشن (ٹی ایس اے) کے مطابق یہ اعداد و شمار ان سرکاری ہدایات کے برعکس ہیں جس میں لوگوں سے غیرضروری سفر سے اجتناب کرنے اور تعطیلات گھر پرگزارنے کا کہا گیا ہے۔

ٹی ایس اے کے مطابق جمعے اور ہفتے کو 10لاکھ 7ہزار لوگوں نے ہوائی سفر کیا، ہوائی جہازوں پر سفر کرنے کی یہ شرح پچھلے سال کے مقابلے میں 60 فیصد کم ہے تاہم رواں سال کے شروع سے امریکا میں کرونا کی وبا پھیلنے کے بعد کے رجحانات کے مقابلے میں یہ شرح سب سے زیادہ ہے۔

ٹی ایس اے نے مسافروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ چہرے پر ماسک پہنیں اور ایک دوسرے سے 6فٹ کا کم سے کم فاصلہ رکھیں۔ وقت سے قبل ایئرپورٹ پہنچنے سے لوگوں کو بغیر کسی پریشانی کے سفر کرنے میں مدد ملے گی۔

امریکیوں کی ایک بڑی تعداد کرسمس کی تعطیلات اپنے عزیزوں کے ساتھ گزارتی ہے جس کے لیے وہ طویل سفر کرتے ہیں۔ مسافروں کو یہ سہولت بھی دی گئی ہے کہ وہ ہاتھوں کو جراثیم سے پاک کرنے کے 12اونس تک لیکویڈ اپنے ساتھ لے جاسکتے ہیں۔

امریکیوں کی بڑی تعداد میں مسافر اپنی ذاتی گاڑیوں میں بذریعہ ہائی ویز سفر کر رہے ہیں۔ ٹریفک سیفٹی کی تنظیم اے اے اے نے پیش گوئی کی ہے کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں امسال اپنی ٹرانسپورٹ کے ذریعے گزشتہ سال کے مقابلے میں تین کروڑ اور 40لاکھ کم افراد سفر کریں گے۔ جس سے اس سال کی ٹریفک 29 فیصد کم رہے گی۔

امریکا میں نومبر کے آخری ہفتے سے نئے سال کے آغاز تک کا وقت تعطیلات کا موسم سمجھا جاتا ہے جس میں لوگ یوم تشکر، کرسمس اور نئے سال کے روائتی تہوار اپنے خاندان کے افراد کے ساتھ مل کر مناتے ہیں۔

امریکا میں کورونا وائرس کی دوسری لہر نے شرح اموات سمیت متاثرہ افراد کی تعداد میں اضافہ کردیا ہے۔

واضح رہےکہ امریکا کورونا وائرس سے دنیا بھر میں سب سے زیادہ متاثرہ ملک ہے اور جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے اعداد و شمار کے مطابق اب تک ایک کروڑ 70لاکھ کیسز سامنے آئے ہیں جب کہ 3لاکھ 17ہزار افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔