گیم یا زندگی

206

فرح مصباح
“طلال ! طلال ! بیٹا ! میری بات سنو، اب تو کمپیوٹر سے ہٹ جاؤ”. “جی مما ابھی ہٹتا ہوں”. فائزہ طلال سے کہہ کر ابھی ہٹی تھی کہ اسے دوسرے کمرے میں عائزہ بھی لیپ ٹاپ پر نظر آئی۔ “بیٹا ! کیا مسئلہ ہے جب بھی آپ لوگوں کو دیکھو کمپیوٹر، موبائل، لیپ ٹاپ، آئی پیڈ لے کر بیٹھے ہوتے ہو۔ مجھے تو سمجھ ہی نہیں آتی کہ میں آپ لوگوں کو کیسے سمجھاؤں”؟ فائزہ بچوں کی اس ایکٹیویٹی سے بہت پریشان تھی ۔ جب کبھی طلال کو دیکھو گیم کھیلنے میں لگا رہتا ہے ، اور عائزہ اور حسنٰی بھی بہانے بہانے سے آئی پیڈ، لیپ ٹاپ لے کر بیٹھ جاتی تھیں، اور چھوٹا مدثر اس کا تو ان سب سے زیادہ برا حال تھا جب دیکھو ٹی وی پر کارٹون دیکھتا ہے یا موبائل پر گیم کھیلتا رہتا ہے۔ جیسے ہی ہٹاتے رونے لگتا۔ مشکلوں سے اسکول،مدرسہ اور ٹیوشن کے ٹائم ہی گیم اور کارٹون سے جان چھوٹتی. اب تو فائزہ اور بھی زیادہ پریشان رہنے لگی، کیونکہ رہی سہی کسر تعلیمی نظام کے موبائل اور کمپیوٹر پر منتقل ہونے نے پوری کردی۔ آج فائزہ کی دوست سارہ گھر پر آئی تو وہ بھی اپنا یہی دکھڑا رونے لگی کہ بچے نہ سمجھتے ہیں ، نہ مانتے ہیں اور ہم بھی مجبور ہیں جیسے کہ یہ موبائل کا نظام ہماری مجبوری بن چکا ہے۔ واقعی بہت دکھ اور افسوس ہوتا ہے۔ ہم تو ہمارے بچپن میں ایسے کھیل اور تفریح کیا کرتے تھے جن سے صحت بھی اچھی رہتی اور وقت بھی اچھا گزر جاتا تھا۔ سارہ اور فائزہ اپنے پچھلے دور میں کھو گئیں۔ سارہ کہنے لگی: “پہلے لڑکوں کے لئے میدان ہوا کرتے تھے جہاں وہ کھلی فضا میں اپنی شام بِتاتے تھے اور لڑکیاں بھی آرام سے سائیکلنگ کر لیتی تھیں گلی میں. اور مل کر چھتوں یا گلی میں چھپن چھپائی، پٹوگرام اور مختلف قسم کے کھیل کھیلتیں۔ بچے اور بچیاں ان کھیلوں سے چست رہتے اور خوش بھی۔ لیکن اب بچوں کے پاس ایسی سرگرمیاں کرنے کے لئے جگہ بھی خاص میسر نہیں، اور اس کے علاوہ انٹر نیٹ نے سارا نظام برباد کرکے رکھ دیا۔ بچے انہی چیزوں میں مصروف رہتے ہیں جس سے ان کی دماغی صلاحیت بھی خراب ہوتی ہے اور جسمانی بھی. یہ مشینی بچے سست ہوتے جا رہے ہیں۔ بچوں کے دماغ بھی کمزور ہورہے ہیں. اور اب تو کچھ گیمز بھی ایسے آگئے ہیں کہ جس سے بچے نفسیاتی مسائل کا شکار ہوکر خودکشی بھی کر رہے ہیں۔” فائزہ سارہ کو بتانے لگی کہ ہمارے ایک جاننے والے ہیں ان کے بچے کی عمر 14 سال تھی اور گیم کھیلنے کے دوران اس کی دماغ کی رگ کھنچ گئی اور آپریشن کے دوران اس کی موت واقع ہوگئی اس کے علاوہ پچھلے دنوں لاہور میں ایک بچے نے pubg کی وجہ سے خودکشی بھی کر لی یہ بات سن کر تو سارہ اور پریشان ہوگئ۔ لیکن حقیقت بھی یہی تھی کیونکہ اس نے ٹی وی اور اخبارات میں بھی اس قسم کے واقعات سنے تھے۔جس کی وجہ سے وہ اور پریشان ہوگئی۔ گھر آکر اس نے نماز کے بعد اللہ پاک سے دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے کہ “مولا کریم! ہم ان فتنوں سے اپنی اولادوں کو نہیں بچا سکتے. صرف تیری ہی ذات ہے،جو ہمیں محفوظ رکھ سکتی ہے تو ہماری اور ہماری اولادوں کے ایمان کی حفاظت فرما، اور ان بچوں کو اور تمام مسلمانوں کو ان تمام فتنوں سے محفوظ فرما”. لیکن آج اسے فائزہ کی بتائی ہوئی ایک بات یاد آئی کہ چاہے ہمارے بچے ان سب چیزوں میں مصروف ضرور ہیں، لیکن اب ہم مائیں ہی ہیں جو انہیں ان چیزوں سے کچھ الگ طریقوں سے روک سکتی ہیں ۔ اس نے بہت اچھے طریقے بتائے تھے جس میں اس نے کہا کہ اب ہم اپنے بچوں کو رات کو سوتے ہوئے اصلاحی کہانیاں، فضائل اعمال یا دوسری اسلامی اچھی کتابوں میں سے کچھ نہ کچھ اچھی باتیں ضرور بتائیں گے تاکہ وہ اچھی چیزوں کی طرف متوجہ ہوں۔ٹھیک ہے ہم گھر کے کام کاج کی وجہ سے بہت مصروف رہتی ہیں، اور بچوں کو دینے کے لیے ہمارے پاس خاص وقت نہیں ہوتا. نہ باپ کے پاس اتنا وقت ہوتا ہے کہ وہ بچوں کے ساتھ بیٹھ کرانہیں سمجھائے . اب چونکہ موقع اچھا ہے، بچے بھی گھر میں ہیں تو ہمیں چاہیے کہ ہم وقت نکال کر اپنے بچوں کو زیادہ سے زیادہ وقت دیں. جب ہم خود ان کے ساتھ مل کر مثبت سرگرمیاں انجام دے گے تو بچے اچھی چیزوں کی طرف متوجہ ہوں گے۔
سارہ نے اگلے دن کا پروگرام بنایا. پہلے بچوں کو ایکسر سائز کرنا سکھانا ہے. بچے آدھا گھنٹہ ایکسرسائز کریں گے. ایک گھنٹہ تقریبا اچھی کتابیں پڑھنے اور اچھی باتیں سننے میں انہیں لگانا ہے . ان چھوٹی چھوٹی سرگرمیوں میں بچوں کو اس طرح سے مشغول کرنا ہے جس سے بچے کم سے کم ٹائم ٹی وی، موبائل اور انٹرنیٹ پر گزاریں. اس نے سوچا کہ ویسے بھی ہم اپنا ٹائم تو بچوں پر صرف کرتے ہیں تو کیوں نہ اس کو قیمتی بنا کر صرف کریں تاکہ ان کی اچھی تربیت کی جا سکے. اور اسی کے ساتھ ہی اس کے چہرے پر ایک مسکان اتر آئی. اسے اپنے رب پر پورا بھروسہ تھا کہ وہ اسے اس کی اچھی نیت کے بدلے میں ضرور اس کا ساتھ دیں گے اور اس نے اپنے بچوں کو بھی بیٹھ کر ان ساری باتوں کے بارے میں سمجھایا اور ان سے وعدہ لیا کہ وہ اس کام میں اپنی ماں کی مدد ضرور کریں گے ۔اگلی صبح نئی امید کے ساتھ طلوع ہوئی. وہ لوگ بیدار ہوئے تو ان کے چہرے پر ایک سکون تھا اور دلوں میں ایک نیا عزم ۔ گو کہ یہ راہ مشکل ضرور تھی لیکن ناممکن نہ تھی۔