سندھ حکومت کا تعلیمی بجٹ 2020- 21 پیش

611

کراچی(اسٹاف رپورٹر): سندھ حکومت نے مالی سال 2020-21  کیلئے میکرومینجمنٹ کے تناظر میں تعلیم کے شعبے کا بجٹ بڑھا کر 244.5  بلین روپے کردیا۔

سندھ حکومت نے تعلیمی اداروں میں بہتری کیلئے محکمہ تعلیم کو 2016  میں دو محکموں میں تقسیم کیا تھا  جن میں کالج ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ ( سی ای ڈی ) اور اسکول ایجوکیشن اینڈ لٹریسی ڈپارٹمنٹ(ایس ای ایل ڈی) شامل ہیں ۔ مالی  سال 2019-20میں تعلیم کا بجٹ 212.4  بلین روپے تھا۔

سندھ حکومت کا کہنا ہے کہ وسائل  کی کمی کے باوجود ہم نے جو فنڈز مختص کیے ہیں وہ ہمارے موجودہ محصولاتی بجٹ کا 25.2 فیصد ہیں۔

مالی  سال 2020-21   کیلئے اے ڈی پی میں تعلیم کے شعبے میں11 نئی  غیر منظور شدہ  منصوبوں کیلئے مجموعی طور پر 21.1 بلین  روپے مختص کیے ہیں، صوبائی ترقیاتی بجٹ کے وسائل مختص کر نے  کے علاوہ  ایف پی اے کے تحت 3.1  بلین  روپے بھی مختص کیے گئے  ہیں، محکمہ اسکول ایجوکیشن اینڈ لٹریسی  نے 265  جاری  اسکیموں اور 4  نئی  اسکیموں کے  لیے 13.2  بلین روپے رکھے گئے ہیں ۔

سندھ حکومت کی جانب سے زیادہ تر اسکیمیں موجودہ سرکاری اسکولوں کو پرائمری سے سیکنڈری کی  سطح پر اپ گریڈ کرنے کے لیے ہیں۔

اسکولوں کی بحالی  اور  بہتری ، فرنیچر کی فراہمی، بنیادی اور غیر موجودہ سہولیات  کی فراہمی ، اسکولوں کی عمارتوں کی تعمیر نو  ترجیحات میں شامل ہے،محکمہ کالج ایجوکیشن کیلئے سالانہ ترقیاتی  پروگرام  اور 2  نئی اسکیموں  کیلئے 3.71  بلین روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔ یونیورسٹیوں اور بورڈز کی ترقیاتی ترجیحات کے لیے 3.3  بلین روپے مختص کیے گئے ہیں۔

سندھ حکومت کا کہنا ہے کہ سرکاری یونیورسٹیوں ان کے تعلیمی بنیادی ڈھانچے کو مضبوط  بنیادوں پرتشکیل  دینے اور نئی تعلیمی سہولیات کی تعمیر کیلئے فنڈز فراہم کیے جائیں گے۔

نئے نظام تعلیم کے شعبے کو تین وسیع کیٹیگریز میں تقسیم کیاگیا ہے ان میں اسکول ایجوکیشن، کالج ایجوکیشن اور اعلیٰ تعلیم جس  میں  یونیورسٹی اور پیشہ ورانہ تعلیم شامل ہیں۔

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے بجٹ تقریر میں خطاب کرتے ہوئےکہا کہ حکومت سندھ اپنے محدود وسائل سے اسکول  کی تعلیم کے لیے فنڈز  مہیا کرتی ہے، بین الاقوامی ڈونرز بھی سندھ  میں تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کرتے رہتے ہیں۔ 2019 میں سندھ حکومت کے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت پرائمری اسکولوں میں  2,473,693  طالب علم زیر تعلیم ہیں۔ جن  میں 1,523,250  طلباء اور 950,443  طالبات شامل ہیں۔

مڈل کلاسز کے طالب علموں کی تعداد  690,528 ہے جن میں 433,550 طلباء اور 256,978  طالبات شامل ہیں، ثانوی سطح پر انرول طالب علموں کی تعداد  382,558  جن میں 248,398 طلباء  اور 134,164 طالبات  شامل ہیں،

اعلیٰ ثانوی سطح پر انرول کُل طالب علموں کی تعداد  129,118 ہے  جن میں 90,304  طلبا اور 38,814  طالبات شامل ہیں،  اسکول کی تعلیم کی ہر سطح پر کُل انرول طالب علموں کی تعداد 4,561,140  ہےجس میں 2,812,000 طلباء اور 1,749,8140  طالبات شامل ہیں۔

سندھ حکومت نے اسکولوں، کالجز اور یونیورسٹیز میں فرنیچر اور فکسچر کی خریداری کے لیے 6.6بلین روپے مختص  کیے گئے ہیں جبکہ بین الاقوامی ڈونر ایجنسیوں کی مدد سے نئی  سرگرمیوں کے لیے 6.1  بلین روپے مختص کیے گئے ہیں۔

اسکولوں کا انتظام ای ایم او  کے حوالے کرنے کیلئے ایجوکیشن مینجمنٹ آرگنایزیشن  کو بطور گرانٹ ان ایڈ ایک  بلین روپےمختص کیے گئے ہیں۔

درسی کتب کی مفت فراہمی کیلئے 2.3  بلین روپے، اسکول  مینجمنٹ کمیٹی کے لیے اسکولوں کی ضروریات  پورا کرنے کے لیے 1.8  بلین روپے، اسکولوں کی  عمارتوں کی مرمت کے لیے 5.0  بلین روپے رکھے گئے ہیں ۔

کورونا وائرس کے باعث پیداہونے والی صورتحال  کے بعد نئے اقدامات کو پائیہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے 480  ملین  روپے، ایسے تمام تعلیمی  اثاثوں کے لیے 663.4  ملین روپے بھی  اگلے مالی سال 2020-21  کے  بجٹ میں مختض کیے گئے ہیں ۔

سندھ کے 29 کے 1606  پرائمری، ایلیمینٹری اور ہائی اسکولوں کو تمام بنیادی ضروریات کی فراہمی، آئندہ تعلیمی سال سے  ای ایم او کے ذریعے پی پی پی موڈ  کے تحت 15  انگریزی میڈیم اور 6   کمپرہینسیو اسکولوں کو  آپریشنل بنانے کیلئےبنیادی کام کی تکمیل جبکہ 9 اضلاع میں 10 مزید  انگلش میڈیم اسکول اور 9  کمپرہینسیو اسکولوں کو فعال کیا جائے گا، جن میں سائنس/ انفارمیشن ٹیکنالوجی کی لیبز اور کتب خانو کی تمام سہولیات میسر ہوں گی۔

دو ہزار نئے نوزائدہ بچوں کی نگہداشت اور تعلیمی کلاس  رومز کا قیام 2500 ابتدائی بچپن کی تعلیم دینے والے اساتذہ کی تربیت اور  تعلقہ اور ضلعی سطح  پر تمام اسکولوں کی درسی کتب کے 4.93  ملین  سیٹ کی چھپائی جاری ہے۔

وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ اگلے مالی سال 2020-21  میں ہم نے بہت سے اہداف طے کیے ہیں، موجودہ اسکولوں میں مطلوبہ  انفرا اسٹرکچر، سولر سسٹم / آئی ٹی سائنس لیب اور آڈیٹوریم مہیا کیے جائیں گے۔

سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام اسکولوں میں طلبا کا اندراج  بڑھا کرتقریباً181,047  کرنے  کا منصوبہ ہے، اسمارٹ ٹیچنگ اینڈ لرننگ پروگرام کے متعارف کراتے ہوئے سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن میں 300 اسکولوں کا افتتاح جبکہ یو این ڈی پی کے تعاون  سے تعلیم، روز گار اور 15,000  نوجوانوں کو با اختیار بنانے  جیسے منصوبے زیر غور ہیں ۔

سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے سبسڈی ماڈل کے تحت 10 سال کے عرصے میں تقریباً 5000  اسکولوں کی ترقی کیلئے سٹیزن  فاؤنڈیشن کے ساتھ طویل مدتی ادارہ جاتی شراکت کے تحت ترجیحی بنیادوں پر 10 اسکولوں کے قیام کا منصوبہ، صوبے کے تمام اضلاع میں طلبا کو 4.79  ملین سیٹ یعنی 239.4  ملین  نصابی کتب کی فراہمی کا منصوبہ  بھی  اگلے مالی سال 2020-21  میں شامل ہے۔

سندھ حکومت نے  رواں مالی سال 2019-20میں 9.5بلین روپے سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن کیلئے  مختص کئے، 2020-21 کے بجٹ میں بھی سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے لئے اتنی ہی رقم مختص کی جارہی ہے۔ سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے اسکولوں میں طالب علموں کی موجودہ تعداد 450000  ہے جو کہ آئندہ  مالی سال 2020-21میں 550000تک بڑھنے کی توقع ہے جس کے لیے 200نئے ٹیکنیکل ٹریننگ سینٹرز کا اضافہ کیا جائے گا۔

سندھ حکومت کی جانب سے سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن کو سندھ کے دوردراز علاقوں کے 2300 اسکولز سونپے جارہے ہیں جن میں سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن میں طالب علموں کی تعداد 5لاکھ سے زائد ہے،2019-20 میں پرائمری اسکولوں کو بڑھایا گیا اور تقریباً 164588 طالبعلموں کا داخلہ کیا گیا۔

صوبہ سندھ میں کل 146بوائز کالجز،131گرلز کالجز اور50مخلوط کالج ایجوکیشن  ڈپارٹمنٹ کے تحت چل رہے ہیں جن میں کل 436980طالب علم ان کالجز میں زیر تعلیم ہیں۔ کورونا کے تناظر میں کالج کی تعلیم کو جاری رکھنے کیلئے کالج ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ منصوبہ بندی کررہا ہے۔ فاصلاتی تعلیم کیلئے کمپیوٹر لیب، سینٹرلائزڈ ٹیچنگ، اور ویب سروسز کو استعمال کیے جانے کے پروگرام مرتب کیا جائے گا ، کالج ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ میں ٹیکنالوجی بڑھانے کے ضمن میں اگلے مالی سال 2020-21 کے لئے 451.0ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔

کراچی کی این ای ڈی یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کراچی کیلئے  انڈونمنٹ فنڈ سے  300ملین روپے گرانٹ مختص کیے گئے ہیں  جبکہ گورنمنٹ کالج فار انفارمیشن ٹیکنالوجی گرو نگر حیدرآباد کے لئے 30ملین روپے کی گرانٹ رکھی گئی ہے۔

شاہ عبدالطیف یونیورسٹی خیر پور میں بے نظیر بھٹو چیئر پروجیکٹ قائم کیا گیا ہے جو ممکنہ طور پر آئندہ مالی سال 2020-21 میں مکمل ہوجائے گا، آئندہ مالی سالی 2020-21یونیورسٹیز کے لئے 5.0ملین روپے کی گرانٹ مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

سندھ تعلیمی بورڈز کے ان طالبعلموں کی اسکالرشپ کے لئے جو کہ گریڈ اے ون سے پاس کریں گے ان کیلئے  1.2بلین روپے رکھے گئے ہیں۔ 392.0 ملین روپے دیگر مختلف کیڈٹ کالجز کے لئے مختص کئے گئے  ہیں ،259 ملین روپے پبلک اسکولوں کے لئے جبکہ 50.0ملین روپے بہتر کارکردگی کے لئے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

کوویڈ 19اور لاک ڈاؤن کی وجہ سے ہونے والے تعلیمی نقصان کو کم کرنے کی کوششیں کی گئی ہیں ، زیادہ تر یونیورسٹیز نے آن لائن کلاسز کے انعقاد کی تیاری شروع کردی ہے تاہم مندرجہ ذیل اقدامات کووڈ 19کے اثرات کو کم کرنے کے لئے شروع کئے گئے ہیں۔ جناح سندھ میڈیکل یونیوررسٹی میں ڈاکٹرز اور ہیلتھ کیئر ورکرز  کیلئے کوویڈ 19آن لائن کورسز کا انعقاد، جے پی ایم سی جناح میڈیکل فیکلٹی آف پیتھالوجی کی تکنیکی معاونت سے لیول 3 میں کورونا لیبارٹری کا قیام جو کہ 20اپریل2020سے فعال ہے۔