مٹی کے بغیر کاشتکاری کرنے کا سائنسی طریقہ متعارف

555

21 ویں صدی میں سائنس و ٹکنالوجی جس مقام پر پہنچ گئی ہے اس کا تصور آج سے 100 یا 150 سال پہلے تک بھی نہیں کیا جاسکتا تھا۔ آج کی سائنس نے کلوننگ کے ذریعے جانداروں کی تخلیق کو بھی یقینی بنادیا ہے جبکہ اب مٹی کے بغیر اناج و پیڑ پودوں کی کاشتکاری کے منصوبے پر کام کیا جارہا ہے۔

بغیر مٹی کے سبزیاں اور جڑی بوٹیاں حاصل کرنے کا طریقہ ہائیڈرو پونیک کہلاتا ہے جس میں‌ افزائش کے لیے مٹی کی ضرورت نہیں‌ ہوتی۔

زمین پر ہر جگہ کاشتکاری کے لائک مٹی موجود نہیں اور یہی وجہ ہے کہ سائنس دان ایسی کھوج میں لگے ہیں کہ بغیر مٹی کے بھی سبزیاں اگا سکیں اور غذائی قلت پر قابو پاسکیں۔ یورپ میں خاص طور پر ہالینڈ میں ایک عرصے سے بغیر مٹی کے سبزیاں اگانے پر کام کیا جا رہا ہے۔

اس طرز کے تجربات یورپ اور دیگر ترقی یافتہ ممالک میں کیے جا رہے ہیں جس سے ٹماٹر، کھیرے، بھنڈی، لوکی اور دیگر عام سبزیاں اگائی جاسکیں گی اور اس میں‌ زمین یا مٹی کے بجائے ناریل کے بورے، فوم اور پانی میں موجود ضروری اجزا سے افزائش اور نشوونما میں مدد لی جائے گی۔

حال ہی میں پاکستان میں بھی اس قسم کی کوشش کی جارہی ہے جس کیلئے پاکستان کے زرعی یونیورسٹی کے ماہرین نے روات کے قریب پہلے مقامی ہائیڈرو پونیک پلانٹ پر مٹی کے بغیر سبزیاں اگانے کا کامیاب تجربہ کرلیا ہے۔ اس طریقے  پاکستان میں یہ زرعی پلانٹ ہالینڈ کی مدد سے لگایا گیا ہے۔