آذربائیجان کی درخواست پر فوجی بھیج سکتے ہیں‘ ترکی

87

انقرہ (انٹرنیشنل ڈیسک) ترک نائب صدر فواد اوکتائے نے آذربائیجان کو عسکری مدد کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا ہے کہ اگر باکو حکومت نے درخواست کی تو انقرہ اپنے فوجی بھیجنے میں تاخیر نہیں کرے گا۔ خبر رساں اداروں کے مطابق امریکی نشریاتی ادارے کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے فرانس، روس اور امریکا کی قیادت میں تشکیل دیے گئے منسک گروپ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ ممالک تنازع کا حل نہیں چاہتے بلکہ وہ جانب داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے آرمینیا کی سیاسی اور عسکری طور پر مدد کررہے ہیں۔ دریں اثنا آذربائیجان اور آرمینیا کی جانب سے ایک دوسرے پر جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے الزامات عائد کیے جا رہے ہیں۔ آذربائیجان کی وزارت دفاع نے ٹوئٹر پر جاری بیان میں کہا کہ جمعرات کی صبح آرمینیا کی جانب سے بیلسٹک میزائل داغے گئے ہیں۔ اُدھر آرمینیا کی جانب سے باکو حکومت اور اس کے معاون ترکی پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ آرمینی وزیر اعظم نے اپنے شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ ملک کے دفاع میں مدد کے لیے فوج میں بطور رضاکار اپنا اندراج کرائیں۔