امریکا میں 17 سال بعد وفاقی سطح پر سزائے موت بحال

190

واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکا کی ایک وفاقی عدالت نے ماتحت عدالت کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے تقریباً 17 سال بعد سزائے موت کو بحال کردیا ہے، جس کے بعد ریاست انڈیانا کی جیل میں آج ایک مجرم کی سزا پر عمل ہوگا۔ خبر رساں اداروں کے مطابق امریکا کی ایک وفاقی اپیل عدالت نے اتوار کے روز مجرم ڈینئل لوئس لی کی موت کی سزا روکنے کے ماتحت عدالت کے حکم کو معطل کرتے ہوئے مجرم کی سزائے موت کے فیصلے کو برقرار رکھا تھا۔ 47 سالہ ڈینئل لی کے اہل خانہ نے ماتحت عدالت میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ وہ کورونا کی وجہ سے سزائے موت پر عمل کے وقت اپنی موجودگی یقینی نہیں بنا سکتے اس لیے سزا پر عمل کو ملتوی کیا جائے۔ عدالت نے جمعے کے روز درخواست منظور کرتے ہوئے سزائے موت پر عمل روک دیا تھا، تاہم محکمہ انصاف نے ماتحت عدالت کے فیصلے کو اعلیٰ اپیل عدالت میں چیلنج کیا تھا اور استدعا کی تھی کہ مجرم کی سزائے موت پر عمل طے شدہ وقت کے مطابق کیا جائے، جس پر وفاقی اپیل عدالت نے قرار دیا کہ مجرم کے لواحقین کے پاس سزائے موت پر عمل میں تاخیر کا کوئی قانونی جواز نہیں ہے۔ ڈینئل نے 1996ء میں اسلحہ کے ایک تاجر ولیم ملر، اس کی اہلیہ اور 8 سالہ بیٹی کو قتل کیا تھا۔ واضح رہے کہ امریکا میں وفاق کی تحویل میں موجود قیدیوں کو سزائے موت دینے کا سلسلہ 2003ء سے معطل تھا۔