فلسطینی اتھارٹی نے بحرین سے سفیر واپس بلا لیا

149
فلسطین: بحرین کے اسرائیل کو تسلیم کرنے پر شہری شاہ حمد بن عیسیٰ الخلیفہ اور بنیامین نیتن یاہو کی تصویریں چاک اور نذرِآتش کر رہے ہیں

 

رام اللہ (انٹرنیشنل ڈیسک) اسرائیل سے تعلقات قائم کرنے کے اعلان پر فلسطینی اتھارٹی نے احتجاجاً بحرین سے اپنا سفیر واپس بلا لیا۔ فلسطینی اتھارٹی نے بحرین کے اقدام کو مقبوضہ بیت المقدس، مسجد اقصیٰ اور مسئلہ فلسطین سے غداری قرار دیا ہے۔ فلسطینی اتھارٹی کے سیکرٹری جنرل صائب عریقات نے کہا ہے کہ امارات کی طرح بحرین بھی فلسطینی عوام کے حقوق کو ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارتی مہم پر قربان کر رہا ہے۔ امارات کے اسرائیل سے تعلقات قائم کرنے کے اعلان پر بھی فلسطین نے سخت ردِ عمل ظاہر کیا تھا، تاہم عرب لیگ نے امارات کی مذمت سے متعلق فلسطینی قرار داد منظور نہیں کی تھی۔ اسی طرح اسلامی تحریک مزاحمت’’حماس‘‘ نے بھی بحرین کے اعلان کی شدید مذمت کی ہے۔ حماس کا کہنا ہے کہ اسرائیل سے دوستانہ مراسم قائم کرنے والے امارات اور بحرین کے حکمران عالم اسلام اور عرب دنیا میں بے نقاب ہوچکے ہیں۔ ان کی اصلیت پوری دنیا کے سامنے آچکی ہے۔ حماس کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ بحرین کا اسرائیل سے دوستی معاہدہ باطل اور عرب لیگ کے شکست خوردہ شرمناک موقف کا نتیجہ ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ بحرینی حکومت کی طرف سے اسرائیل کے ساتھ جس نام نہاد امن معاہدے کا اعلان کیا گیا ہے، وہ عرب ممالک کے لیے باعث عار ہے۔ یہ معاہدہ عرب اور مسلمان ممالک کے دیرینہ و اصولی موقف سے کھلا انحراف اور اسرائیلی قابض ریاست کے جرائم کو سند جواز فراہم کرنے کی مذموم کوشش ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ بحرین اسرائیل کے ساتھ جس معاہدے کو امن کا نام دیتا ہے وہ خطے میں ایک نئی جنگ کا نقطہ آغاز ثابت ہوسکتا ہے۔ واضح رہے کہ ٹرمپ نے جمعہ کے روز اعلان کیا تھا کہ بحرین اور اسرائیل بھی امن معاہدے پر متفق ہو گئے ہیں۔