ہانگ کانگ میں متنازع قانون پرمغربی ممالک کی تنقید

30

واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) ہانگ کانگ میں چین کی جانب سے نافذ کیے گئے متنازع قانون کے تحت ہونے والے اقدامات پر مغربی ممالک کی جانب سے شدید تنقید کی جا رہی ہے۔ خبر رساں اداروں کے مطابق امریکا، برطانیہ، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور کینیڈا نے بیجنگ حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ ہانگ کانگ میں اپنے ناقدین کو خاموش کرانے کے لیے سخت اقدامات کررہا ہے۔ چین نے جمہوریت نواز منتخب ارکان پارلیمان کو نااہل قرار دینے کے لیے متنازع قوانین وضع کیے ہیں، تاکہ اپنے مفادات کو حاصل کیا جا سکے۔ دوسری جانب چین نے الزامات پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے قانون کی مخالفت کرنے والے مغربی ممالک کو اندرونی معاملات میں مداخلت نہ کرنے کا انتباہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں اس حوالے سے محتاط رہنا چاہیے ورنہ ان کی آنکھیں نکال لیں گے۔ژاو لیژیان کے مطابق چین کے لوگ کسی کے لیے نہ مشکلیں کھڑی کرتے ہیں اور نہ ہی انہیں کسی کا خوف ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے چین میں ایک قانون پاس کیا گیا ہے، جس کے تحت ہانگ کانگ کی حکومت ایسے ارکان پارلیمان کو نااہل قرار دے کر برخاست کر سکتی ہے جو ان کے مطابق قومی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھے جاتے ہوں۔ اس سلسلے میں 4 ارکان کے خلاف کارروائی بھی عمل میں لائی گئی تھی۔