جرمنی کا ترکی اور یونان کو فوجی تصادم سے بچنے کا مشورہ

98
ایتھنز: جرمن وزیر خارجہ ہائیکو ماس اپنے ہم منصب سے ملاقات کے بعد پریس کانفرنس کررہے ہیں

برلن (انٹرنیشنل ڈیسک) جرمن وزیر خارجہ ہائیکو ماس نے ترکی اور یونان سے بحیرۂ روم میں گیس کی تلاش کے تنازع کو حل کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کسی بھی ممکنہ فوجی تصادم سے گریز کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ خبر رساں اداروں کے مطابق دونوںممالک کی جانب سے ایک دوسرے کے خلاف سخت بیانات دینے کے بعد ایک ہی علاقے میں جنگی مشقوں کا اعلان بھی کردیا گیا ہے۔ جس کے بعد جرمن وزیر خارجہ دونوں ممالک کے ہنگامی دورے پر روانہ ہوئے۔ یونانی دارالحکومت ایتھنز میں اپنے ہم منصب کے ساتھ ملاقات کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے ہائیکو ماس نے کہا کہ موجودہ کشیدہ صورت حال کے دوران ایک چھوٹی سی چنگاری بھی بہت بڑا بحران پیدا کر سکتی ہے۔ نیٹو کے دونوں رکن ممالک کے درمیان لڑائی کسی کے بھی مفاد میں نہیں ہو سکتی۔ بعد ازاں جرمن وزیر خارجہ انقرہ پہنچے، جہاں ترک وزیر خارجہ نے جرمن ہم منصب کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ مشرقی بحیرہ روم میں کشیدگی کا باعث یونان اور جنوبی قبرص ہیں۔ دیگر ممالک یونان کو شہ دینے سے باز رہیں، بصورت دیگر یہ ان کے گلے کا کانٹا بن سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یونان نے اگر کوئی پاگل پن دکھایا تو ہم اس کا جواب دیں گے۔ علاوہ ازیں صدر رجب طیب اِردوان نے کہا ہے کہ ترکی بحیرہ روم، بحیرہ ایجیئن اور بحیرہ اسود میں اپنے مفادات کی خاطر جو ممکن ہو سکا ضرور کرے گا۔ قانونی طور پر اپنا حق حاصل کرنے کے معاملے میں کوئی سمجھوتا نہیں کریں گے۔