برطانیہ نسل پرستی کے بھنور میں

609

ایک لمحہ کے لیے بھی کسی نے سوچا نہ تھا کہ امریکا کے شہرمیناپولس میں ایک سیاہ فام شخص جارج فلایڈ کے پولس کی سفاکی کا نشانہ بننے کے نتیجے میں نسل پرستی کے خلاف طوفان برطانیہ کو اس بری طرح سے گھیر لے گا کہ وہ تمام گھاؤ ہرے ہو جائیں گے جو نسل پرستوں نے اس ملک کو پچھلے چار سو سال پہلے لگائے تھے اور نہ صرف یہ بلکہ نسل پرستی کے ایک نئے بھنور میں ملک کو دھکیل دے گا۔
چار صدی پہلے برطانیہ میں نسل پرستی کا آغاز غلاموں کی تجارت سے ہو ا تھا۔ اس زمانہ میں 1501ع سے 1866ع تک ایک کڑوڑ بیس لاکھ غلام جہازوں میں افریقہ سے برطانیہ لائے گئے تھے اور ان میں سے لاکھوں غلام برطانیہ کی نو آبادیوں ، یورپ اور دوسرے ملکوں کو فروخت کیے گئے تھے ۔اس زمانہ میں غلاموں کے تاجروں کی ایک بڑی تعداد تھی اور ان میں نمایاں وکٹوریہ کے عہد کے وزیر اعظم ولیم گلیڈ اسٹون تھے جنہوں نے پارلیمنٹ میں اپنی پہلی تقریر میں غلامی کا دفاع کیا تھا ۔ اس زمانہ میں لندن ، برسٹل ، لور پول اور گلاسگو غلاموں کی تجارت کی اہم بندرگاہیں تھیں ۔ یہی وجہ ہے کہ جب جارج فلائڈ کے قتل کے خلاف مظاہروں کا طوفان برطانیہ میں امڈا تو اس کا پہلا نشانہ برسٹل بنا جہاں سترویں صدی میں غلاموں کے سب سے بڑے تاجر ایڈورڈ کولسٹن کا مجسمہ نصب تھا ۔ نسل پرستوں کے خلاف مظاہرین نے کولسٹن کے مجسمہ کو گرا کر اسی دریا میں غرق کر دیا جہاں غلاموں سے بھرے اس کے جہاز لنگر انداز ہوتے تھے۔
غلاموں کے تاجروں کے خلاف نفرت کی یہ آگ بڑی تیزی سے لندن میں بھی پھیل گئی اور اس سے پہلے کہ لندن کی گودی کے علاقہ میں نصب غلاموں کے اٹھارویں صدی کے تاجر رابرٹ ملی گن کے مجسمہ کو مظاہرین گرا کر دریا برد کر دیتے مقامی کاونسل نے اسے خود اتار کر میوزیم میں منتقل کردیا۔ادھر آکسفورڈ یونیورسٹی میں طلبا اور اساتذہ نے جنوبی افریقہ کے سامراجی سیسل روڈس کے مجسمہ کو ہٹانے کا مطالبہ کیا ۔ غلاموں کے تاجروں کے مجسموں کو ہٹانے کی مہم اس تیزی سے بڑھی کہ لندن کے میئر صادق خان نے نسل پرستوں کے مجسموںکو ہٹانے اور سڑکوں کے نام ان متنازعہ شخصیتوں کے ناموں سے مٹانے پر غور کرنے کے لیے ایک کمیٹی کے تقرر کی تجویز پیش کی ہے۔اس دوران پلی متھ کی کاونسل نے شہر کے مرکز میں چوک کا نام جوسولہویں صدی کے تاجر سر جان ہاکنس کے نام پر ہے مٹانے کا اعلان کردیاہے۔سر جان ہاکنس غلاموں کے بڑے تاجر تھے۔
نسل پرستی کے خلاف مظاہرین کا نشانہ سر ونسٹن چرچل بھی بنے ہیں جو دوسری جنگ کے برطانوی ہیرہ مانے جاتے ہیں ۔ کچھ عرصہ قبل پارلیمنٹ اسکویر میں نصب ان کے مجسمے پر کسی نے رنگ پھینک کراس کے نیچے ’’ یہ نسل پرست تھا‘‘ تحریر کر دیا تھا۔ نسل پرستی کے خلاف حالیہ مظاہروں کے دوران لندن کے میئر صادق خان کو خطرہ تھا کہ چرچل کے مجسمہ کو نشانہ بنایا جائے گا۔ لہٰذا انہوں نے اسے ڈھانپ دینے کا حکم دیا تھا۔ ان کا خطرہ صحیح تھا کیونکہ گذشتہ سنیجر کونسل پرستی کے مخالف مظاہرین چرچل کے مجسمہ پر جمع ہوئے جن کے مقابلہ کے لیے دائیں بازو کے مظاہرین کی بڑی تعداد یہاں پہنچی جن کا مطالبہ تھا کہ یہاںسے نیلسن مینڈیلا کا مجسمہ ہٹایا جائے۔ دونوں فریقوں میں سخت جھڑپیں ہوئیں اور بڑی مشکل سے پولس کو ان دونوں فریقوں کو الگ الگ کرنا پڑا۔
عام طور پر چر چل کو برطانیہ کا قومی ہیرو مانا جاتا ہے لیکن ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو انہیں نسل پرست قرار دیتے ہیں ۔ چرچل، ہندوستان کی آزادی کے خلاف تھے ۔ ہندوستانیوں کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ ’’ میں ہندوستانیوں سے نفرت کرتا ہوں۔ یہ جنگلی لوگ ہیں اور ان کا مذہب بھی جنگلی ہے چرچل کا فلسطینیوں کے بارے میں کہنا تھا کہ یہ وحشیوں کا گروہ ہے۔
پچھلے دو ہفتوں کے دوران یہ حقیقت آشکار ہوگئی کہ برطانیہ صدیوں سے نسل پرستی کا گڑھ رہا ہے اور اب بھی اس کے سایہ سے چھٹکارہ نہیں ملا ہے ۔ برطانیہ کے سیاہ فام افراد اور ایشیائی1958 میںلندن کے ناٹنگل گیٹ کے نسلی فساد کو نہیں بھولے جب کہ سفید فام نسل پرستوں اور ویسٹ انڈیز کے تارکین وطن میں خویز جھڑ پیں ہوئی تھیں۔ لندن کے سائوتھ آل میں ایشیایوں اور نیشنل فرنٹ کے درمیان نسلی فساد بھی ایشیائیوںکو یادہیں 1981میں لندن کے برکسٹن کے علاقہ میں پولس اور ویسٹ انڈین تارکین وطن کے درمیاں فسا د بھی لوگ بھولے نہیں ہیں۔
برطانیہ میں سیاہ فام افراد اور ایشیائی روزگار کے سلسلے میں جس پوشیدہ اور کھلے عام نسل پرستی کا شکار ہیں اس کا ثبوت سیاہ فام افراد اورایشیائیوں میں بے روزگاری کی شرح ہے ۔ سفید فام افراد میں بے روزگاری صرف چار فی صد ہے جب کہ سیاہ فام افراد میں بے روزگاروں کی شرح نو فی صد ہے اور ایشائیوں میں بے روزگاروں کی تعداد آٹھ فی صدہے ۔