اپوزیشن اور بھارت ایک پیج پر ہیں،وزیراعظم

77
اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان کاروباری شخصیات کے وفد سے گفتگو کررہے ہیں

اسلام آباد( نمائندہ جسارت) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے معاملے پر اپوزیشن اوربھارت ایک پیج پرہیں۔بدھ کو حکومتی اور پارٹی ترجمانوں کے اجلاس سے خطاب میں انہوںنے کہا کہ بھارت کی پوری کوشش ہے کہ پاکستان ایف اے ٹی ایف کی بلیک لسٹ میں شامل ہواور اپوزیشن نے حکومت کو بلیک میل کرنے کے لیے ایف اے ٹی ایف کی قانون سازی روکی۔عمران خان کا کہنا تھا کہ جمہوریت میں اپوزیشن کا ملک کے لیے اہم کردارہوتا ہے، موجودہ اپوزیشن صرف اپنی کرپشن بچانے کے لیے ملک کونقصان پہنچارہی ہے، اپوزیشن ذاتی مفادات کو قومی مفاد پرترجیح دے رہی ہے۔وزیراعظم نے کہاکہ حکومت احتساب کے منشور پر سمجھوتا نہیں کرے گی، انسانی ہمدردی کی بنیاد پر نواز شریف کو بیرون ملک جانے کی اجازت دی۔ قبل ازیں وزیراعظم اور مشیر پارلیمانی امور ڈاکٹر بابر اعوان کی اہم ملاقات ہوئی جس میں آئینی و قانونی اور ملکی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا جبکہ ایف اے ٹی ایف سے متعلق قانون سازی اورپارلیمانی معاملات پر بھی تفصیلی مشاورت کی گئی۔عمران خان نے کہا کہ ایف اے ٹی ایف قوانین بہرصورت منظورکروائیں گے، ایف اے ٹی ایف قانون کی مخالفت قومی اہداف کی مخالفت ہے۔ وزیراعظم نے پیر سے قومی اسمبلی اور سینیٹ کا اجلاس منعقد کرنے کی بھی ہدایت کر دی۔انہوں نے کہا کہ ملکی سلامتی اور عوامی مفاد کی قانون سازی میں تاخیر نہیں ہونی چاہیے، عام آدمی کو ریلیف فراہم کرنے کے ہر ممکن اقدامات کیے جا رہے ہیں، مکمل توجہ معاشی اور سماجی حالات کی بہتری پر مرکوز کر رکھی ہے۔علاوہ ازیں وزیراعظم نے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی کامیاب کاروباری شخصیات کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت کی ترجیح کاروباری سرگرمیوں کا فروغ ہے، کاروبار سے منسلک نوجوانوں کو سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ممکن حد تک مراعات دینے کے علاوہ حائل رکاوٹوں، مشکلات کو دور کرنا اور کاروبار کے لیے موافق فضا میسر کرنا ہے۔وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ کے مطابق وفد نے کاروباری فضا کو مزید بہتر بنانے کے حوالے سے وزیر اعظم کوتجاویز پیش کیں۔