ملائیشیا کے سابق وزیراعظم کو کرپشن پر سزائے قید

152
کوالالمپور: عدالت میں پیشی کے موقع پر صحافی نجیب عبدالرزاق سے سوال کررہا ہے

کوالالمپور (انٹرنیشنل ڈیسک) ملائیشیا کے سابق وزیراعظم نجیب عبدالرزاق پر لاکھوں ڈالر کی کرپشن کے الزامات ثابت ہونے پر عدالت نے انہیں 12 سال قید کی سزا سنادی۔ غیرملکی خبررساں اداروں کے مطابق سابق وزیراعظم نجیب عبدالرزاق کو منگل کے روز کوالالمپور کی ہائیکورٹ میں پیش کیا گیا ۔ عدالت نے کرپشن ثابت ہونے پر انہیں 12 سال قید کی سزا کا اعلان کیا ۔ رپورٹ کے مطابق عدالت نے میگا کرپشن اسکینڈل میں نجیب عبدالرزاق کے خلاف ایک مقدمے میں تمام الزامات کو درست قرار دے دیا۔ عدالت نے کہا کہ استغاثہ اپنا مقدمہ ثابت کرنے میں کامیاب رہی ہے اور وکیل صفائی اپنا موقف ثابت نہیں کر سکے۔ مقدمے میں نجیب عبدالرزاق پر الزام تھا کہ انہوں نے ملکی ترقیاتی فنڈ ’’ون ایم ڈی بی‘‘ کے سابق منصوبے ’’ایس آر سی انٹرنیشنل‘‘ کے ذریعے تقریباً ایک کروڑ ڈالر کی رقم اپنے ذاتی اکاؤنٹ میں منتقل کرائی۔ عدالت کا کہنا تھا کہ نجیب عبدالرزاق سرکاری فنڈز میں کرپشن کرنے کے مرتکب ہوئے ہیں۔ عدالت نے یہ فیصلہ ان 42 الزامات کے تحت پہلے الزامات کے سلسلے میں سنایا ہے، جو سابق وزیراعظم کے خلاف 5مختلف مقدمات کے تحت زیر سماعت ہیں۔ نجیب عبدالرزاق پر سرکاری ترقیاتی فنڈ سے پیسوں کے غبن کے علاوہ اختیارات کا غلط استعمال کرنے اورمنی لانڈرنگ جیسے الزاما ت عائد کیے گئے تھے۔ ان کی قانونی مصیبت کا ابھی خاتمہ نہیں ہوا ہے۔ اس سے قبل تحقیقاتی ادارے نے سابق وزیر اعظم کے گھر اور دفاتر میں چھاپے مارے تھے۔ چھاپوں کے دوران 27کروڑ 30 ڈالر برآمد کیے گئے تھے، جن میں 12 ہزار سے زائد زیورات، 423 مہنگی گھڑیاں، مشہور برانڈ کے 234 چشمے اور 567 ہینڈ بیگ شامل تھے، جو سابق وزیر اعظم اور ان کی اہلیہ روسما منصور کے زیر استعمال تھے۔ واضح رہے کہ ملائیشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد نے ذمے داریاں سنبھالتے ہی نجیب عبدالرزاق پر سرکاری خزانے سے 4 ارب ڈالر کی ہیرا پھیری کے الزام کی تحقیقات کا حکم دیا تھا۔