فکری لغزشوں کا اعتراف کرنا ضروری ہے

74

عمران احمد سلفی
پاکستان کو قائم ہوئے ۷۳ سال ہو گئے ہیں۔ ہر سال کی طرح اس سال بھی ۱۴ اگست نہایت اہتمام کے ساتھ منایا جا رہا ہے۔ ۱۴ اگست اس بھولے بسر ے ماضی کو یاد کرنے کا بہانہ ہے جسے ہم فراموش کئے ہوئے ہیں۔
مسلمانان برصغیر کو تو بس ایک یہی خواب دکھاگیا تھا کہ قیام پاکستان کے بعد مملکت خداداد میں اسلام کا عالمگیر نظام حیات ہر طرف نا فذا لعمل نظر آئے گا اور ہم مسلمان انگریز اور ہندوئوں کی غلامی سے آزاد ہوجائیں گے۔ لیکن آج۷۳ سال گزر جانے کے باوجود اب بھی پاکستانی قوم عملاً انگریز کی غلام ہے۔ اسلامیان برصغیر نے پاکستان بڑی جدوجہد اور لاکھوں جانوں کی قربانیوں کے بعد حاصل کیا تھا۔ اس جدوجہد میں نوجوانوں نے اپنی شہہ رگوں کا گرم لہو پیش کیا خمیدہ کمر بوڑھوں نے اپنے بڑھاپے کے سہاروں کو اسلام کی آن پر قربان کر دیا اور عفت مآ ب دختر ان اسلام کی عصمتوں پر ڈاکے ڈالے گئے ۔
قربانیوں کی لا زوال داستانیں رقم کرنے کے بعد بالآ خر ۱۴ اگست ۱۹۴۷ء کو انگریزوں سے آزادی نصیب ہوئی اور پاکستان وجود میں آیا۔ لیکن بد قسمتی سے قوم کی روایتی فکری لغزشوں اور نا اہلیوں نے آزدای کے اس دن کو پہلے سے زیادہ بد ترین غلامی کا نقطہ آغاز بنا دیا۔
پاکستان جس نظرئیے کی بنیاد پر معرض وجود میں آیا اسے بالکل فراموش کیا جا چکا ہے۔ آج پاکستان کے مسلمان ایسی نادیدہ غلامی میںجکڑے جا چکے ہیں جس کا انہیںاحساس بھی نہیں ہے ۔ جس طرح کسی بدعت کے کرنے والے کو توبہ کی توفیق نہیں ہوتی چونکہ اسکے نزدیک یہ عمل گناہ نہیں بلکہ کار ثواب ہو تا ہے بعینہ اس طرح غیر محسوس انداز میں غلامی کرنے والوں میں اس لعنت سے نجات حاصل کرنے کی جدوجہد کا جذبہ پیدا نہیں ہو تا کیونکہ انکے نزدیک ہم غلام نہیں بلکہ آزاد ہیں۔ بانیان پاکستان کی وفات کے بعد ملک کی باگ ڈور جن ہاتھوں میں آئی ان نا عاقبت اندیش اور کرپٹ قیادتوں نے پاکستان کے وسائل کو جی بھر کے لوٹنے کے ساتھ ساتھ نظریہ ٔ پاکستان کی بھی دھجیاں بکھیر کر رکھ دیں۔ اقتدار کی مسند پر براجمان ہونے والوں نے اگر کوئی کام کیا تو صرف ملک میں نفاذ اسلام کی راہ میں رکاوٹیں ہی کھڑی کیں۔ حالانکہ پاکستان دنیا کی واحد ریاست تھی جو خالصتاً ایک نظریہ یعنی اسلام کے نام پر قائم کی گئی تھی۔
اسلام سے انحراف کی سزا قیام پاکستان کے ۲۴ سال بعد ہی اس انداز میں ملی کہ ملک دولخت ہو گیا اور ہمارا مشرقی بازو جارحیت کے ذریعے علیحدہ کر دیا اور وہ بنگلہ دیش بن گیا۔ سقوط ڈھاکہ کے باوجود نئی سازشیں شروع ہونے لگیں اور مشرقی پاکستان کو بھول جانے کو کہا گیا تاکہ ہم بدلہ لینے کی بجائے ہندوئوں کی غلامی کو قبول کر لیں۔ کشمیر کا مسئلہ جو قیام پاکستان سے چلا آرہا ہے۔ ۷۰ برس گزرنے کے باوجود اسکا کوئی حل نہ نکالا گیا بلکہ مختلف حکومتیں اس مسئلے کو اپنے اپنے سیاسی مفادات کے لیے استعمال کرتی رہیں۔ کسی نے بھی اسکے حل کے لیے سنجیدہ کوششیں نہیں کیں۔ حکومتوں کی نا اہلی اور غیر مخلصانہ دلچسپی کی بناء پر یہ مسئلہ مزید سنگین صورت اختیار کر گیا ہے۔ غیر ملکی آقائوں کی خوشنودی حاصل کرنا ہی زیادہ بگاڑ کا سبب ہے۔ آج ۷۳ سال گزر جانے کے باوجود ہمارے ملک میں خواندگی کی شرح محض اٹھائیس فیصد ہے۔ انگریز ملک چھوڑ گئے لیکن انکا تیار کردہ نظام جوں کا توں موجود ہے کوئی بھی شعبہ ہو معمولی ترامیم کے ساتھ محض چہرے بدل گئے ہیں۔ انگریز کے چھوڑے ہوئے نظام تعلیم میں تو ابتک بھی کوئی مثبت تبدیلی نہیں آئی بلکہ انگریز کے دور میں تعلیمی نظام کا ایک معیار تھا۔ اس وقت کا میٹرک پاس بھی آج کے بی اے، ایم اے کرنے والے سے زیادہ قابلیت رکھتا تھا لیکن موجودہ تعلیمی نظام دینی اعتبار سے بالکل خالی تو ہے ہی مگر عصری اعتبار سے بھی جو ہر قابل پیدا کرنے میں ناکام ہے۔
تقسیم برصغیر کے وقت پاکستان کے حصے میں جو علاقے آئے وہ صنعتی لحاظ سے بالکل پسماندہ تھے اکا د کا ملیں اور چھوٹے کارخانے تھے۔ زیادہ تر معیشت کا انحصار زراعت پر تھا۔ اگر ابتدا سے حکمران زیادہ توجہ ملکی استحکام کی طرف دیتے تو یقینی طور پر صنعتی ترقی کی راہ ہموار کر تے کیونکہ جدید دور میں کوئی بھی ملک محض زراعت کے بل پر معاشی خوشحالی نہیں خریدسکتا۔ انگریز کا چھوڑا ہوا سیاسی نظام بگڑی ہوئی شکل میں آج بھی رائج ہے۔ کوئی نہیں سوچتا کہ آخر اسلام کے نام پر قائم ہونے والے ملک پر مغربی نظام کس طرح لاگو کیا جا سکتا ہے؟ قیام پاکستان سے لے کر اب تک ملک پر وڈیروںجاگیرداروں اور سرمایہ داروں کا قبضہ ہے یہ وہ لوگ ہیں جنکے آبائوو اجداد ذاتی مفادات کے لیے انگریز کے ہاتھوں استعمال ہو تے رہے اور اپنے آقائوں سے وفاداریوں کے عوض بڑی بڑی جاگیریں وصول کر تے رہے اور اب تو ہمارے حکمران بیورو کریٹ بن چکے ہیں اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ غیر ملکی کہتے ہیں کہ پاکستان کی حکومت سیاستدان نہیں بلکہ بیورو کریسی چلاتی ہے ۔ ریاست کے اہم ترین ستون بد کر دار اور کرپٹ ہو چکے ہیں ۔ بیورو کریسی سیاستدان صحافت اور دیگر مقتدر طبقات ایک طرف کرپٹ تو دوسری طرف بالا دست قوتوں کے ہاتھوں کھلونا بن چکے ہیں۔ معاشرہ کے 75% فیصد طبقات مکمل طورپر انگریزوں کے رنگ میں رنگے ہوئے ہیں۔ یہاں تک کہ رہنے سہنے کھانے پینے پہنے اوڑھنے لکھنے لکھانے غرض ہر کام میں مغربی طریقے استعمال کرنے پر فخر کیا جا تا ہے۔ احساس کمتری کا یہ عالم ہے کہ اسلامی طرز معاشرت کو فرسودہ قرار دیا جا تا ہے۔
ذرائع ابلاغ کے ذریعہ مغرب کی ذہنی غلامی کی سازش جو کامیابی سے پایہ تکمیل کو پہنچ رہی ہے ۔ وہ کسی ذی شعور کی نظر سے اوجھل نہیں ہے۔ ان ذرائع سے امت مسلمہ کے لیے مہلک نظریات کھلے عام فحاشی عریانی کے ذریعے پھیلائے جا رہے ہیں۔ باطل قوتیں ذرائع ابلاغ کے ذریعے ہمار ے نوجوانوں کے اذہان کو مسخ کررہی ہیں۔ انکی فکری تخلیقی صلاحیتیں چھینی جا رہی ہیں۔ انہیں بے مقصد زندگی کا دلدادہ بنایا جا رہا ہے۔
فکری نظریاتی اخلاقی بگاڑ پورے معاشرے میں رگ و پے کی طرح سرایت کر چکا ہے۔ نئی نسل میں دین سے بیزاری بھی رہنی غلامی کا مظہر ہے۔ اس وقت بد عنوانیاں ، رشوت ، سفارش، جھوٹ، بددیانتی، دھوکے بازی معمولی باتیں ہیں۔ آخر ہمارا ملک کس طرح اب تک قائم ہے چونکہ قوموں کے زندہ رہنے والے اوصاف ہمارے اندر مفقود ہو چکے ہیں یہ تو صرف اﷲ تعالیٰ کا کرم ہے اور نہ ہماری حالت تو ایسی ہے
یہ نصف صدی سے زیادہ کا قصہ ہے دو چار برس کی بات نہیں اس کے باوجود ہم اسلامی جمہوریہ پاکستان ہیں۔ ہم نے کرپشن میں عالمی ریکارڈ قائم کر دئیے ہیں اسکے باوجود ہم زندہ قوم ہیں پائندہ قوم ہیں۔ ہم نے لسانی نسلی اور علاقائی بنیادوں پر جماعتیں قائم کیں اور نفرتوں کے بیج بوئے ہم اسلامی اخوت کے دعویدار اپنے بھائیوں کو ماررہے ہیں۔اسلام کے نام پر حاصل کردہ ملک میں ہم ۷۰ برس سے اسلامی احکامات کا مذاق اڑا رہے ہیں۔ اﷲ کے قوانین کی بجائے انگریزی قوانین نافذ ہیں۔ اسلامی نظام معیشت کی بجائے ہم سودی استحصالی نظام کو گلے لگائے ہوئے ہیں۔ حکمران عوام کی خدمت کے بجائے عوام کو لوٹنے میں ایک دوسرے سے آگے جانے میں مصروف رہتے ہیں۔ ہر شعبہ ٔ حیات میں قرآنی احکامات کو پس پشت ڈال دیا گیا ہے جسکا نتیجہ یہ ہے کہ آج ہم ایک بھکاری قوم بن کر رہ گئے ہیں ہمارا اپنا کوئی نظام ہی نہیں ہے ہر معاملہ میں دوسروں کی نقالی کر تے ہیں۔ ہم خود سوچیں ان حالات میں ہمارا آزادی کا دعویٰ کہاں تک سچا ہے۔ فکری نظریاتی سیاسی معاشی ثقافتی غلامی کی نادیدہ موٹی موٹی زنجیروں میں جکڑی ہوئی قوم کیونکر جشن آزاد ی منائے؟ہم ہر سال سیلاب سے دوچار ہوتے ہیں۔ ہزاروں لوگ بے گھر ہوجاتے ہیں بے پناہ جانی اور مالی نقصان ہوتا ہے۔