اپوزیشن کا اتحاد؟

211

میاں نواز شریف کی چند روز قبل مولانا فضل الرحمن اور بلاول زرداری سے ٹیلی فونک رابطوں، مولانا فضل الرحمن اور اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کے درمیان ملاقات نیز اگلے چند دنوں میں رہبر کمیٹی کے اجلاس کے بعد اے پی سی کے انعقاد پر اتفاق رائے کے امکان سے بظاہر اپوزیشن جماعتوں میں پائی جانے والی بدگمانیوں اور غلط فہمیوں میں خاتمے کا تاثر مل رہا ہے لیکن اپوزیشن کی دونوں بڑی جماعتوں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی مجبوریوں نیز ان کی ماضی کی خودغرضانہ سیاست کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ کہنا یقینا قبل از وقت ہوگا کہ اپوزیشن جماعتیں واقعتاً حکومت کے خلاف کوئی مشترکہ محاذ بنانے اور مشترکہ پلیٹ فارم سے حکومت کو ٹف ٹائم دینے میں سنجیدہ ہیں اور ان میں اس حوالے سے واقعی اتفاق پیدا ہوگیا ہے۔ دراصل پچھلے دنوں شریف برادران اور مسلم لیگ (ن) کے بارے میں سابق صدر آصف علی زرداری اور پی پی پی کے شریک چیئرمین کے مبینہ ریمارکس نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ یہ دونوں جماعتیں مولانا فضل الرحمن کی کوششوں اور خواہش کے باوجود تادم تحریر ایک دوسرے پر اعتماد کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ یہ کوئی راز نہیں ہے کہ پچھلے دو سال کے دوران موجودہ حکومت کے خلاف احتجاج اور اس حوالے سے کوئی مشترکہ موقف اپنانے کے حوالے سے یہ دونوں جماعتیں مخمصے کا شکار رہی ہیں کیونکہ یہ دونوں جماعتیں ایک دوسرے پر اعتماد کرنے کے لیے نہ پہلے تیار تھیں اور نہ ہی موجودہ حالات میں ان کے درمیان کوئی واضح ہم آہنگی نظر آتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ 80 اور 90 کے عشرے سے قطع نظر ان دونوں بڑی جماعتوں کے درمیان بداعتمادی کی ایک طویل تاریخ ہے لیکن اس بداعتمادی میں اس وقت مزید اضافہ دیکھنے میں آیا جب محترمہ بے نظیر بھٹو اور میاں نواز شریف کے درمیان لندن میں چارٹر آف ڈیموکریسی پر دستخط ہوئے اور اس میثاق کی روشنی میں یہ امید پیدا ہو چلی تھی کہ شاید اب یہ دونوں مرکزی جماعتیں ماضی کی غلطیوں کو نہیں دہرائیں گی اور وطن عزیز میں جمہوریت اور جمہوری اداروں کے استحکام میں ایک دوسرے کا ساتھ دیں گی لیکن تاریخ گواہ ہے کہ یہ دونوں جماعتیں جہاں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے پیں پیش پیش رہی ہیں وہاں اپنے مفادات اور اقتدار کے لیے نہ صرف میثاق جمہوریت کو پس پشت ڈالنے سے گریز نہیں کرتی رہی ہیں بلکہ غیر جمہوری قوتوں کی آلہ کار بن کر ایک دوسرے کی پیٹھ میں خنجر گھوپنے سے بھی دریغ نہیں کرتی رہی ہیں البتہ یہاں ایک حیران امریہ ہے کہ مولانا فضل الرحمن ان دونوں جماعتوںکے ماضی اور کردار سے واقفیت اور گزشتہ سال مولانا کے دھرنے سے ان دونوں جماعتوں کے غیرمتوقع طور پر راہ فرار اختیار کرنے کے باوجود نہ جانے وہ کیوں ان سے امید لگائے ہوئے ہیں حالانکہ اگر وہ خود اکیلے بھی موجودہ حالات میں حکومت کے خلاف باہر نکلنے کا فیصلہ کر لیں تو ان دونوں بڑی جماعتوں کے پاس ان کا ساتھ نہ دینے کا کوئی جواز باقی نہیں بچے گا اور پھر لامحالہ انہیں چاہے مجبوری کے تحت ہی سہی مولانا کے پیچھے آنا پڑے گا کیونکہ جیسا کہ کہا جارہا کہ مولانا چھوٹی قوم پرست جماعتوں کو ساتھ ملا کر اپوزیشن کا ایک متبادل اتحاد بنانے کی تیاری کر رہے ہیں لہٰذا اگر وہ یہ اتحاد بنانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں اور وہ اس پلیٹ فارم سے کوئی احتجاجی تحریک بھی شروع کردیتے ہیں تو اپوزیشن کی ان دونوں بڑی جماعتوں کے پاس اگلے انتخابات میں عوام کے پاس جانا یقینا ایک مشکل امر ہوگا۔
دوسری جانب یہ بھی ایک واضح حقیقت ہے کہ جمعیت (ف) کا بنیادی ووٹ بینک چونکہ صرف خیبر پختون خوا اور بلوچستان تک محدود ہے اس لیے وہ اگر بلوچستان اور خیبر پختون خوا کی قوم پرست جماعتوں یعنی اے این پی، قومی وطن پارٹی، پختون خوا ملی عوامی پارٹی اور نیشنل پارٹی کے ساتھ اپنا اتحاد بنانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو عین ممکن ہے کہ آگے جا کر یہ اتحاد ایک موثر انتخابی اتحاد کا روپ بھی دھار سکتا ہے جس کا ان چھوٹی جماعتوں کے ساتھ ساتھ زیادہ فائدہ جمعیت (ف) کو ہوگا اور ویسے بھی مولانا کے بارے میں یہ مشہور ہے کہ وہ کوئی بھی قدم بلا سوچے سمجھے نہیں اٹھاتے۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی مخاصمت اور بد اعتمادی پر بات کرتے ہوئے میں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ جب ایک جانب پیپلز پارٹی کی قیادت نوجوان بلاول زرداری اور دوسری جانب مسلم لیگ(ن) کی قیادت مریم نواز کے ہاتھوں میں آئی تو سیاسی ماہرین کا خیال تھا کہ شاید اب وہ موقع آگیا ہے جب یہ دونوں بڑی جماعتیں ماضی کی تلخیوں اور بدگمانیوں کو پس پشت ڈال سکتی ہیں لیکن دوسری جانب ہم یہ تلخ حقیقت بھی فراموش نہیں کر سکتے کہ چونکہ یہ دونوں جماعتیں اب بھی مکمل طور پر میاں نواز شریف اور آصف علی زرداری کے کنٹرول میں ہیں اس لیے جب تک یہ دونوں راہنماء نیب کے رحم وکرم پر ہیں تب تک ان کی گرفت سے نہ تو ان کی پارٹیاں چھوٹ سکتی ہیں اور نہ ہی یہ دونوں گھاگ سیاستدان ایک دوسرے پر اعتماد کو ایفورڈ کر سکتے ہیں جس کی نمایاں مثال جہاں چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے انتخابات میں ان دونوں جماعتوں کی تنہا پرواز تھا وہاں چیئرمین سینیٹ کے خلاف تحریک عدم اعتماد اور آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے ایشو پر ان جماعتوں کا سامنے آنے والا مشتبہ کردار بھی ان دونوں جماعتوں کی خود غرضانہ اور مفاد پرستانہ سیاست کا عملی ثبوت ہے لہٰذا اس صورتحال کو مد نظر رکھتے ہوئے اپوزیشن جماعتوں بالخصوص پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ(ن) کا حکومت کے خلاف کسی ممکنہ بڑے احتجاجی اتحاد میں شامل ہونا بعید از قیاس نظر آتا ہے۔