محمت چک ۔مزاحمت کاستعارہ !

425

فرحت طاہر
کیچڑ سے بھرے میدان میں چٹائیاں بچھائے مسلمان قیدی نماز تییم کر کے باجماعت اداکرنے کے لیے انگریز فوجیوں کا ظلم سہہ رہے ہیں ۔۔۔۔۔۔
یہ منظر 1914 ء میں بصرہ کے برطانوی قیدی کیمپ کا ہے جسے اپنے واٹس ا یپ پر دیکھ کر میں جذباتی ہوجاتی ہوں12 سالہ بھانجا لاک ڈاؤن کے دوران اپنے گھر والوں کے ساتھ تاریخی ڈرامے دیکھ رہا ہے۔ منجمد کرنے والی زندگی میں ایکشن سے بھرپوریہ مناظر اس کی چونچالی کی تسکین کا باعث بن رہی ہیں جس میں وہ سب کو شریک کررہا ہے اور اس کے اصرار پر میں بھی یہ ڈرامہ دیکھنے لگتی ہوں۔
MEHMETICK ترکی زبان میں فوجی کے لیے پیار بھرا لقب ہے یہ کہانی ان چند سر فروشوں کی ہے جو وطن کے دفاع کے لیے سر توڑ کوشش کر تے ہیں اور جن کا ماٹو ہے
٭جد و جہد ہماری ,فتح اللہ کی ٭ !!
٭تشکیلات مخصوصہ ٭ حکومت عثمانیہ کی خفیہ محکمہ جاسوسی (انٹیلی جنس) ہے جو فوج کے مساوی اور متوازی اہمیت کی حامل ہے ۔۔ معلومات بہت بڑی طاقت ہے اور جنگ میں تو تھوڑی سی معلومات بھی اہم ہے جس کی بنیاد پر ہاری ہوئی جنگ جیت لی جاتی ہے جبکہ کبھی غلط معلومات برعکس نتائج بھی دیتی ہے ۔ .یہ زمانہ ہے پہلی جنگ عظیم کا اور منظر ہے مڈل ایسٹ کا …جب برطانوی اور جرمن فوج یہاں اپنے قبضے کے لیے بر سر پیکار تھیںاور خلافت عثمانیہ جرمن فوج کی حلیف اپنی بقا کی جنگ لڑ رہی تھی۔ ترکوں اور عربوں کو آپس میں لڑانے کے لیے برطانیہ خوب چالیں چل رہا ہے ۔
کوت العمارہ ،بصرہ اور بغداد کے درمیان دریائے دجلہ کے کنارے آباد ایک قصبہ ہے جو عثمانی سلطنت کے زیر انتظام ہے ۔ کہانی کا آغاز سلیمان عسکری انچارج سیکرٹ تنظیم کی بریفنگ سے ہوتا ہے جس میں وہ پراجیکٹر پر نقشوں کے ذریعے دشمن کی کاروائیاں اور اپنی تیاریوں کی بابت بتا رہا ہے۔ دوسری جانب انقرہ میں ایک طالبعلم محمد تقریر کے ذریعے حب الوطنی پر سب کو ابھاررہاہے ۔وہ ریٹائرڈ فوجی حصرو کا لے پالک بیٹا ہے جسے وہ اپنے بیٹے سعید کے ساتھ عثمانی بٹالین میں شمولیت کے لیے تربیت دے رہے ہیں ۔ یہ دونوں نوجوان جوش سے سرشار ہیں۔سعید جذباتی اور جلد باز ہے اور جہاں بھی محمد سے پیچھے رہتا ہے پریشان ہونے لگتا ہے ۔
سلیمان عسکری اپنی رجمنٹ میں بھرتی کے لیے انتخاب کا معائنہ کرتے ہیں اورسعید نشانے کی کمزوری کے باعث منتخب ہونے سے رہ جاتا ہے۔ برطانوی جاسوس کو روکنے کی کوشش میں محمد کی ٹانگ میں گولی لگتی ہے اور وہ ہسپتال میں داخل ہوجاتا ہے اور یوں عثمانی بٹالین کی پوسٹنگ سے محروم رہ جاتا ہے ۔سلیمان عسکری اس کی جگہ سعید کو تقرر کر لیتے ہیں اس کے علاوہ خفیہ ادارے میں خدمات کے لیے وہ اس کے والد حصیری کو ذمہ داری تفویض کرتے ہیں ۔
محمد زخمی ہونے کے باوجود کسی طرح اس ٹرین میں سوار ہوجاتا ہے جو اس بٹالین کو لے جارہی ہے۔ گویا تینوں باپ بیٹے ایک ہی سفر پر ہیں۔محمد کی ٹرین میں موجودگی کا انکشاف اس برطانوی جاسوسہ کے ذریعے ہوتا ہے جسے وہاں قید کیا جاتا ہے جہاں اتفاق سے محمد روپوش ہوا ہے۔سعید محمد کو چھپائے رکھتا ہے اور خصوصی مشن پر روانگی پر بھی وہ محمد کو صندوق میں ڈال کر اپنے ہمراہ لے جاتاہے۔ اس دوران ان کی برادارانہ چپقلش بھی چلتی رہتی ہے۔ ان کامشن برطانوی حملے کا شکار ہوتا ہے اور وہ ان دونوں کو قید کر لیتے ہیں۔ محمد کسی طرح دستاویز لے کر نکلنے میں کامیاب ہوجاتا ہے۔صحرا میں بھٹککر بے ہوش ہوجاتا ہے اس موقع پر زینب اس کی مدد کو آتی ہے زینب اپنی نانی کے ساتھ جڑی بوٹیوں اور زہر کے تریاق سے شفا کا کام کرتی ہے۔زینب بھی تنظیم کی ممبر ہے۔وہ محمد کی اطلاع سلیمان عسکری کو دیتی ہے .سعید کو بھی رہا کروالیتے ہیں وہ ان دونوں کی مزید تربیت اور امتحان سے گزارتے ہیں ۔محمد کا مشن اپنے ساتھیوںکے ساتھ بصرہ کی جیل میں قید ہوکر معلومات اکٹھا کرنا ہے ۔( اس مضمون کا آغاز وہیں کے منظر سے ہوا ہے !)وہاں تشکیلات مخصوصہ کا ایک سیکرٹ ایجنٹ موجود ہے ۔ منحنی سا بے ضرر علی بظاہر غبی نظر آنے والا ایک ہاتھ سے معذور فرد بہت ہی صلاحیتوں کا حامل اور خاص آدمی ہے. .وہ بلیڈ کے آدھے ٹکڑے کی مدد سے جیل کے 5 سپاہیوں کو قتل کر کے فرار ہوتا ہے اور پھر بقیہ تمام قیدیوں کو بھی رہائی دلواتا ہےتب انکشاف ہوتا ہے کہ وہ معذورنہیں ہے بلکہ ذہین فطین اور چست و چالاک ہے! اس مہم میں کامیابی کے بعد وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ بر طانوی افواج کو ناکوں چنے چبوا دیتاہے! کبھی بٹلر بن کے جرنل کے مشروب میں زہر ملا دیتا ہے تو کبھی لوڈر بن کر تیل میں ملاوٹ کر کے بر طانوی فوج کی حرکت کو روک دیتا ہے۔ اس کا کہنا تھاکہ ہم دشمن کی طاقت کا مقابلہ نہیں کرسکتے تو اس کو کمزور کرکے اپنا هدف آسان کر سکتے ہیں۔بند مٹھی کی طاقت کو انگلیاں الگ الگ توڑ کر ختم کر سکتے ہیں بہت سی کامیا بیوں کی نوید سمیٹتا،دشمن کے کئی رازلے کر جب علی اپنے کمانڈر کے پاس پہنچتاہے تو وہ اسے اس جرم میں گرفتار کرلیتاہے کہ اس نے اپنی من مانی کر کےڈسپلن کو توڑا ہے ! علی کے ساتھیوںکو معطل کر کے کچن کے کاموں میں لگادیتا ہے۔
(آہ ! اس موقع پر ناظرین اپنے غم و غصے کے جذبات چھپانے سے قاصر ہیں۔کمانڈربد نیت نہیں ہے مگر کمزور کہیں یا پهر انا کا اسیر کہ قوم کو خطرات میں جھونک دیتاہے)
علی کے ساتھی اسے جیل سے فرار کراتے ہیں اور خود بھی بھگوڑےبن جاتےہیں ۔۔ دشمن کا جاسوس غدار کی مدد سے علی کو گرفتار کر کے اس کے ساتھ اپنی دوستانہ تصاویر لے کر رہا کر دیتا ہے اور پھر وہ تصویر عثمانی کمانڈر تک پہنچادیتا ہے یہ تصاویر دیکھ کر علی کی غداری کا یقین کرکے اس کی یہ تصویر پوسٹر بنا کر شہر میں آویزاں کروادیتاہے ۔ جس بات پر ایک بچہ بھی یقین کرنے کو تیار نہیں اس پر اتنی بڑی فوج کے کمانڈر کا یقین کرلینا فہم شناسی کی کمی کا مظہر ہے۔اس موقع پر ہمیں علی اسکوپلو کا یہ کردار نظر آتا ہے کہ اسے دشمن کی سرگرمیوں کی اطلاع ملتی ہے تو وہ سب کچھ بالائے طاق رکھتے ہوئے وطن کی خاطر کمانڈر تک پہنچتا ہے اور اس کو قائل کر کے اطلاع کے مطابق متفقہ پلان بناتا ہے ۔غدار کے ذریعے اس اطلاع کو پاکر دشمن بھی ایک جعلی مقابلہ ترتیب دےکر کمانڈر کو یہ تاثر دیتا ہے کہ علی کا پلان غلط تھا ۔۔۔ .. نتیجا! دشمن اپنی کاروائی کر کے کوٹ العمارہ پر قبضہ کر لیتاہے ۔سلیمان عسکری سمیت کئی قیمتی افراد شہید ہوجاتے ہیں سب کچھ تتربتر ہوجاتا ہے ۔ہیڈ کوارٹر پر ہلال کی جگہ صلیب والا پرچم لہرانے لگتا ہے۔اگر چہ علی اپنے ساتھیوں کے ہمراہ آبادان کی آئل ریفائنری پر قبضہ کر لیتا ہے مگر کوت العمارہ پر انگریز کے قبضے کے باعث خام تیل کی فراہمی ناممکن ہوجاتی ہے اور اسے تباہ کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں رہتا۔ انگریز کے حوصلے بلند ہوتے ہیں اور وہ بغداد کی جانب پیش قدمی کے لیے تیار ہوجاتے ہیں ۔ انہیں یہ یقین ہوجاتا ہے کہ ان کا واسطہ کمزور ، بیمار اور شکست خوردہ دشمن سے ہے۔
یہاں پر پہلا سیزن اختتام کو پہنچتا ہے ۔کم و بیش 2 گھنٹےکی19 اقساط پر مشتمل یہ سیزن دیکھنے کے بعد ناظر شدت سے سوچتا ہے کہ تمام تر جذبوں اور حرکات کے باوجود محض غلط حکمت عملی کس طرح تمام کیے کرائے پر پانی پھیردیتی ہے تنظیم ہو یا ادارے اعلی عہدے داران اور ذمہ داران جب بھی زمینی حقائق کو نظر انداز کر کے صرف اور صرف حکام بالا کی اطاعت کو ہی وفاداری سمجھتےہوں وہاں ضرور نقصان اٹھاناپڑتا ہے،ساکه برباد ہوتی ہے۔ کسی بھی فریق کی ہار میں غدار بہت اہم کردار ادا کرتے ہیں ۔ عین موقع پر بغاوت اوربزدلی کا مظاہرہ کر کے جیتی ہوئی جنگ کو شکست میں بدل دیتے ہیں۔