ریلوے کی غفلت سے ایک اور المناک حادثہ‘22سکھ یاتری ہلاک‘ متعدد زخمی

303
شیخوپورہ: ٹرین کی ٹکر سے تباہ ہونے والی کوسٹر، چھوٹی تصویر میں مقامی افراد امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں

شیخوپورہ/اسلام آباد(خبرایجنسیاں)ریلوے کی غفلت سے ایک اور المناک حادثے کے نتیجے میں 22 سکھ یاتری ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔فیصل آباد سے لاہور جانے والی شاہ حسین ایکسپریس نے سکھ یاتریوں کی کوسٹر کو روند ڈالا۔ہلاک ہونے والوں میں 11 مرد ، 10 خواتین اور 4 سالہ بچہ شامل ہے۔ترجمان ریلوے کے مطابق حادثہ شیخوپورہ میں فاروق آباد اور بحالی ریلوے اسٹیشن کے درمیان بغیر پھاٹک کی کراسنگ پر پیش آیا۔ ترجمان ریلوے کے مطابقکوسٹر میں 25 سکھ یاتری، ایک ڈرائیور اور ایک کنڈکٹر سوار تھے جن میں سے 20 یاتری اور ڈرائیو اور کنڈکٹر بھی ہلاک ہوگئے، واقعے کی اطلاع ملنے پر ریسکیو اہلکار موقع پر پہنچ گئے جنہوں نے زخمیوں اور لاشوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا۔ریسکیو 1122 کے مطابق پشاور سے سکھ خاندان اپنے رشتہ دار کے انتقال میں شرکت کے لیے ننکانہ صاحب آیا تھا۔واپسی پر کوچ کے ڈرائیور نے پھاٹک بند دیکھ کر کچھ آگے جا کر کچے راستے سے ریلوے لائن عبور کرنے کی کوشش کی اور اسی دوران کراچی سے لاہور جانے والی شاہ حسین ایکسپریس وہاں پہنچ گئی اور کوسٹرسے ٹکرا گئی۔حادثے میں ایک ہی خاندان کے 20 سکھ افراد اور ڈرائیور و کنڈکٹر بھی دم توڑ گئے جبکہ 5 زخمی ہوئے۔ وزیر ریلوے شیخ رشید نے ٹرین حادثے کا نوٹس لیتے ہوئے ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ طلب کر لی۔ وزیر ریلوے نے ڈویژنل انجینئر کو معطل کر دیااورذمے داروں کیخلاف کارروائی کی ہدایت کر دی۔ترجمان ریلوے کے مطابق ٹرین حادثے کی تحقیقات کا حکم دے دیا گیا ہے۔ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) شیخوپورہ کا کہنا ہے کہ کوچ کو حادثہ ڈرائیور کی غفلت کے باعث پیش آیا، پھاٹک بند ہونے پر کوچ ڈرائیور نے جلد بازی میں کچے راستے سے گزرنے کی کوشش کی۔واضح رہے کہ اس طرح کے واقعات پہلے بھی پیش آتے رہے ہیں لیکن ریلوے انتظامیہ کی جانب سے اس کے تدارک کے لیے کوئی حفاظی انتظات نہیں کیے گئے۔ڈی پی او کے مطابق لاشوں اور زخمیوں کو ڈی ایچ کیو اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔حادثے میں ہلاک ہونے والے سکھ یاتریوں کی لاشیں لاہور سے سی ون تھرٹی طیارے کے ذریعے پشاور بھیجی جائیں گی۔ مجموعی طور پر 21 لاشیں پشاور بھیجی جائیں گی جبکہ ایک لاش کو ننکانہ صاحب بھیجا گیا ہے۔وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے بھی نے حادثے میں ہلاک ہونے والوں کے لواحقین سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے زخمیوں کو تمام ممکنہ سہولتیں فراہم کرنے کاحکم بھی دیا۔ شیخوپورہ کی ضلعی انتظامیہ نے ڈی سی آفس میں کنٹرول روم قائم کر دیا ہے۔ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی اور وزیراعظم عمران خان نے حادثے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے اور زخمیوں کو بہترین طبی امداد کی فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ ریلوے کے تمام آپریشنل سیفٹی ایس او پیز کے نظام کا فوری جائزہ لیا جائے گا۔علاوہ ازیں ملک کی تمام مذہبی وسیاسی جماعتوں کی جانب سے واقعے پر افسوس اور لواحقین سے اظہار تعزیت کیا ہے۔