اسمارٹ فون یا آپ کی ذہنی صلاحیتوں کا قاتل؟

426

21ویں صدی میں جہاں اسمارٹ فونز اور اسی طرح کی دیگر ٹیکنالوجیز نے دنیا کے تمام انسانوں کے بیچ فاصلوں کو ختم کردیا ہے اور دنیا کو گلوبل ولیج میں تبدیل کردیا ہے وہیں اس کے تباہ کُن اثرات بھی نمایاں ہوکر سامنے آئے ہیں۔

ایک گھر سے لے کر پورے معاشرے نے اپنا تمام تر انحصار اسمارٹ فونز پر کیا ہوا ہے اور اپنے اذہان جو کہ اس سے کہیں زیادہ صلاحیتوں کا مالک ہے اس کو استعمال کرنا چھوڑ دیا ہے۔ اسی لیے ممتاز نفسیاتی ماہر نے خبردار کیا ہے کہ اسمارٹ فون کا بے تحاشا استعمال اور اس پر انحصار ہمیں کند ذہن بنارہا ہے۔

دماغی ماہر ڈاکٹر سوسن گرین فیلڈ نے کہا ہے کہ  ٹیکنالوجی کا بڑھتا ہوا استعمال آج کی نسل کو شدید متاثر کررہا ہے اور ان میں معلومات جمع کرنے اور مسائل حل کرنے کی صلاحیت اور محنت میں کمی واقع ہورہی ہے۔

برطانوی دماغی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اسمارٹ فون اور دیگر دستی آلات پر بڑھتا ہوا انحصار ہماری یادداشت، معلومات جمع کرنے اور مسائل حل کرنے کے لیے سوچ بچار کی صلاحیت شدید متاثر کررہا ہے۔

آکسفورڈ یونیورسٹی میں واقع لنکن کالج سے وابستہ ماہرین نے کہا ہے کہ اب نام یاد رکھنا اور سالگرہیں ازبر کرنا صرف ایک کلک کے حوالے کردیا گیا ہے۔ دماغ مسلسل مشق سے سیکھتا ہے اور اس میں حقائق جمع کرنے کی کوشش نہ کی جائے تو یہ دماغی صلاحیت بتدریج کمزور ہوتی جاتی ہے۔

 دوسری جانب  سوسن گرین فیلڈ نے خبردار کیا ہے کہ نوجوان نسل اصل دنیا میں سیکھنے، کھیلنے اور معاشرے کا حصہ بننے کی بجائے اسکرین میں قید ہوکر رہ گئی ہے۔ گویا ہم نے سوچنے سمجھنے کا کام مشینوں اور اسمارٹ فونز کے سپرد کردیا ہے۔ اس طرح دھیرےدھیرے زندگی کے پیچیدہ مسائل پر ہماری گرفت کمزور ہوتی جائے گی اور ہماری نسل تیزی سےاس جانب بڑھ رہی ہے۔

آج سے 100 یا 200 سال پیچھے چلے جائیں تو ہم دیکھیں گے کہ کس طرح طالبِ علم پوری کتاب باآسانی حفظ کرلیا کرتے تھے اور اُس زمانے کے افراد کا حافظہ زیادہ مظبوط و قوی ہوا کرتا تھا بنسبت آج کے لوگوں سے۔ اس بحث کا مقصد یہ نہیں کہ ٹیکنالوجی ہمارے لئیے نقصاندہ ہیں، نہیں۔ بلکہ بات دراصل یہ ہے کہ ہر چیز کا استعمال جب تک معتدل رہتا ہے وہ انسان کیلئے مفید رہتا ہے مگر جہاں توازن بگڑا، وہیں انسانی زندگی پر اُس کے خطرناک نتائج مرتب ہوتے ہیں۔