سیاسی مداخلت نے بیروت دھماکوں کی تحقیقات رکوادی،ہیومن رائٹس واچ

195

بیروت (انٹرنیشنل ڈیسک) انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے انکشاف کیا ہے کہ سیاسی مداخلت نے بیروت دھماکوں کی تحقیقات رکوادی۔ انسانی حقوق کی تنظیم نے اپنے بیان کہا کہ بیروت بندرگاہ پر دھماکے کو 2 ماہ گزر جانے کے باوجود آج ذمے داروں کے خلاف کوئی قانونی کارروائی کئی گئی نہ مقامی سطح پرکوئی غیر جانب دار اور قابل اعتماد تحقیقی کمیشن مقرر کیا جاسکا۔ لبنان میں ہیومن رائٹس واچ کی خاتون نمایندہ آیہ مجذوب نے اپنے بیان میں بیروت دھماکوں کی تحقیقات کے لیے اقوام متحدہ سے کردار ادا کرنے کا مطالبہ کیا۔ بیان میں کہا گیا کہ عالمی ادارے کو دھماکوں کی شفاف تحقیقات کرکے اصل اسباب کا پتا چلانا چاہیے، کیوں کہ یہ صرف لبنان کا نہیں بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک خوفناک انسانی المیہ تھا۔ انسانی حقوق تنظیم نے لبنان کی مدد کے لیے قائم بین الاقوامی گروہ سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ بیروت دھماکوں کی تحقیقات کے لیے آزاد کمیشن کے قیام کو قبول کرنے کے لیے دبائو ڈالے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق لبنان سپورٹ گروپ کا اجلاس آیندہ ہفتے نیویارک میں ہوگا۔ واضح رہے کہ 4اگست کو بیروت کی بندرگاہ کے پر امونیم نائٹریٹ کے گودام میں ہونے والے دھماکوں کے نتیجے میں 200 افراد ہلاک اور 6 ہزار سے زائد زخمی ہوگئے تھے۔ 3 ہزار ٹن دھماکاخیز مواد پھٹنے سے تقریبا آدھا شہر تباہ ہو گیا تھا۔ آیہ مجذوب کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ بیروت بندرگاہ کے المناک حادثات کے بعد ہرایک کی زندگی الٹ گئی ہے اور واقعے کی عالمی سطح پر تحقیقات ضروری ہے۔