حافظ نعیم کا کلفٹن اور ڈیفنس کا دورہ ، مکینوں و تاجروں سے ملاقات

102

کراچی(اسٹاف رپورٹر)امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ ڈیفنس ہائوسنگ اتھارٹی اور کنٹونمنٹ بورڈکلفٹن کی بدترین نا اہلی نے شہر کے پوش علاقے ڈیفنس کو بھی ڈبودیا،کلفٹن اور ڈیفنس کے مختلف فیز برسات اور سیوریج کے پانی میں کئی دن سے ڈوبے ہوئے ہیں ، شہر کے مہنگے ترین جدید علاقوں میں سرجانی ٹائون جیسی صورتحال ہے ،بخاری
کمرشل ایریا ، نشاط کمرشل ، راحت کمرشل ، سحر کمرشل ، گولف کورس اور فیز 5کے مکین شدید مشکلات اور پریشانی کا شکار ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے بارشوں کے باعث ڈیفنس کے زیر آب آنے والے مختلف علاقوں کے دورے کے موقع پر کیا۔ اس موقع پرسیکرٹری ضلع جنوبی سفیان دلاور ، پبلک ایڈ کمیٹی کے عمران شاہد ، اسد اعجاز اور دیگر بھی موجود تھے۔ حافظ نعیم الرحمن نے پانی میں گھرے ڈیفنس کے رہائشیوں اور تاجروں سے ملاقات کی ، تاجروں نے مسائل بتاتے ہوئے کہا کہ عمارات کی بیسمنٹ میں پانی جمع ہونے کے باعث ہمارا کروڑں روپے کا نقصان ہوا ہے ، علاقہ مکینوں نے کہا کہ بجلی ، پانی اور گیس نہ ہونے کے باعث شدید مشکلات ہورہی ہیں ،جس کی وجہ سے کھانا پکانے میں دشواری کا سامنا ہے ۔ حافظ نعیم الرحمن نے انہیں یقین دلایا کہ جماعت اسلامی ان کے ساتھ ہے اور وہ خود کو تنہا نہ سمجھیں، سفیان دلاور اور اسد اعجاز کو علاقوں کی بحالی کے لیے ریلیف کی سرگرمیاں شروع کرنے اور عمران شاہد کو علاقے میں بجلی و گیس کی بحالی کے لیے کوشش کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی تاجروں کے نقصان کے ازالے کے لیے ان کی کوششوں میں ساتھ دے گی ۔ حافظ نعیم الرحمن نے مزیدکہا کہ یہ انتہائی افسوس اور شرم کا مقام ہے کہ بارش ہوئے 7روز ہوگئے ہیں لیکن اس مسئلے پر کسی بھی پارٹی نے کوئی آواز بلند کرنے کے بجائے مکمل خاموشی اختیار کی ہوئی ہے ، ان علاقوں کا پورا انفرااسٹرکچر تباہ ہوگیا ، بجلی ،پانی اور نہ ہی گیس ہے ، علاقہ مکینوں کا کوئی پْر سان ِ حال نہیں اور نہ ہی کوئی شنوائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہاں کے رہائشی بارش اور گٹرکے پانی میں رہنے کے باعث بیماریوں میں مبتلاہوسکتے ہیں ، کنٹونمنٹ بورڈکلفٹن اور ڈیفنس ہائوسنگ اتھارٹی رہائشیوں سے مینٹینس کے نام پرہزاروںروپے وصول کرتے ہیں ، لیکن آج مشکل کی گھڑی میں کوئی عملی اقدامات نہیں کیے گئے اور نہ ہی کوئی شکایات سننے والا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ڈی ایچ اے اور سی بی سی جیسی اتھارٹیز بلند بانگ دعوے کرتی ہیں کہ یہ علاقے رہائش کے لیے بہترین ہیں ،ہر طرح کی جدید سہولیات ہیں ،لیکن بارش کے بعد ان کے تمام دعوے دھرے کے دھرے گئے ہیں،صورتحال یہ ہے کہ بارش ختم ہو چکی ہے ، لیکن ابھی تک کئی علاقوں میں گھٹنوں گھٹنوں پانی موجود ہے ۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ پیپلز پارٹی ، ایم کیو ایم اور تحریک انصاف کے نمائندے کراچی سے منتخب ہوئے ، لیکن ان جماعتوں کو عوام کے مسائل سے کوئی سرو کار نہیں ہے،موجودہ حکمران پارٹیوں کی ناکامی کے بعداب قوم کے پاس صرف جماعت اسلامی کی صورت میں ایک ہی آپشن موجود ہے،جماعت اسلامی کی دیانتدار قیادت ہی شہر کے مسائل حل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔