کاروباری اداروں کی توجہ ترقی پر برقرار رہے گی،اے سی سی اے

90

لاہور(کامرس ڈیسک)عالمی یوم اخلاق 2020ء کے موقع پر ایسوسی ایشن آف چارٹرڈ سرٹیفائیڈ اکاؤنٹنٹس (اے سی سی اے)کے زیر اہتمام’بڑا مکالمہ – اخلاقیات اور استحکام کے عنوان سے ورچوئل پینل مذاکروں کا ایک سلسلہ منعقد کیا گیا۔ ان مذاکروں کے لیے ایسوسی ایشن کو سی ایف اے سوسائٹی پاکستان، ایچ بی ایل، آئی سی ایم اے پاکستان، پاکستان اسٹاک ایکسچینج لمٹیڈ اور پاکستان بزنس کونسل کے سینٹر برائے ایکسی لینس ان ریسپانسبل بزنس (CERB) کا تعاون بھی حاصل تھا۔اِن مذاکروں میں اخلاقیات اور استحکام کے حوالے سے پانچ انتہائی اہم موضوعات پر گفتگو کی گئی جس کے دوران اس بات کا جائزہ لیا گیا کہ ادارے کس طرح ایک زیادہ منصفانہ اور زیادہ اخلاقیات پر مبنی دنیا تشکیل دے سکتے ہیں اور ماحولی اثرات کم کرنے کے ساتھ اپنے کاروبار کی حکمت عملی میں سماجی ذمہ داری کو مرکزی حیثیت دے سکتے ہیں۔مذاکروں میں جن پانچ موضوعات پر گفتگو کی گئی اْن میں اخلاقیات اور اعتماد –ڈیجیٹل عہد میں انضباطی ہم آہنگی (Regulatory Coherence)، جدید کاورباری اداری تقاضوں اور کسٹمرز کی ضرورتوں کے مابین توازن، جائے روزگار کی اخلاقیات – مستقبل کی افرادی قوت کے لیے اسٹارٹ اپ ایکو سسٹم قوت فراہم کر رہا ہے، عوامی بہتری کے لیے ایک قوت : شمولیتی اقتصادی ترقی میں تیزی اوراے آئی اور ڈیٹا کے عہد میں مستقبل کی مہارتوں کے نئے تصور کی ضرورت : تعلیمی اداروں اور حقیقی دنیا کے درمیان فاصلے کا خاتمہمذاکروں میں شریک کاروباری راہنماؤں نے انتہائی تعمیری گفتگو کی اور آج دنیا کو درپیش اخلاقیات اور ماحول کے حوالے سے درپیش چیلنجوں کا تذکرہ کیا اور ایسے حل پر تبادلہ خیال کیا جن کے ذریعے ادارے جائے روزگار پر اخلاقیات پر مبنی استحکام کا ماحول تخلیق کرنے کے لیے راہیں روشن کر سکتے ہیں۔مذاکروں میں شامل راہنماؤں نے اِس بات پر بھی زور دیا کہ کاروباری ادارے معاشرے کے لیے مثبت قدر کی پیدائش کے ساتھ مالی منافع بھی دے سکتے اور اِسی کے ساتھ سیارے پر ماحولی اعتبار سے ذمہ دارانہ کردار بھی ادا کر سکتے ہیں۔ ان پینل مذاکروں میں ملک کے ممتاز کاروباری راہنما اور استحکام کے لیے راہیں روشن کرنے والے افراد شامل تھے جن کا تعلق ریگولیٹری اداروں مثلاً سیکیوریٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کی کمشنر،سعدیہ خان، اسٹیٹ بینک آف پاکستان کیایگزیکٹو ڈائریکٹر-ایف ایس اینڈ بی ایس جی، ڈاکٹر عنایت حسین، پاکستان کے مسابقتی کمیشن کی رکن، بشریٰ ملک، آڈٹ اْورسائٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر، عثمان حیات اور پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے چیف ایگزیکٹو آفیسر،/منیجنگ ڈائریکٹر، فرخ ایچ خان تھا۔