شام میں امریکی ڈرون حملہ،17 جنجگو اور 6 شہری جاں بحق

140

دمشق (انٹرنیشنل ڈیسک) جنگ زدہ ملک شام میں امریکا کے ایک ڈرون حملے میں 23 افراد لقمہ اجل بن گئے۔ خبررساں اداروں کے مطابق امریکی ڈرون طیاروں نے جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب ترکی کی سرحد کے قریب صوبہ ادلب کے گاؤںجکارہ پر میزائل داغے۔ یہ حملہ ایک عشائیے پر کیا گیا۔ شامی مبصر برائے انسانی حقوق کے مطابق اس حملے میں 6 شہری بھی جاں بحق ہوئے، جب کہ مرنے والے دیگر افراد کا تعلق ماضی میں القاعدہ سے تعلق رکھنے والی تنظیم سے تھا۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کی ترجمان میجر بیتھ ریورڈن نے ایک بیان میں کہا کہ ادلب میں القاعدہ کے بڑے رہنماؤں کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ ایک اجلاس میں مصروف تھے۔ ترجمان کے مطابق القاعدہ کی شام میں موجود قیادت کے خاتمے سے اس تنظیم کی امریکا، اس کے اتحادیوں اور شہریوں کے خلاف کارروائیوں کی استعداد میں مزید کمی آئے گی۔ البتہ انہوں نے واضح نہیں کیا کہ اس ڈرون حملے میں کتنے افراد مارے گئے۔ اے ایف پی کے مطابق ڈرون حملہ سلقین کے علاقے میں جکارہ نامی گاؤں میں کیا گیا، جو شام میں مزاحمت کاروں کا آخری گڑھ قرار دیے جانے والے صوبے ادلب میں واقع ہے۔ اس علاقے میں ہیئت تحریر الشام کا بھی اثرورسوخ ہے، جو ماضی میں القاعدہ سے وابستہ رہی ہے۔ اس علاقے میں تقریباً 30 لاکھ شہری بھی آباد ہیں، جن میں ادلب کے مقامی باشندوں کے ساتھ شام کے دیگر صوبوں سے نقل مکانی کرنے آنے والے شہری بھی شامل ہیں۔ یہ علاقہ چند ماہ قبل تک شدید روسی بم باری کا شکار رہا ہے، جس میں ہزاروں شہری شہید اور زخمی ہوئے تھے۔ فی الحال اس علاقے میں اسدی فوج اور مزاحمت کاروں میں جنگ بندی ہے۔