امریکا،ایک اور سیاہ فام پولیس گردی میں ہلاک

92
لاس اینجلس: سیاہ فام ڈیجون کیزی کی ہلاکت پر شہری پولیس اور حکومت کے خلاف سراپا احتجاج ہیں

لاس اینجلس (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکا بھر میں سیاہ فام شہریوں کی پولیس کے ہاتھوں بلاجواز ہلاکت پر شدید مظاہرے جاری ہیں، اس کے باوجود امریکی پولیس کے سفید فام اہل کار اپنا رویہ بدلنے کے بجائے قتل وغارت کا بازار گرم کیے ہوئے ہیں۔ خبررساں اداروں کے مطابق ایک تازہ پیش رفت میں امریکی پولیس نے ایک اور سیاہ فام شہری کو فائرنگ کرکے ہلاک کردیا ہے۔ یہ واقعہ منگل اور بدھ کی درمیانی شب لاس اینجلس میں پیش آیا۔ مقامی پولیس نے ایک بیان میں دعویٰ کیا کہ سائیکل سوار 29 سالہ ڈیجون کیزی کو ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر روکا گیا تھا اور تلاشی کے دوران ان کے پاس بندوق ملی تھی، جو اس نے بحث و تکرار کے دوران پھینک کر پیدل فرار ہونے کی کوشش کی۔پولیس اہل کاروں نے کچھ دور تعاقب کے بعد اسے پکڑ لیا۔ اس دوران ہاتھا پائی ہوئی اور پولیس نے گولی چلادی، جس سے ڈیجون کی موت واقع ہوگئی۔ ملک بھر میں نسل پرستی کے خلاف ہنگاموں کے باوجود صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی ووٹ لینے کے چکر میں امریکا کو تقسیم کرنے کا سامان کررہے ہیں۔ ہنگاموں سے متاثر ریاست وسکانسن کے شہر کینوشا کے دورے کے دوران انہوں نے مظاہرین سے سختی سے پیش آنے والے سیکورٹی اہل کاروں کی تعریف کردی۔ ٹرمپ نے نسل پرستی کے خلاف پُرتشدد مظاہروں کو امریکا میں ’’داخلی دہشت گردی‘‘ قرار دیا اور مظاہرین کے خلاف پولیس کے اقدام کا بھرپور دفاع کیا۔