لا نبی بعدی

638

فرح مصباح
ایک سچا مسلمان جب اسلام کو دل سے قبول کرتا ہے تو کلمہ کی بنیاد پر قبول کرتا ہے۔ بیشک کلمے میں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کے ساتھ نبی کریمؐ کا آخری رسول ہونا ثابت ہوتا ہے۔ جب تک کوئی شخص ان دونوں چیزوں کا اقرار نہیں کرتا وہ مسلمان نہیں ہو سکتا۔ ایک مسلمان کے لیے سب سے قیمتی متاع آپؐ کی محبت اور فرمانبرداری ہے۔
سیدنا انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہؐ فرماتے ہیں: ’’تم میں سے کوئی اس وقت تک ایمان والا نہیں ہو سکتا جب تک میری ذات اس کے نزدیک اس کی اولاد، والدین اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہوجائے‘‘۔ (بخاری) لہٰذا ایک مومن مسلمان ہونے کے لیے ضروری ہے کہ آپؐ کی محبت تمام لوگوں حتی کہ گھر والوں سے زیادہ ہو۔
لا الہ الا اللہ کی تکمیل محمد رسول اللہ کے بغیر ممکن نہیں۔ اور محمد رسول اللہ پر ایمان لانا یعنی انہیں آخری نبی ماننا، ختم نبوت کو ماننا، آپ کی ذات کو ماننا، آپ کی صفات کو ماننا اور آپؐ کے تمام احکامات کو ماننا اور ان پر عمل کرنا ہے۔ ان باتوں کو اپنائے بغیر کوئی اچھا سچا اور پکا مسلمان ہو ہی نہیں سکتا۔ دوسری بہت اہم اور بنیادی چیز جو ایک مسلمان کے لیے ضروری ہے وہ عقیدہ ختمِ نبوت ہے۔ خود آپؐ فرماتے ہیں: ’’میں آخری نبی ہوں اور میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا‘‘۔ اور اگر کوئی شخص اس عقیدے پر ایمان نہیں رکھتا تو وہ ہرگز مسلمان نہیں ہو سکتا۔ آپؐ کے اس دنیا سے پردہ فرمانے کے بعد کئی لوگوں نے جھوٹی نبوت کا دعویٰ کیا اور پھر تہ تیغ ہوگئے۔ ہر عقل رکھنے والے انسان کو یہ بات باآسانی سمجھ میں آ جاتی ہے کہ جب نبی کریمؐ نے کہہ دیا کہ وہ آخری نبی ہیں اور ان پر نبوت ختم ہوئی تو پھر کوئی بھی عام انسان اٹھ کر نبوت کا دعویٰ کرے تو وہ ملعون کے سوا کچھ نہیں۔
ویسے تو ہر دور میں ایسے فتنے اٹھ کر آئے ہیں، لیکن باطل قوتوں نے جب کبھی اس فتنے کو اٹھایا تو عاشقانِ رسول نے اپنا سب کچھ ان کے خلاف وار دیا اور ثابت کیا کہ آپؐ خاتم النبیین ہیں۔ ہمارے معاشرے میں ہر مذہب کو اپنے حساب سے مذہبی امور ادا کرنے کا حق حاصل ہے، لیکن میری تحریر کا مقصد ان لوگوں کے ذہن کے دریچے کھولنا ہے جو قادیانیت کو ایک مذہب کہتے ہیں، یا وہ لوگ جو کسی طریقے سے بھی قادیانیت کے حق میں آواز بلند کرتے ہیں، یا وہ لوگ جو قادیانیوں کی برین واشنگ کے زیر اثر ہیں۔ پہلے وہ اس بات کو سمجھیں کہ عیسائیوں کا ایک مذہب ہے، یہودیوں کا بھی ایک مذہب ہے۔ اس طریقے سے بہت سارے مذاہب ہیں جو اپنے مذہبی شعار کو اپناتے ہیں۔ لیکن قادیانیوں کا کوئی مذہب نہیں وہ صرف اور صرف اسلام، نبی پاکؐ کے اور مسلمانوں کے دشمن ہیں۔
وہ عقیدہ ختم نبوت کو چھیڑتے ہیں۔ مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کرتے ہیں۔ اپنوں میں سے ہی کسی کو نبی بنا دیتے ہیں یعنی نبی کریمؐ کی حدیث کہ ’’میں آخری نبی ہوں‘‘ کو جھٹلاتے ہیں۔ اور پھر اسی جھوٹ کی تبلیغ کرتے ہیں اور پھر اپنے حقوق مانگتے ہیں اور خود کو مسلمان کہتے ہیں اور دوسروں کو دھوکہ دیتے ہیں۔ میں آپ کو چند باتیں ان کے عقائد کے حوالے سے بتاتی چلوں: جب وہ اذان میں اور قرآن میں اور کلمہ میں محمدؐ کا نام لیتے ہیں تو وہ محمد سیدنا محمد مصطفیؐ کو نہیں، بلکہ مرزا غلام احمد قادیانی کو کہتے ہیں۔ مرزا غلام احمد قادیانی وہ ملعون شخص تھا جو نجاست سے بھرپور تھا۔ ابھی بھی اگر آپ مرزا مسرور قادیانی کو دیکھیں جو اْن کا اس وقت کا خلیفہ ہے، تو اس کو قرآن بھی ٹھیک سے پڑھنا نہیں آتا ہے۔
مرزا غلام احمد قادیانی ایک جیب میں گڑ کی ڈلی رکھتا تھا اور ایک میں استنجا کے لیے ڈھیلا رکھتا تھا، اور اسے پتا بھی نہیں چلتا تھا کہ اس نے کب استنجا کے لیے گڑ کی ڈلی استعمال کر دی، اور ڈھیلا کھا گیا۔ وہ اس قدر غائب دماغ انسان تھا۔ کبھی خود کو سیدنا عیسٰی کہتا، کبھی امام مہدی کہتا، کبھی بیت اللہ کہتا، کبھی حجرۂ اسود کہتا، کبھی کرشن کہتا، کبھی کچھ کہتا تو کبھی کچھ کہتا۔ خود کی بیوی کو ام المؤمنین کہتا اور اپنے متبعین کو صحابہ کہتا۔ مختصراً یہ کہ اس کا جو دل چاہتا خود کے لیے القاب و الفاظ استعمال کر لیا کرتا تھا۔ آج کل کے دور میں ہر عقل اور شعور رکھنے والا انسان اس بات کو اچھی طرح سمجھ سکتا ہے کہ یہ سب جھوٹ کے سوا کچھ نہیں۔
مرزا غلام احمد قادیانی کی جب موت آئی تو وہ نجاست میں گر کر مرا۔ اگر وہ کوئی بھی روحانی شخصیت کا حامل شخص یا کوئی نبی ہوتا تو اس قدر بری موت کا شکار نہیں ہوتا۔ قادیانیوں کا اصل مرکز قادیان ہے۔ اسی لیے وہ قادیانی کہلاتے ہیں۔ ویسے وہ خود کو احمدی کہتے ہیں۔ قارئین کو ایک اور بات بتاتی چلوں کہ قادیانی بیرونی فنڈز پر کام کرتے ہیں جو انہیں مختلف اسلام دشمن عناصر سے ملتے ہیں۔ قادیانیوں کے اپنے قبرستان ہوتے ہیں جہاں انہوں نے جنتی قبرستان اور دوزخی قبرستان بنائے ہوئے ہیں۔ جو لوگ زیادہ فنڈز دیتے ہیں انہیں جنتی قبرستان میں، اور جو لوگ غریب ہوتے ہیں اور پیسے نہیں دے سکتے انہیں دوزخی قبرستان میں دفنایا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ جو قادیانیت کو چھوڑ کر اسلام کو اختیار کرتا ہے اس پر سخت ظلم و ستم ڈھائے جاتے ہیں۔ فیملی سے بھی دور کردیا جاتا ہے۔ ہر طرح کا معاشی اور سماجی بائیکاٹ کیا جاتا ہے۔ پھر بھی کوئی اسلام سے باز نہ آئے تو جسمانی ٹارچر بھی آزمایا جاتا ہے۔ اگر کسی کو ان واقعات پر تحقیق کرنی ہو تو وہ چناب نگر جاکر کر سکتا ہے۔ جی ہاں! وہی چناب نگر جسے جماعت احمدیہ کے دوسرے خلیفہ مرزا بشیر نے 1948 میں ربوہ کا نام دیا تھا۔ سرگودھا کے ایک ضلع بھیرہ میں ان کی پوری بستی موجود ہے۔ حکیم نور الدین قادیانی نے یہاں قادیانیت کا بیج بویا تھا۔ آج وہاں ان کی عبادت گاہیں ہیں، ان کے مکانات ہیں جو کہ مسلمانوں سے مختلف ہیں۔ وہاں کا آنکھوں دیکھا ایک واقعہ بیان کرتی ہوں۔ ان کی بستی کے قریب ایک غریب مولوی صاحب نے مدرسہ بنایا تاکہ اطراف کے مسلمانوں کے بچوں کو دینی تعلیم دیں، ان میں محمد عربیؐ کی محبت پیدا کریں۔ ساتھ میں چھوٹا مصلی بنایا تاکہ نمازیں ادا ہوتی رہیں۔ مگر کسی قادیانی کی آنکھ کو نہ یہ مدرسہ اچھا لگا، نہ بچوں کے قرآن پاک پڑھنے کی آواز پسند آئی، نہ خاتم النبیینؐ کی آنکھوں کی ٹھنڈک نماز پسند آئی۔ کبھی آکر مدرسے کی اینٹیں پھینک دیں، کبھی مولوی صاحب پر ٹارچر کیا، انہیں اٹھا کر بستی سے دور پھینک آئے، کبھی بلڈوزر سے کمزور دو کمروں کو گرا دیا۔ مگر وہ مولوی صاحب ایسا عاشق رسول ہے جس نے فاقہ کاٹا، ڈنڈے کھائے، جیل میں بند ہوا، لیکن نبی کی محبت میں اسی جگہ پر استقامت کے ساتھ آج بھی جما ہوا ہے۔ قادیانی کہتے ہیں کہ یہ لوہے کا بنا ہوا ہے۔ ہاں! محمد عربیؐ کا ہر سچا غلام فولاد سے بھی زیادہ مضبوط ہے۔ اس طرح کے ایک نہیں بہت سے واقعات ہیں جو حقیقت پر مبنی ہیں۔ لہٰذا ان ساری باتوں سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ قادیانی مظلوم نہیں بلکہ ظالم ہے۔ یہ باقاعدہ سوچی سمجھی سازش کے تحت مسلمانوں کو تکلیفیں پہنچاتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ لوگ بڑی ہوشیاری سے کالجز اور یونیورسٹیز میں اپنا پیغام پہنچاتے ہیں اور اپنی تبلیغ کرتے ہیں اور مسلمانوں کے ایمانوں کے دشمن بنے ہوئے ہیں۔
جب 1975۔ 1974 میں تحریک ختم نبوت چلی تو مسلمانوں کے تمام مسالک کے لوگ اپنے فروعی مسائل کو چھوڑ کر ایک پلیٹ فارم پر ان کے خلاف متحد ہو گئے۔ سب یہ جان گئے تھے کہ یہ کوئی فرقہ نہیں ہے، یہ دشمن کی ایک چال ہے۔ لیکن اب افسوس کا مقام یہ ہے کہ ہمارے گھروں میں یا ہماری نئی نسل کو اس بارے میں کچھ معلوم ہی نہیں۔ اس لاعلمی کی سب سے بڑی وجہ کتب بینی اور تاریخ سے دوری ہے۔ اب تو نصاب سے بھی بہت ساری ایسی چیزیں نکال دی گئی ہیں جو ختم نبوت کے حوالے سے ہے۔ اسکول اور کالجز میں اس قسم کی ڈسکشن نہیں کی جاتی۔ یہی وجہ ہے کہ آج کل کی نسل کو ختم نبوت کے حوالے سے کچھ خاص معلوم نہیں، اور اس پرفتن دور میں ان کے ایمانوں کو زیادہ خطرہ ہے۔ لہٰذا ہمیں گھروں میں، اسکولوں میں، کالجز میں، یونیورسٹیز میں حتی کہ ہر جگہ ختم نبوت کے بارے میں نہ صرف معلومات شیئر کرنی ہوں گی، بلکہ زیادہ سے زیادہ اس حوالے سے تبلیغ اور دوسروں کی رہنمائی بھی کرنی ہوگی تاکہ کوئی قادیانی کسی مسلمان کو تکلیف نہ پہنچا سکے بلکہ ہماری آنے والی نسلوں کے ایمان کی سلامتی بھی قائم رہے۔ کبھی کسی قادیانی سے یہ سوال تو پوچھیں کہ کوئی شخص اپنے ماں باپ بہن بھائی کی بے ادبی برداشت نہیں کر سکتا تو مسلمانوں کو جذباتی کہنے والوں یہ تو بتاؤ کہ ہمارے نبی کریمؐ کی ختم نبوت اور ناموس رسالت پر کیے جانے والا حملے کیسے برداشت کریں۔
دو بہت اہم باتیں قارئین کی نذر کرتی چلوں۔ یہ جو قادیانی اور احمدی حضرات ہوتے ہیں یہ ایمان کو کیسے خراب کرتے ہیں۔ ان کے دو طریقہ واردات اہم ہیں۔ پہلا طریقہ دلائل میں اْلجھانا۔ امام ابو حنیفہؒ فرماتے ہیں کہ اگر کسی نے دعویٰ نبوت کیا اور دوسرے نے اس سے دلیل مانگی تو دلیل طلب کرنے والا کافر ہوگیا، کیونکہ دلیل وہی انسان مانگے گا جس کے دل میں آپؐ کی ختم نبوت کے حوالے سے کوئی شک ہوگا۔ ہم مرزا کو ختم نبوت کا کسی بھی شکل میں انکار کرنے پر کافر مانتے ہیں۔ دوسرا طریقہ استخارے کی طرف لے جانا۔ ان کا طریقہ واردات یہ ہے کہ یہ کہیں گے کہ آپ استخارہ کرلو، آپ کو مرزا کی سچائی پتا چل جائے گی۔ امام شافعیؒ فرماتے ہیں کہ اگر کسی نے مدعی نبوت کے بارے میں استخارہ کیا تو وہ بھی کافر ہو گیا، کیونکہ آپؐ کے بعد نہ کوئی نبی آیا ہے، اور نہ آئے گا۔ نبوت آپؐ پر ختم ہو چکی ہے۔ یہ استخارے کے لائق عمل ہی نہیں ہے۔ میری گزارش ہے کہ اس پیغام کو جہاں تک ہو سکے پہنچایا جائے تاکہ ہم اور ہماری نسلیں اپنے ایمان کو محفوظ رکھ سکیں، اور ہر جھوٹے مدعی کو اس کے انجام تک پہنچنا پڑے۔