دنیا کی 4 بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے سربراہ امریکی کانگریس میں پیش

250
فیس بک، گوگل، ایپل اور ایمزون کے سربراہوں کی فائل فوٹو

واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) دنیا کی 4 بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں ایمزون، فیس بک، ایپل اور گوگل کے چیف ایگزیکٹو امریکی کانگریس کے انتہائی بااختیار اینٹی ٹرسٹ سب کمیٹی یعنی عدم اعتماد کی ذیلی کمیٹی کے سامنے پیش ہوگئے۔ یہ پیشی بدھ کی دوپہر کانگریس کی عمارت میں ہوئی۔ کارروائی کے آغاز پر کمیٹی کے سربراہ ڈیوڈ سیسیلن نے کہا کہ آج کی اس پیشی کا مقصد ان چاروں کمپنیوں کی بالادستی جانچنا ہے۔ ان کا مزید کہا تھا کہ کورونا بحران کے باوجود یہ کمپنیاں ہماری معیشت میں دیو بنی کھڑی ہیں، جب کہ ساتھ ہی ماضی کے مقابلے میں زیادہ مضبوط اور طاقت ور بن کر ابھری ہیں۔ چاروں کی پیشی کا مقصد بھی ان الزامات اور خدشات کی وضاحت دینا ہے۔ ان ٹیکنالوجی کمپنیوں کے چیف ایگزیکٹو نے بتایا کہ انہیں ایک دوسرے اور دیگر حریفوں سے کتنی سخت مسابقت کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ ایمزون کے جیف بیزوس، فیس بک کے مارک زکر برگ، گوگل کے سندر پچائی اور ایپل کے ٹم کک کی طرف سے منگل کے روز جاری کردہ بیانات سے پہلے یہ اندازہ ہوگیا تھا کہ چاروں چیف ایگزیکٹو یہ بتانے کی کوشش کریں گے کہ اپنے حریفوں کی وجہ سے، جو انہیں ماضی کا قصہ بناکرسکتے ہیں، ان کے کندھوں پر کس قدر بوجھ ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے،جب امریکی صدارتی انتخابات میں 100 روز سے بھی کم وقت باقی ہے۔ امریکی ارکان کانگریس اس بات کا پتا لگانے کی کوشش کررہے ہیں کہ بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں کس طرح چھوٹے حریفوں کو نقصان پہنچارہی ہیں، اور ان کا تجارتی ڈیٹا جمع کرنے کا طریقہ کار کتنا درست ہے۔