اسرائیل سے تعلقات کا خدشہ سوڈان میں پر تشدد مظاہرے

200
خرطوم: صہیونیت نوازی اور معاشی ابتری کے خلاف احتجاج کی نئی لہر میں اسرائیلی پرچم نذرِآتش کیا جا رہا ہے

خرطوم (انٹرنیشنل ڈیسک) سوڈان میں حکمرانوں کی جانب سے اسرائیل سے تعلقات قائم کرنے کی کوششوں کے خلاف عوام سڑکوں پر نکل آئے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق بدھ منگل کے روز امریکا نے سوڈان کے مرکزی بینک کی جانب سے بم دھماکوںمیں ہلاک ہونے والے امریکیوں کے لواحقین کو ساڑھے 33 کروڑ ڈالر کی ادائیگی کے بعد خرطوم حکومت کو دہشت گردی کے معاون ممالک کی فہرست سے نکالنے کا اعلان کیا تھا۔ تاہم اس موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے اشارے دیے گئے کہ ایک اور ملک اسرائیل سے تعلقات قائم کرنے کے قریب ہے۔ سوڈان کی نیم فوجی اور نیم عوامی حکومت کی جانب سے متنازع پیش رفت پر عوام مشتعل ہوگئے اور انٹرنیٹ پر بڑے پیمانے پر مظاہروں کی مہم کا اعلان کیا گیا۔ عوامی رہنماؤں نے گزشتہ برس ہونے والے احتجاج کی برسی کی مناسبت سے مظاہروں کا اعلان کیا،جس کے نتیجے میں سابق صدر عمر البشیر کو اقتدار سے ہاتھ دھونا پڑے تھے۔ ادھر خرطوم حکومت نے عوام کے احتجاج کو کچلنے کے لیے منصوبہ بندی کرلی اور رات ہی سے خرطوم اور ام درمان میں راستے بند کردیے گئے ۔ اس دوران پلوں اور اہم سرکاری عمارتوں کی طرف جانے والے راستوں پر خصوصی پولیس کے دستے متعین کیے گئے،جب کہ مشین گنوں سے لیس فوجی گاڑیاں علاقوں میں گشت کرتی رہیں۔ حکومت نے خرطوم میں اس مقام تک جانے والی تمام سڑکیں بھی بند کر دیں، جہاں 2019ء میں ہزاروں مظاہرین نے ڈیرے ڈال کر حکومت کا تختہ الٹا تھا۔ صبح ہوتے ہی مظاہرین بڑی تعداد میں سڑکوں پر جمع ہونا شروع ہوگئے اور انہوں نے امریکا کے دباؤ پر اسرائیل سے تعلقات قائم کی کاوشوں کی سخت مذمت کی۔ اس موقع پر مظاہرین نے اسرائیلی پرچم نذر آتش کیا اور فوجی حکومت کے خلاف نعرے بازی کی۔ جب کہ سیکورٹی فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسوگیس کی شیلنگ کی۔ ادھر عالمی میڈیا نے مظاہروں کا غلط رخ پیش کرتے ہوئے احتجاج کو معاشی بحران کا ردعمل قرار دینے کی کوشش کردی۔ احتجاج کے دوران کئی مواقع پر اسرائیلی پرچم نذر آتش کیا گیااور ان کی تصاویر بھی جاری کی گئیں، تاہم عالمی میڈیا نے اپنی خبروں میں اسرائیل کی مخالفت کے بجائے اسے معیشت کی تباہی کے خلاف احتجاج کا رنگ دے دیا۔