گلے کی سوزش ایک خطرہ

369

گلے کی سوزش ایک تکلیف دہ بیماری ہے اور یہ عموماً نزلہ زکام سے ہوجاتا ہے جبکہ اس کا علاج گھر میں کیا جاسکتا ہے اور یہ کچھ عرصے میں ٹھیک ہو جاتا ہے۔

ماہرین کے مطابق گلے کی سوزش بیکٹریا کی وجہ سے ہوتی ہےاور بعض اوقات یہ شدت اختیار کر جاتی ہے اور بخار وغیرہ یا گلٹیوں کا سبب بنتی ہے البتہ گلے کی سوزش اگر زیادہ عرصہ تک رہے تو یہ خطرے کی بات ہے اور اس لیے اگر آپ کے گلے کی  سوزش 3 ہفتوں سے زائد ہو جاتی ہے تو ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔

ہیلتھ میگزین کے مطابق گلے کی سوزش کے علامات ۔:۔

گلے میں ہفتوں تک درد رہنا اور بعض اوقات اس کی علامات میں تھوڑا بہت فرق ہوتا ہے اور یہ بیکٹریا کی وجہ سے  ہوتا ہےجو مدافعتی نظام پر اثر انداز ہوتا ہے۔

گلے کی سوزش کی جو بھی قسم ہو اگر زیادہ عرصہ رہے تو اس سے جسمانی مدافعتی نظام کمزور ہوتا ہے۔

ماہرین کے مطابق گلے کی سوزش کے مختلف اسباب ہیں اور یہ کبھی کبھار طوالت اختیار کر جاتا ہے جو مریض کے لیے نہایت مشکل کا سبب ہوتا ہے اور یہ ہفتوں تک جاری رہے تو مریض کو ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔

رپورٹ کے مطابق گلے کی سوزش کے اہم اسباب نشہ کرنا ہے جو سگریٹ نوشی اور دیگر نشوں کی وجہ سے گلے کی سوزش ہوجاتی ہے۔

اس کے بعد فضا کی گندگی ہے   اور فضا میں موجود گرد وغبار کی وجہ سے گلے میں سوزش ہوتی ہے اور اس لیے آلودہ فضا سے ہر ممکن بچنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

ماہرین کے مطابق  گلٹیوں کے بار بار بننے سے گلے کی سوزش ہو جاتی ہے، جو سانس کی تنگی کا باعث بھی بنتی ہے۔

ناک کی حساسیت: رات میں سوتے ہوئے اگر سانس ناک کی بجائے گلے کے راستے سے لیا جائے تو گلے میں سوزش وغیرہ کے مسائل پیدا ہوجاتے ہیں۔

معدے کی گرمی: گرم کھانوں کی وجہ سے معدے میں تیزابیت  ہوجاتی ہے جو گلے کی سوزش کا سبب بنتی ہے۔

بلغم: اگر بلغم وغیرہ سینے میں پیدا ہوجائے تو اس سے گلے کی سوزش ہونے کا خطرہ  ہوتا ہے اوراس کے لیے ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔