ٹیکساس: غاصبانہ اسرائیلی منصوبے کے خلاف بڑی ریلی

172

ٹیکساس سٹی(انٹرنیشنل ڈیسک) فلسطین کے علاقے مغربی کنارے کی اراضی ضم کرنے کے اسرائیلی منصوبے کے خلاف امریکی شہر ٹیکساس سٹی میں ریلی نکالی گئی، جس میں شریک درجنوں فلسطینیوں، امریکی شہریوں اور سماجی کارکنوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ خبر رساں اداروں کے مطابق مظاہرین نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں کے صہیونی ریاست سے الحاق، یہود کی آباد کاری اور کالونیوں کی توسیع کے اسرائیلی منصوبوں کی مذمت کی۔ شرکا نے فلسطینی پرچم، بینر اور کتبے اُٹھا رکھے تھے جن پر اسرائیل مخالف نعرے درج تھے۔ واضح رہے کہ صہیونی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے اعلان کیا تھا کہ جولائی میں فلسطینی علاقوں کا اسرائیل کے ساتھ الحاق شروع ہو جائے گا، تاہم اندرونی اختلافات میں شدت اور تحریک مزاحمت کے خوف سے اس عمل کو ملتوی کردیا گیا ہے۔ دوسری جانب جنوبی افریقا کے سابق صدر نیلسن منڈیلا کے پوتے مینڈلا منڈیلا نے فلسطینی اراضی کو اسرائیل میں ضم کرنے کے صہیونی منصوبے کے خلاف عالمی یکجہتی نیٹ ورک کے قیام کا مطالبہ کیا ہے۔ اُردن میں ایک سمپوزیم میں شرکت کے دوران جنوبی افریقی رکن پارلیمان کا کہنا تھا کہ وہ وقت زیادہ دور نہیں جب ہم ایک دوسرے کو فلسطین کی آزادی پر مبارک باد پیش کریں گے۔ یہ ایک مثال ہے کہ مجھے زندہ رہنے اور اپنی منزل حاصل کرنے کی امید ہے۔ اگر ضرورت پڑی تو میں اس کی خاطر مرنے کے لیے بھی تیار ہوں۔ اُدھر چلی کی پارلیمان نے فلسطینی علاقوں پر اسرائیلی خود مختاری کے قیام کے اعلان کے خلاف ایک قرارداد منظور کی ہے، جس میں صہیونی ریاست کے اعلان کو بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے۔ اسلامی تحریک مزاحمت حماس نے چلی کی پارلیمان کی قرارداد کا خیر مقدم کیا ہے۔