امریکی سینیٹ میں اخوان دشمنی پر مشتمل بل پیش

118

واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکا میں ریپبلکن پارٹی کے سینیٹر اور سینیٹ میں خارجہ تعلقات کی کمیٹی کے رکن ٹیڈ کروز نے اخوان المسلمون سے عداوت پر مشتملمسودۂ قانون دوبارہ ایوان بالا میں پیش کردیا ہے۔ اس بل میں مصر کی امن پسند، مذہبی اور جمہوری جماعت اخوان المسلمون کو دہشت گرد قرار دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ مسودے میں وزارت خارجہ پر زور دیا گیا ہے کہ وہ اس مقصد کے لیے اپنا اختیار استعمال کرے۔ یہ اقدام وزارت خارجہ سے اس بات کا مطالبہ کرتا ہے کہ وہ کانگریس میں اس حوالے سے ایک رپورٹ پیش کرے کہ آیا اخوان المسلمون کی دہشت گرد جماعت کے طور پر درجہ بندی کے لیے قانونی معیارات پورے ہو رہے ہیں یا نہیں۔ بل پیش کرنے میں سینیٹر ٹیڈ کروز کے ساتھ سینیٹر جم اینہوف، سینیٹر وارن جونسن اور سینیٹر پیٹ روبرٹس شامل ہیں۔ ٹیڈ کروز نے قانون کا مسودہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ مجھے اس قانون کو دوبارہ متعارف کراتے ہوئے فخر محسوس ہو رہا ہے ۔ انہوں نے مزید ہرزہ سرائی کی کہ اس طرح شدت پسندی اور دہشت گردی کے خلاف امریکا کی جنگ مضبوط ہو گی۔ انہوںنے یہ بھی کہا کہ موجودہ انتظامیہ دہشت گردی کا واضح طور پر نام لے کر اس کے پھیلاؤ کو روکنے کی جنگ لڑ رہی ہے، جو قابل تعریف ہے ۔ کروز کا مزید کہنا تھا کہ عرب دنیا میں ہمارے کئی قریب ترین حلیفوں نے طویل عرصے سے اخوان المسلمون کو دہشت گرد تنظیم تسلیم کررکھا ہے۔ ان کا اشارہ عرب اور خلیجی ممالک کی جانب تھا۔