ایغور مسلمانوں پر مظالم کیخلاف چینی عہدیداروں پر امریکی پابندیاں

97

واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکی ایوان نمایندگان نے چین کے صوبے سنکیانگ میں ایغور مسلمانوں پر ظلم و ستم میں ملوث چینی عہدے داروں پر پابندیاں عائد کرنے سے متعلق مسودہ قانون منظور کر لیا۔ خبررساں اداروں کے مطابق مسودہ قانون میں چین پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ سنکیانگ کے نیم خود مختار علاقے میں ایغور مسلمانوں کو غیر قانونی طور پر حراست میں لے رہا ہے۔ ایوان نمایندگان میں رائے شماری کے دوران بل کے حق میں 413ووٹ اور مخالفت میں صرف ایک ووٹ آیا۔ مسودہ قانون پر رائے شماری سے قبل ایوان کی اسپیکر نینسی پلوسی نے کہا کہ امریکی ایوان ایغور اقلیت کے حقوق کی پامالی کے خلاف پیش کی گئی قرارداد کی بھرپور حمایت کرتا ہے۔ ذرئع ابلاغ کے مطابق یہ مسودہ قانون سینیٹ میں پہلے ہی منظور کیا جاچکا ہے اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دستخط کے بعد اسے قانونی حیثیت حاصل ہو جائے گی۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ واشنگٹن کے اقدام سے دنیا کی 2سب بڑی طاقتوں کے درمیان تعلقات کی کشیدگی مزید شدت اختیار کرجائے گی۔ واضح رہے کہ امریکی صدر کی جانب سے قانونی بل پر دستخط سے انکار کی صورت میں وہ اپنا ویٹو کا حق استعمال کرتے ہوئے اسے دوبارہ سے کانگریس میں بھیج دیں گے۔ وہاں قانونی بل پر دوبارہ رائے شماری کی جا سکتی ہے اور دو تہائی ارکان کی اکثریت کی حمایت حاصل ہونے پر صدارتی ویٹو ختم ہو جائے گا۔ ادھر اگر انہوں نے قانون کی منظوری دی تو چین کی جانب سے شدید ردعمل دیا جائے گا۔ چین نے گزشتہ برس دسمبر میں بھی دھمکی دی تھی کہ اگر امریکا میں ایغور اقلیت کے حوالے سے بیجنگ مخالف قانون بنایا گیا تو امریکا کو اس کی قیمت چکانا ہو گی۔ قبل ازیں اقوام متحدہ نے اپنی رپورٹوں میں ایغور مسلمانوں پر مظالم کی تفصیلات جاری کی تھیں۔ رپورٹ کے مطابق بیجنگ کے حکم پر سنکیانگ میں 10لاکھ سے زائد مسلمانوں کو قید میں رکھ کر مذہب بدلنے پر مجبور کیا جارہا ہے۔ چینی حکومت نے شر پسند عناصر کو قومی دھارے میں لانے اور ان کی ذہنی تربیت کے نام پر مسلمانوں پر زمین تنگ کردی۔ رپورٹ میں ایغوروں پر انسانیت سوز مظالم کی تفصیلات بھی بیان کی گئیں،جن کے مطابق مسلمانوں کے چہرے مونڈ کر انہیں حرام کھانے پر مجبور کیا جاتا ہے۔