مہمانداری ‬

289

بنت شیروانی

کیا تم یہ کہہ رہی ہو کہ کوئ بھی تمھیں سڑک پر جاتا انسان نظر آئے گا اور تم اسے اپنے گھر لے آؤ گی؟؟؟؟؟

فائزہ نے انتہائی حیران ہوتے ہوئےمدیحہ سے کہا۔

مدیحہ ،فائزہ اور شمائلہ تین دوست تھیں۔اسکول میں ان کی دوستی شروع ہوئ تھی جو کہ کالج تک جاری رہی اور پھر شمائلہ کا میڈیکل کالج میں داخلہ ہونے کی بنا اس کی دوستی تھوڑی کم ہوگئی تھی۔لیکن مدیحہ اور فائزہ کا ایک ہی یونیورسٹی میں داخلہ ہوا تھا لہٰذا ان دونوں کی دوستی زیادہ برقرار تھی لیکن شمائلہ بھی تہوارکے موقع پر ان سے مل لیتی تھی۔

فائزہ کی شادی یونیورسٹی کے دوسرے سال ہی ہوگئیتھی۔جبکہ مدیحہ کی اس کے چھ ماہ بعد اور مدیحہ شادی کے بعد سعودی عرب کے شہر جدہ چلی گئیتھی۔جبکہ شمائلہ کی ہاؤس جاب مکمل ہونے کے بعد ہوئی تھی۔

شادی کے بعد تینوں کی ذاتی مصروفیات مزید بڑھ گئیں تھیں اس لیے تینوں کا بہت کم ہی رابطہ ہوتا تھا۔

اور آج تقریبا دس سال بعد تینوں کافی دیر سے باتیں کرنے میں مصروف تھیں۔کہ مدیحہ نے کہا جب سے یہ کورونا شروع ہوا ہے زندگی لگتا ہے رُک سی گئ ہے۔یار پہلے تو ہر جمعہ کو ہمارے گھر مہمانداری ہوتی تھی۔عمرہ والے اتنے مہمان آتے تھے کہ کبھی میں چڑ جاتی تھی کہ اتنے لوگ عمرہ پر کیوں آتے ہیں؟

ہر جمعہ کو میں پلاؤ،بریانی تو کبھی مٹر چاول بنایا کرتی کہ روٹی نہ بنانی پڑے اور گھر آئے مہمان گھر کا پکا بھی کھا لیں۔تو ساتھ میں میٹھی پوری،اندرسہ ،بسکٹ بھی بنا کر رکھتی کہ یہ آنے والوں کے ساتھ کرتی کہ جب وہ عبادت کرتے تھک جائیں تو یہ سب کھا لیں۔پھر گھر میں اضافی برتن تو بستر بھی رکھتی ۔کہ آئے مہمانوں کے استعمال میں لاسکیں۔اور تم دونوں جانتی ہو کہ ہمارے پاس کوئی کام والی تو ہوتی نہیں اس لیےبرتن دھو دھو کر بھی تھک جاتی تھی اورمعلوم ہے کہ لیکن یار جب یہ عمرہ بند ہوا تو میں نے سُکھ کا سانس لیا تھا کہ چلو اب تو نہ کوئی آنے والا ہوگا نہ جانے والا۔میں سکون سے رہوں گی کہ یہ آنے والے سوالات بھی بہت کرتے ہیں۔لیکن اب میری یہ کیفیت ہے کہ دل کرتا ہے کہ کسی بھی سڑک پر چلتے انسان کو گھر پر لے آؤں اور کہوں کہ تم میرے گھر چلو ،میرے مہمان بن جاؤ میں تمھیں دال چاول پکا کر کھلاؤں گی یا کہو گے تو بریانی بھی بنا دوں گی۔لیکن یہ بنا مہمانوں کے گھر کاٹ کھانے کو دوڑتے ہیں خصوصا چھٹی کے دن اور اب تو بچے بھی کہتے ہیں کہ امی ہمارے گھر مہمان کب آئیں گے؟؟؟؟؟

یہ ساری باتیں فائزہ جو بہت غور سے سُن رہی تھی کہنے لگی کہ یار میں بھی اُداس ہوں اور مجھے تمہاری باتیں صحیح لگ رہی ہیں ۔اس پر مدیحہ نے کہا تمہارے ساتھ ایسا کیا ہوگیا؟؟؟؟

یہ سننا تھا کہ فائزہ نے کہا یار کیا بتاؤں میری ایک عدد نند گڑیا باجی جو اوکاڑہ میں رہتی ہیں نا وہ ہر سال جون کے مہینے میں ایک ماہ ہمارے گھر آتی تھیں کہ بوڑھے ماں باپ سے مل لیں۔لیکن مجھے ان کا آنااتنا کھلتا تھا کہ نہ پوچھو ۔وہ آتیں تو دیسی گھی سے بھرا کنستر لاتیں اور روز ہمیں صبح میں اس گھی سے بنے پراٹھے کھلاتیں۔میری تو پوری سال بھر کی ڈائیٹنگ کا اس ماہ میں کوئی فائدہ ہی نہیں ہوتا ۔پھر اگر میں کچھ کہتی تو کہتیں کہ چھوڑو یہ ڈائٹ وائٹ۔جان بناؤ جان ۔

اور پھر ساتھ میں تازہ مولیاں لے کر آتیں ۔کہتیں کہ ہوائ اڈہ آنے سے آدھا گھنٹہ پہلے باغوں میں جا کر خود توڑ کر لائ ہوں ۔تازہ ہیں بالکل تازہ۔

اور ہمیں لسی بھی پلاتیں۔لیکن اس کے ساتھ ان کے گیارہ سالہ بیٹے کی ایک عادت سے میں بہت پریشان تھی ۔

مدیحہ جو فائزہ کی باتیں غور سے سُن رہی تھی کہنے لگی؟

ارے بھلا کس عادت سے پریشان تھیں؟؟

تو پھر فائزہ نے کہا کہ ان کا بیٹا بغیر کھٹکا کر کمرے میں آجاتا۔بہت سمجھایا تو شرمندہ ہو کر کہتا کہ مامی عادت نہیں نا ۔اب کھٹکا کر کے آیا کروں گا۔

لیکن اس سال مجھے اپنی گڑیا باجی اتنی یاد آئی ہیں کہ نہ پوچھو ۔اس کورونا کے چکر میں نہیں آئیں کہ سفر کرنا مناسب نہیں ۔سفر کرنے سے انھیں نہ لگ جائے اور پھر میری چھوٹی بچیاں بیمار نہ ہو جائیں ۔

اور ان دونوں کی باتیں شمائلہ بھی بہت توجہ سے سُنتے ہوئے کہنے لگی اور ہم جو مریضوں کے ساتھ آئے ہوئے۔ لوگوں سے پریشان تھے آج ہمیں ان لوگوں کی قدر آرہی ہے۔یقین کرو اکیلے مریضوں کو لیٹا دیکھ کر دل کٹتا ہے کہ کوروناکی وجہ سے کوئ مریض کو دیکھنے والے مہمان بھی نہیں آتے تو بہت سارے مریض تو سارا سارا دن اکیلے ہوتے ہیں۔اور پھر یہ مریض بھی ہم سے باتیں کرنا چاہتے ہیں ۔اب ہم اپنے کام کریں یا ان مریضوں کو دیکھیں؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟

اور اب ان تینوں دوستوں کو مہمانوں کی قدر آرہی تھی۔

لیکن بس مدیحہ کہنے لگی کہ بس یہ آنے والے مہمان آکر “ذاتی سوالات نہ کیا کریں”۔

اس پر شمائلہ اور فائزہ ہنستے ہوئے کہنے لگیں کہ ہاں یہ ٹھیک کہا۔