خواتین کا پردہ اور جدید سائنس

511

امریکا کی ایک مشہور ماہر بشریات جن کا نام ہیلن فشر، ہے پچھلے 30 سالوں سے رٹجر یونیورسٹی امریکا ( Rutger University, America) میں پروفیسر ہیں اور انسانی رویے ( Human Behavior ) پر ریسرچ کر رہی ہیں اور اسی موضوع پر کئی کتاب بھی لکھ چکی ہیں۔
انہوں نے اپنے ریسرچ سے بتایا کہ انسان کے جسم میں کچھ ہارمونز (hormones) ہوتے ہیں جیسے(Testosterone) اور (Estrogens ) اور دماغ میں کچھ نیوروٹرانسمیٹر ( neurotransmitters ) ہوتے ہیں جیسے (Dopamine) اور (Serotonin)۔ یہ عورتوں کے مقابلے میں مردوں میں زیادہ مقدار میں پائے جاتے ہیں جو کسی بھی شخص کے رویے کو براہ راست طور پر متاثر کرتے ہیں۔
ہیلن فشر کہتی ہیں کہ جب بھی کسی مرد کی نظر کسی عورت پر پڑتی ہے تو یہ ہارمونز اور نیوروٹرانسمیٹ متحرک ہو جاتے ہیں جسکے نتیجے میں مرد کسی عورت کو دیکھ کر اشتعال انگیز ہو جاتا ہے اور ایسا تب ہوتا ہے جب یا تو عورت بہت خوبصورت ہو یا اسکے جسم کے ( ابھار) نشیب و فراز دکھائی دیتے ہوں اور ایسا صرف انسان میں ہی نہیں بلکہ پرندوں اور جانوروں میں بھی ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر جب ہاتھى پاگل ہو جاتا ہے تو وہ تباہی مچانے لگتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ ہاتھى پاگل نہیں ہوتا ہے بلکہ وہ ایسا اس لئے کرتا ہے کہ اس میں (Testosterone) ہارمون کی مقدار بہت بڑھ جاتی ہے ۔
اسی طرح ایک شیر دوسرے شیروں کے بچوں کو مار دیتا ہے تاکہ شیرنی اسکی طرف ملن (Mating) کے لئے متوجہ ہو جائے- اور ہر طرح کے نر جانور مادہ کو پانے کے لئے ایک دوسرے سے مقابلہ کرتے ہیں جبکہ دوسری طرف پرندوں کو اگر دیکھا جائے تو وہ گانا گاتے ہیں مطلب الگ الگ طرح کی آوازیں نکالتے ہیں تاکہ وہ مادا پرندوں کو متوجہ کر سکیں۔
یہی وجہ ہے کہ اسلام نے انسانوں کو اس حیوانیت سے بچانے کیلئے خواتین کو پردے کا حکم دیا۔ اگر مردوں کو عورتوں کی طرف متوجہ ہونے سے روکنا ہے تو عورتیں اپنی خوبصورتی اور جسم کو پردے میں رکھیں اور مرد کو نظریں نیچے رکھنے کا حکم دیا۔
اس کے علاوہ پردے کے فوائد میں ایک یہ بھی ہے کہ سورج کی تیز گرم شعائیں چہرے پر نہیں پڑیں گی اور چہرے کی رنگت دھوپ وغیرہ سے جل کر خراب نہیں ہوگی۔ دھول، مٹی وغیرہ کے ذرّات جو چہرے کی جلد خراب کرتے ہیں ان سے حفاظت ہو جائے گی۔ اسلام میں تنگ لباس کو بھی سختی سے منع کیا گیا ہے۔ تنگ لباس پہننے کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ لوکل مسلز مردہ اور کمزور ہو جاتے ہیں کیونکہ باہر کے مسلز میں جیسے حرکت ہوتی ہے ایسے ہی اندرونی باریک مسلز میں بھی حرکت ہوتی ہے۔ تنگ لباس کی وجہ سے باہر کے مسلز حرکت نہیں کریں گے تو اندرونی مسلز کی حرکت بھی نہیں ہوپائے گی۔ تو جب تک تنگ لباس پہنا جائے گا، ان باریک مسلز کو نقصان پہنچتا رہے گا، ان کی حرکات کم ہوجاتی ہیں۔ ذہنی دباو، اعصابی تناو، اور کھنچاو، جیسے امراض پیدا ہو تے ہیں۔