یمنی باغیوں کا سعودی تنصیبات پر حملے اور عرب اتحاد کا ناکام بنانے کا دعویٰ

189

صنعا/ ریاض (انٹرنیشنل ڈیسک) یمن کے حوثی باغیوں نے سعودی شہر جازان میں خام تیل کی ایک اہم تنصیب پر ڈرون اور میزائل حملہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ باغیوں کے ترجمان یحییٰ ساریہ نے پیر کے روز ایک بیان میں کہا کہ تیل کی تنصیب کے علاوہ جازان، ابہا اور نجران میں کئی عسکری تنصیبات کو ایک بڑے حملے میں نشانہ بنایا گیا۔ دوسری جانب سعودی عرب کی قیادت میں قائم فوجی اتحاد کے ترجمان کرنل ترکی المالکی نے کہا ہے کہ اس نے پیر کے روز یمن سے داغے گئے 4 میزائل اور 6 بارود سے لیس ڈرون تباہ کردیے۔ یحییٰ ساریہ نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ حوثی ملیشیا نے سعودی عرب کے جنوب مغربی شہر خمیس مشیط میں پیٹریاٹ میزائل کے نظام کو نشانہ بنایا۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ جازان اور ابہا میں جنگی طیاروں، پائلٹوں کی رہایش گاہ اور دیگر تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔ ترجمان نے نجران ائر پورٹ کو نقصان پہنچانے کے علاوہ جازان شہر میں سعودی عرب کی تیل کی بڑی تنصیب کو تباہ کرنے کا بھی دعویٰ کیا ہے۔ سعودی عرب کے شہر خمیس مشیط، ابہا، نجران اور جازان یمن کے سرحد کے قریب واقع ہیں۔ خیال رہے کہ سعودی آئل کمپنی ارامکو بحیرۂ احمر کے ساتھ واقع شہر جازان میں واقع ریفائنری سے یومیہ 4 لاکھ بیرل تیل برآمد کرتی ہے۔ تیل کی یہ تنصیبات یمن کی سرحد سے 60 کلو میٹر دور ہیں۔ ارامکو کی جانب سے بھی حملے سے متعلق کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔ واضح رہے کہ کورونا وائرس کی وجہ سے باغیوں اور مسلم ممالک کی اتحادی فوج میں جنگ بندی کا عارضی معاہدہ ہوا تھا، جس کی مدت مئی کے آخر میں ختم ہو گئی تھی۔ معاہدے کے خاتمے کے بعد ایران نواز حوثی باغیوں نے سرحد پار سعودی عرب پر حملے ایک بار پھر شروع کر دیے تھے، جو تاحال جاری ہیں۔ حوثی باغیوں نے جون میں سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض پر بھی میزائل داغے تھے، جنہیں سعودی فوج نے تباہ کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔