مریم مختار قابل فخر بیٹی

63

اپنے وطن سے سچی محبت ایک ایسا جزو ہے جس کا ہر انسان کے اندر ہونا لازم و ملزوم ہے۔ اگر اس وطن سے محبت کرنے والوں کو دیکھا جائے تو وہ ہر وقت اپنے وطن کے لیے کچھ کرنے کا پختہ عزم و ارادہ رکھتے ہیں اور ان کا مقصدِ زندگی اپنے وطنِ عزیز کا نام روشن کرنا ہوتا ہے۔ ایسی ہی ایک روشن مثال ہماری پہلی باپردہ پائلٹ مریم مختیار شہید کی ہے ۔ان کی زندگی کے روشن باب ان کی والدہ محترمہ سے سننے کا موقع ملا اور وہ ایسے واقعات ہیں جو ہمارےوطنِ عزیز کے لیے محبت کے جذبے کو بڑھانے کےلیے کافی ہیں۔ والدہ نے اپنی لختِ جگر دختر کی داستانِ زندگی سنانا شروع کی۔مریم شہر کراچی میں پیدا ہوئیں۔بچپن ہی سے انتہائی قابلِ دید ذہانت کی مالک تھیں۔ فضا میں اڑتے پرندوں کو دیکھتی اور ان کی طرح آسمانوں پر حکمرانی کرنا چاہتی تھی۔بچپن میں جب اپنے والد محترم کرنل مختار کو اپنے نام کا بیج لگائے دیکھا تو اپنے یونیفارم کے دوپٹے پر اپنا نام لکھ ڈالا۔ والدہ نے دیکھا تو کہا یہ کیا کیا؟ اپنا یونیفارم گندا کرلیا۔۔۔ مریم کہنے لگیں کہ مجھے بھی بابا کی طرح اپنے نام کا بیج لگانا ہے۔۔۔ بچپن ہی سے پائلٹ بننے کی خواہش تھی۔ ایک دن اپنے والد سے اپنی خواہش کا اظہار کیا تو والد نے کہا کہ بیٹا یہ کام لڑکیوں کے لیے آسان نہیں ہے۔ انٹر سے فارغ ہوکر والد اور والدہ نے انجینئرنگ میں داخلہ کروا دیا۔ ایک سمسٹر اختتام پذیر ہوا تو والد سے پھر اصرار کیا کہ مجھے پی۔ اے۔ ایف اکیڈمی میں اپلائى کرنے دیں۔ والد نے کہا ابھی چھ ماہ تمہاری پڑھائی کو گزرے ہیں اور اگر وہاں ایڈمیشن نہ ملا تو سال ضائع ہوجائے گا ۔محترم مختیار کہنے لگیں کہ ایک سال ضائع کرنا عمر بھر کے پچھتاوے سے بہتر ہے۔ والد نے ان کى خواہش کے آگے دل ناخواستہ اجازت دے دى۔
مریم مختیار کا عزم اور حوصلہ انتہائی پختہ تھا اور انہوں نے یہ ٹھان لیا تھا کہ اپنے وطن کا نام روشن کرنے کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتی ہیں اور اپنے آپ سے یہ عہد کر لیا تھا کہ اپنے خوابوں کی تکمیل ہر حال میں ممکن بنانی ہے۔ اس کے بعد انہیں انٹرویو کے لیے بلایا گیا انٹرویو دے کر گھر آئی تو کچھ ہی دن بعد خط آگیا اور ایڈمیشن ہو گیا خط موصول ہو گیا تو انتہائی خوشی کا عالم تھا۔ ایک دو دن بعد اکیڈمی روانہ ہوگئى۔اکیڈمی میں انتہائی سخت ماحول سے سابقہ پڑا۔ گھر والوں کو بھی مریم کی کمی بہت زیادہ محسوس ہونے لگی ۔آخر کا تمام مشکل مراحل سے گزر کر 24 ستمبر 2014 کو انہوں نے پاک فضائیہ کے آفیسر کا درجہ حاصل کیا۔
مزید یہ کہ مریم مختار جو کہ پہلی باپردہ شہید پائلٹ تھیں جب ٹریننگ پر گئيں تو ان کے گروپ میں بيشتر لڑکے تھے۔ جہاں انہیں پریکٹس کرنے میں شرم سی محسوس ہوتی تھی۔ چونکہ شرم اللہ نے انسان کے اندر ودیعت کی ہے تو انہوں نے حجاب کرنا شروع کر دیا تاکہ انہیں پریکٹس کرنے میں آسانی ہو۔
جب چھ ماہ بعد چھٹی پر گھر گئیں تو اپنی والدہ سے کہنے لگی کہ میں آپ کو ایک بات بتاؤں گی تو آپ ناراض تو نہیں ہوگی۔ والدہ نے لختِ جگر سے کہا،بولو بیٹا کیا بات ہے؟؟ بیٹی نے جواب دیا کہ ماما!!! میں نے حجاب شروع کردیا ہے۔ والدہ نے بیٹی کو گلے سے لگا لیا کہ یہ تو اچھی بات ہے۔
مریم مختیار ہر وقت ذکر اذکار میں مصروف رہتی۔ اٹھتے بیٹھتے اپنا کام کرتے ہر وقت درود شریف پڑھتی رہتی اور انہیں ایسا لگتا کہ کام جلدی سے ہو گیا۔چھٹیاں ختم ہونے کو آئیں تو پھر واپسی کی تیاری میں لگی رہیں اور واپسی کے لیے ایک دن روانہ ہوگئيں۔
یوں ہی دن گزرتے گئے اور پائلٹ مریم مختیار کا جہاز ایک دن کریش ہو کر زمین پر آگر ا اور مریم مختار شہیداپنی ابدی منزل کی طرف روانہ ہوگئیں۔
والدہ محترمہ انتہائی حوصلے اور صبر سے یہ واقعہ سنا رہی تھیں اور سامعین کی اآنکھیں اشک بار تھیں۔ والدہ نے مزید حیران کن بات یہ بتائى کہ مریم مختار شہید جو کہ آسمان سے کتنی لمبی مسافت طے کر کے زمین پر گری۔مگر پھر باوجود ان سب کے ان کے جسد خاکى بالکل سلامت تھا اور لاش غير متوقع طور پر بالکل صحیح حالت میں موجود تھی۔ ان کی والدہ کے یہ الفاظ کہ یہ مریم کے حجاب اور ذکر اذکار کی وجہ سے ہوا کہ فرشتوں نے میری بیٹی کی لاش کو ہاتھوں میں تھام لیا اور اسے کچھ ہونے نہ دیا۔
یہ واقعہ بہت ہی دل پر اثر کرنے والا تھا۔اس واقعے کو میں نے بہت سے لوگوں کو سنایا جس نے ان کی دل کی دنیا ہی بدل دی۔بلاشبہ مريم اس قوم کے لیے قابل فخر بيٹى ہے اور رہے گى۔