امریکا،خفیہ اداروں کا جاسوسی پروگرام غیر قانونی قرار

197

واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکی خفیہ اداروں کی جانب سے عوام کی نگرانی کے پروگرام کو وفاقی عدالت نے غیر قانونی قرار دے دیا۔ اس خفیہ پروگرام کے تحت امریکا کی تمام مواصلاتی کمپنیاں نیشنل سیکورٹی ایجنسی کو اپنا ڈیٹا فراہم کرتی تھیں اور پھر خفیہ ایجنسی ڈیٹا کی تفتیش اور اس کی چھان بین کے لیے اس کا تجزیہ کرتی تھی۔ امریکی کورٹ آف اپیل نے اپنے فیصلے میں کہا کہ یہ پروگرام فارن انٹیلی جنس سرویلنس ایکٹ کے بالکل منافی ہے اور بہت ممکن ہے کہ یہ عمل آئین کے خلاف ہو۔ این ایس اے کی ان خفیہ سرگرمیوں کا کسی کو بھی علم نہیں تھا اور پھر اسی محکمے سے وابستہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ماہر ایڈورڈ اسنوڈن نے اس کو بے نقاب کیا تھا۔ انہوں نے اس کا پردہ فاش کیا اور شاید وہ نتائج سے آگاہ تھے، اسی لیے وہ امریکا چھوڑ کر روس فرار ہو گئے تھے۔ قانون نافذ کرنے والے امریکی اداروں نے اس بات پرا سنوڈن کے خلاف مقدمہ کردیا تھا۔امریکی عدالت کے فیصلے کے رد عمل میں اسنوڈن نے ٹوئٹر پر لکھا کہ 7برس قبل جب اس کی خبر آئی تھی تو سچ بولنے کے لیے مجھ پر مجرمانہ قسم کے مقدمات دائر کیے گئے تھے۔ میں نے کبھی تصور بھی نہیں تھا کہ ہماری عدالتیں این ایس اے کی سرگرمیوں کی مذمت کرتے ہوئے اسے غیر قانونی قرار دیں گی اور اسی فیصلے میں اس کو بے نقاب کرنے کے لیے میری پذیرائی بھی ہو گی، لیکن بہرحال وہ دن آہی گیا۔ بتدا میں جب این ایس اے سے متعلق ایسی چیزوں کا پردہ فاش ہوا تھا، تو خفیہ ادارے نے پہلے تو اس بات سے صریح انکار کردیا تھا کہ اس نے نگرانی کے پروگرام کے تحت امریکی شہریوں سے متعلق معلومات جمع کی ہیں، تاہم بعد میں حکام نے یہ تسلیم کیا کہ اس طرح کی جاسوسی سے ملکی سطح پر انتہا پسندی پر قابو پانے میں کافی مدد ملی ۔