وقت قبولیت کے کام

68

عالیہ زاہد بھٹی
یہ قبولیت کا وقت ہے ۔منظور ہونے کے فیصلے ہوتے ہیں اس وقت یہ تمام مسنون اذکار ادا کرنے کے بعد سب اپنے اپنے اور ہم سب کے لیے دعائیں مانگیں کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم ذکر اذکار میں تو کاملیت کے درجوں پر پہنچ جائیں مگر یہ کاملیت ہمیں عبادت مکمل ہو جانے کے غلو مبتلا کر دے اور ہم سمجھیں کہ بس نماز بھی ادا ہو گئی مسنون اذکار کا ورد بھی ہو گیا چلو اب اگلی نماز تک کے لیے آرام کرتے ہیں۔نہیں بلکہ ایک نماز سے دوسری نماز تک صرف اذکار ہی نہیں بلکہ ان اذکار سے قوت لیکر سارا وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نقش قدم پر دعوت دین اور اقامت دین پر لگانا ہے تو حق بندگی ادا ہوگا۔
عزیزوں ! ہم سب کے لیے اللہ سےدعا کریں کہ وہ ہم سے دین کا وہ کام لے لے جو اللہ اور نبی مہربان محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ہم سے مطلوب ہے ہم اپنی نماز واذکار کے کافی ہو جانے کے مغالطے میں نہ پڑیں بلکہ ہر روز ان نمازوں اور اذکار کی وجہ سے ہماری اس رپورٹ میں بڑھوتری ہو جو فرشتے ہر پیر اور جمعرات کو رب کے حضور لیکر جاتے ہیں۔
ایسا نہ ہو کہ سالوں سے فرشتے ہماری وہ لگی بندھی رپورٹ اللہ کو پیش کر رہے ہوں کہ بس نماز،ذکر ،اذکار اپنا گھر اور دو لوگ اس نے نیکی کے لیے ٹارگٹ کر رکھے ہیں۔
یہ جائداد تو بنا رہا ہے،کھانے بھی کھا رہا،بچے بھی سنبھال رہا ہے دنیا کے دھندوں میں ہر روز ایک نئ ترقی رقم کر رہا ہے مگر۔۔۔نماز وذکر،صدقہ،خیرات اور ایک دو مخصوص نیکیوں کے علاوہ اس کی رپورٹ وہی پرانی ہے۔
جبکہ اللہ کے دین کو ہر روز ایک معاون ایک،مددگار،ایک مجاہد کی ضرورت ہے جیسے گھر میں کام بڑھنے پر ماں کو بہو اور بیٹی کی مدد کی ضرورت ہے ویسے ہی دین کے پھیلنے پر دشمنان دین کے حملوں پر ہمیں روز اپنی رپورٹ کو تازہ کرنے کی ضرورت ہے۔
آئیں وہ اجتماعیت بنیں کہ ایک دوسرے سے فجر کے اذکار کے ساتھ ہی سوال کریں کہ آج تم نے کتنے لوگوں کو آمادہ کیا دعوت دین کے کام کی توسیع کے لیے
کتنے قدم چل کر اقامت دین کی جدوجہد میں حصہ ڈالا اپنے ہر کام کو معمول کے مطابق کرتے ہوئے کتنے نئے افراد لے کر آئے اللہ کے معاون ومددگار بنانے کے لیے
تو عزیزوں ہم سب ایک دوسرے کے لیے دعا کریں گے اس حوالے سے بھی اور انشاءاللہ جلد مثبت انداز میں اللہ کے مددگار بنیں گے ہرروز ایک نئ جدت اور قوت کے ساتھ انشاءاللہ