مصر یونان اور قبرص کا ترکی مخالف اتحاد مستحکم کرنے پر اتفاق

166
نیکوسیا: ترکی کے خلاف اتحاد کو مزید مستحکم کرنے کے لیے مشرقی بحیرۂ روم کے حلیف ممالک مصر، قبرص اور یونان کے سربراہ جمع ہیں

نیکوسیا (رپورٹ: منیب حسین) مشرقی بحیرۂ روم کے قدرتی وسائل پر خطے کے ممالک میں رسہ کشی جاری ہے۔ ایک طرف ترکی یونان اور قبرص کے قریب اپنی سمندری حدود میں گیس اور تیل کی تلاش میں سرگرداں ہے، تو دوسری طرف مصر، یونان اور یونانی قبرص اسے روکنے کے لیے اپنی مشترکہ کوششوں کو مزید مستحکم کرنے میں مصروف ہیں۔ اسی فکر میں بدھ کے روز مصر کے فوجی صدر عبدالفتاح سیسی، یونانی وزیراعظم کریاکوس میتسوتاکیس اور یونانی قبرص کے صدر نیکوس آناستاسیادیس نے قبرصی دارالحکومت نیکوسیا میں سرجوڑ کر بیٹھے۔ اس سہ فریقی سربراہ اجلاس کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس میں سیسی نے کہا کہ خطے کو عدم استحکام کا شکار کرنے والی اشتعال انگیز سیاست کا جواب دینے کی ضرورت ہے۔ ان کا اشارہ ترکی کی سرگرمیوں کی جانب تھا۔ اس موقع پر سیسی نے تینوں ممالک کے درمیان مشترکہ مفادات اور باہمی دلچسپی کے امور پر اتحاد کو مزید مستحکم بنانے پر زور دیا۔ دوسری جانب برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے مشرقی بحیرہ روم میں کشیدگی کم کرانے کے لیے ترکی اور یونان کے ساتھ مل کر کام کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ برطانوی وزیر اعظم ہاؤس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ جانسن نے یونانی ہم منصب سے ٹیلی فون پر بات کی ہے۔ جانسن کا کہنا تھا کہ ہم تنازعات کو سفارتی طور پر حل کرنے کے عزم کا خیر مقدم کرتے ہیں اور فریقین کے ساتھ کام کرنے کے لیے تیار ہیں۔