بیلا روس صدر کیخلاف احتجاج،لاکھوں مظاہرین سڑکوں پر

138
منسک: بیلاروس میں صدر کے خلاف لاکھوں افراد دارالحکومت میں احتجاج کررہے ہیں‘ چھوٹی تصاویر میں مظاہرین نے الیگزینڈر کو تسلیم کرنے سے انکار پر مبنی کتبے اٹھا رکھے ہیں

منسک (انٹرنیشنل ڈیسک) بیلاروس میں کئی روز سے جاری مظاہروں کے دوران شرکا کی تعداد ایک لاکھ سے تجاوز کر گئی۔ خبررساں اداروں کے مطابق دارالحکومت میں مظاہرین نے آزادی مارچ کے دوران صدر الیگزینڈ لاکاشینکو سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق مشرقی یورپی ملک میں صدر لوکاشینکو کے 26 سالہ اقتدار کو اب تک کی سب سے بڑی عوامی مزاحمت کا سامنا ہے۔ 9اگست کے صدارتی انتخابات میں مبینہ حکومتی دھاندلی کے خلاف لوگوں کا غم و غصہ کم ہونے کی بجائے مسلسل بڑھ رہا ہے۔ ملک بھر میں روزانہ کے مظاہروں کے بعد اب ہڑتالوں کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔ گزشتہ روز دیگر حکومتی اداروں کے ساتھ سرکاری ٹی وی چینل کے ملازمین نے بھی واک آؤٹ کیا،جس کے نتیجے میں صبح کی نشریات کے دوران سیٹ پر خالی کرسیاں دکھائی گئیں۔ قبل ازیں اتوار کے روز بھی ہزار وں لوگوں نے دارالحکومت کی سڑکوں پر ریلی نکالی،جسے تاریخی مظاہرہ قرار دیا گیا۔ مظاہرین نے سفید و سرخ پٹیوں والے پرچم اور غبارے اٹھا رکھے تھے۔ ادھر صدر الیگزینڈر نے عندیہ دیا کہ وہ آئینی اصلاحات کے لیے تیار ہیں، لیکن کسی کے دباؤ میں آ کر ایسا نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی اکثریت اب بھی ان کے ساتھ ہے اس لیے دوبارہ انتخابات کرانے کی ضرورت نہیں۔