وفاق کا حاکمانہ طرز عمل

290

بلوچستان کے اندر سیاسی جماعتیں و دوسرے حلقے حکمران جماعت بلوچستان عوامی پارٹی (باپ) کو ہیئت حاکمہ کی چادر میں لپٹا ہوا تصور کرتے ہیں۔ اس مخلوط حکومت کی بعض جماعتیں بھی یہی رائے ر کھتی ہیں۔ سیاسی حلقے اسے معروف معنوں میں سیاسی جماعت کے معیار کی حامل قرار نہیں دیتے۔ بہر حال جیسے بھی ہو ں ان کے وابستگان اپنے حلقوں سے منتخب ہوکر آئے ہیں۔ بڑی پارلیمانی جماعت بن کر بلوچستان عوامی پارٹی نے صوبے میں حکومت تشکیل دی ہے۔ چناں چہ یہ حکومت مسائل میں گھری ہوئی ہے۔ اسے وفاق کے ستم کا بھی سامنا ہے۔کسی اور جماعت کی حکومت ہوتی، تو یقینا وفاق کے ساتھ سندھ حکومت کی مانند مناقشہ ہوتا۔ حالیہ وفاقی بجٹ (12جون 2020) سے قبل وزیراعلیٰ جام کمال خان نے اپنی دانست میں وفاقی پی ایس ڈی پی میں بلوچستان کے منصوبے ترجیحی بنیادوں پر ڈلوانے کی کوششیں کیں۔ وفاق کا بلوچستان سے سلوک اور صوبے کی ضروریات، مشکلات اور مسائل کو لائق اعتناء نہ سمجھنے کی روش و رویے کو دیکھتے ہوئے جام نے مؤدبانہ احتجاج کیا۔ مشیر خزانہ حفیظ شیخ کی صدارت میں ہونے والے سالانہ منصوبہ بندی کمیشن کے اجلاس سے واک آئوٹ کیا۔ جام کمال نے وفاقی حکومت کے نمائندوں سے متعدد ملاقاتیں کیں۔ وزیراعظم کے مشیر برائے اطلاعات لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ عاصم سلیم باجوہ سے بھی بالمشافہ ملے۔ تاہم بجٹ اور معیشت جاننے والے کہتے ہیں کہ اس وفاقی بجٹ میں بلوچستان کے منصوبوں کو کماحقہ جگہ نہ مل سکی ہے۔ ایسے میں صوبائی حکومت کو خفت اٹھانی پڑی ہے۔ چناں چہ اس دوران اخبارات میں خبر لگوائی گئی کہ وزیراعلیٰ کے احتجاج کے اثر کے تحت وفاقی حکومت نے بلوچستان کے لیے 56ارب کے وفاقی منصوبوں کی منظوری دے دی۔ بہر حال حزب اختلاف اور صوبے کی بڑی سیاسی جماعتوں نے وفاق کا طرز عمل اس بار بھی مایوس کن اور امتیازی قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق وفاقی پی ایس ڈی پی میں بلوچستان کے منصوبے خاطر میں نہ لائے گئے۔
باتوں کی حد تک سبھی تسلیم کرتے ہیں کہ بلوچستان جغرافیائی اہمیت کا حامل صوبہ ہے، اور اس کے معدنی وسائل ملک کی معیشت کے لیے جسم میں روح کی مانند ہیں۔ مگر عملاً صوبے کو باج گزار کی حیثیت دے رکھی ہے۔ اس کے وسائل ہڑپ کیے جاتے ہیں۔ مگر اضافی نوازشات تو کیا صوبے کو جائز حق سے بھی محروم رکھا گیا ہے۔ وفاق کا سو تیلا و نرا حاکمانہ طرز عمل صوبے کو چبھتا ہے ، تاآں کہ دل کی بات مقتدرہ نوازوں کی زبان پر بھی آ ہی جاتی ہے۔ جیسے 10جون 2020ء کو وزیراعلیٰ جام کمال خان نے بھی اس جانب اشارہ کیا۔ وزیراعلیٰ نے اپنی ایک ٹویٹ میں وہی کچھ کہا جو دوسری جماعتیں عشروں سے کہتی چلی آرہی ہیں۔ اس روز جام کمال خان وزیراعظم عمران خان کی صدارت میں ہونے والے قومی اقتصادی کونسل کے ویڈیو لنک اجلاس میں شریک تھے۔ جام کمال نے اجلاس پر واضح کیا کہ ’’وفاقی سطح پر بلوچستان کے ترقیاتی معاملات کو آسان نہ لیا جائے۔ بلوچستان پہلے ہی وفاقی منصوبوں میں نظر انداز رہا ہے۔ جام کمال نے توجہ دلائی ہے کہ بلوچستان کی محرومیوں کی ایک اہم وجہ نامناسب اور ناکافی ترقیاتی سرمایہ کاری ہے۔ ترقیاتی اسکیموں پر توجہ نہیں دی گئی۔ یہی وجہ ہے کہ بلوچستان کا بڑا حصہ آج بھی غیر ترقی یافتہ ہے۔ گویا وزیراعلیٰ جام کمال بھی موجود معروضی حقائق زبان پر لانے پرمجبور ہوئے۔
درحقیقت وفاق کے اس امتیازی سلوک و برتائونے بلوچستان کے اندر سخت گیر و متشدد سیاسی رویوں کو جنم دیا ہے۔ شورشیں جنم لے چکی ہیں۔ اس وقت بھی ریاست کو تشدد پر مبنی سیاسی رویوں کا سامنا ہے۔ اسی طرح بلوچستان کا دو عشروں سے برابر نقصان ہورہا ہے۔ لہٰذا یہ ذمے داری بلوچستان عوامی پارٹی جیسی جماعتوں پر بھی عائد ہوتی ہے کہ وہ وفاق سے نرمی اور فرماںبرداری کے تعلق کے بجائے صوبے کے آئینی حق پر کسی قسم کا سمجھوتا نہ کریں۔ اس ضمن میں اسمبلی کے اندر حزب اختلاف اور صوبے کی دوسری جماعتوں کا تعاون حاصل کیا جاسکتاہے۔ جہاں حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان برابر دوریاں دیکھنے کو مل رہی ہیں۔
حزب اختلاف حکومت کے ساتھ متصادم ہے، ان کا احتجاج اب سڑکوں پر ہو رہا ہے۔ ہونا یہ چاہیے کہ کم از کم وفاق کے آگے صوبے کی مخلوط حکومت، حزب اختلاف و دوسری سیاسی جما عتیں ایک قطار میں کھڑی ہوں۔ اس ضمن میں زیادہ کردار جام کمال کی حکومت کا بنتا ہے۔ اسمبلی کے اندر قائد حزب اختلاف ملک سکندر ایڈوکیٹ ہیں۔ وہ سنجیدہ اور معاملہ فہم اور اچھی شہرت کے حامل سیاستدان ہیں۔ گویا ان کے ذریعے ایک تو افہام و تفہیم کا ماحول بنایا جا سکتا ہے، دوم وفاق پر صوبے کے آئینی حقوق کے حصول کے لیے مل کر دبائو ڈالا جا سکتا ہے۔ سردست صوبائی حکومت اپنا جائزہ لے کہ آیا وہ وفاق سے صوبے کا مفاد تسلیم کرانے میں آزاد و یکسوہے؟۔ یوں یقینا حزب اختلاف بھی دو رائے کا شکار نہ ہوگی۔ بلوچستان کے اندر کورونا وبا پھیل جانے کے بعد حکومت کا کنٹرول رفتہ رفتہ ختم ہورہا ہے۔ بلکہ فی الواقع صوبائی حکومت اور سرکاری مشینری محض اجلاسوں اور اعلانات تک محدود ہوکر رہ گئی۔ جو کوئی فیصلہ اور پالیسی لاگو نہ کرسکی ہے۔ اموات کی شرح میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ خود صوبائی حکومت کا محکمہ صحت کہہ چکا ہے کہ اگست تک صوبے کی سو فی صد آباد ی کورونا مرض میں مبتلا ہوجائے گی۔ حالت یہ ہے کہ سرکاری دولت بے دریغ خرچ ہورہی ہے، جبکہ نتیجہ صفر ہے۔ محض دعوؤں، اعلیٰ سطح کے اجلاس اور گزاف گوئی سے اگر درپیش چیلنج سے نبرد آزما ہونا ممکن ہوتا تو صوبہ کب کا اس وباکے خلاف بند باندھ دیتا۔ لہٰذا حکومت کا اپنی عمل داری یقینی بنا ناگزیر ہے۔