مکمل یکجہتی، عوامی ریلیف ہی سے کورونا کی شکست ممکن ہے

113

محمد اکرم خالد
وطن عزیز اس وقت وبائی اور معاشی بحران کی زد میں ہے اس وائرس کے سبب انسانی ہلاکتوں کا سلسلہ دنیا بھر میں تھم نہیں سکا، پاکستان میں بھی اس وائرس کے سبب پانچ ہلاکتیں ہوچکی ہیں۔ کہا جارہا ہے کہ موسم گرم میں کورونا وائرس دم توڑ جائے گا جبکہ ہمارے ملک کی حکمران جماعت کی ایک وزیر صاحبہ فرما رہی ہیں کہ اب تو یہ وائرس ڈینگی کی طرح ہر سال آیا کرے گا۔حکمران جماعت ڈیڑھ سال سے چور ڈاکو کے نعرے لگا رہی ہے تو اپوزیشن سلیکٹیڈ نااہل نالائق کی صدائیں بلند کر رہی ہے یہی وہ غیر سنجیدہ سیاسی رویے ہیں جن کی وجہ سے آج تک ملک میں سیاسی استحکام پیدا نہیں ہوسکا اور عوامی مسائل حل کی جانب گامزن نہیں ہوسکے۔
آج ملک سنگین مشکلات میں مبتلا ہے۔ حکومت، اپوزیشن اور ادارے ناگہانی آفت پر بھی تقسیم ہیں۔ عوام کو ریلیف کے نام پر مزید مشکلات میں ڈالا جارہا ہے۔ سندھ حکومت نے اس ماہ کے یوٹیلیٹی بل ادا نہ کرنے کا اعلان کیا جبکہ KE ان بلوں کی تاریخ میں توسیعی کر رہی ہے۔ غریب مڈل کلاس خاندانوں میں حکومت کی جانب سے راشن کے اعلانات سیاسی شو کے سوا کچھ نہیں، وفاقی اور صوبائی حکومتیں عوام کو گھروں میں قید کرنے کے سوا کچھ کرتی دکھائی نہیں دے رہیں۔ جس طرح پانچ اگست کو مودی سرکار نے انسانیت کو کچلتے ہوئے پورے کشمیر میں کرفیو لگا کر اپنی دہشت گردی دنیا کے سامنے عیاں کی گھروں میں قید بے گناہ مظلوم کشمیریوں کو زندہ مارنے کی کوشش کی۔ بدقسمتی سے آج حکومت اور اپوزیشن کی جماعتیں بھی کچھ ایسا کرتی نظر آرہی ہیں۔ وائرس کے سبب عوام کو گھروں میں قید کرنے پر تو بھر پور زور دیا جارہا ہے مگر مزدور دہاڑی پیشہ لوگوں سمیت مڈل کلاس بھی روٹی سے پریشان دکھائی دے رہے ہیں، روز مرہ کی اشیا مہنگے داموں فروخت کی جارہی ہیں۔ گھر چلانے کے لیے تنخواہ دار طبقہ مشکلات کا شکار ہے پنشن کے سہارے جو بزرگ افراد ا پنا گزر بسر کرتے ہیں وہ اس وقت سخت اذیت میں مبتلا ہیں سفید پوش افراد سخت پریشانی میں مبتلا ہیں کوئی ان کا پُرسان حال نہیں۔
آج یہ قوم جن مشکلات کا شکار ہے اس کی تمام تر ذمے دار وفاقی اور صوبائی حکومتیں ہیں کورونا وائرس سے بچا کر عوام کو بغیر ریلیف کے گھروں میں قید کر کے بھوکا مارنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ مخیر حضرات فلاحی تنظیمیں تو اپنا کام کرتی دکھائی دے رہی ہیں مگر وفاق اور صوبے کہیں عوام کو ریلیف فراہم کرتے دکھائی نہیں دے رہے۔ بڑی معذرت کے ساتھ ایک ایسے وقت میں آج پوری قوم اللہ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگ رہی ہے ۔ گزشتہ روز ایک نجی ٹی وی چینل پر عالم دین طارق جمیل نے بڑی ہی بہترین دُعا کا آغاز فرمایا جس پر پوری قوم ان کے پیچھے ہاتھ اُٹھا کر اللہ سے اس وبائی بیماری سے نجات کے لیے اشک بار تھی اسی دوران طارق جمیل نے دُعا کو سیاسی رنگ دے ڈالا اللہ کی خوشنودی کو چھوڑ کر وزیر اعظم اور مسلح افواج کے سربراہان کے لیے دُعائیں مانگنا شروع کر دیں اور وزیر اعظم سے اپنے ذاتی تعلقات کی وضاحت پیش کرنا شروع کر دی، ان دُعائوں میں اگر میاں صاحب زداری صاحب کی صحت یابی اور ان کے لیے ہدایت کی دُعا بھی مانگ لی جاتی تو کوئی حرج نہ تھا۔ کیوں کہ دُعا کے دوران طارق جمیل صاحب کے پیچھے صرف تحریک انصاف سے منسلک عوام نہیں بلکہ تمام تر سیاسی جماعتوں سے منسلک لوگوں کے ہاتھ اُٹھے ہوئے تھے جن کی شاید دل آزاری ہوئی ہو۔ یہی وہ سیاسی دینی مذہبی رویے ہیں جن کی وجہ سے آج یہ قوم تعصبات اور فرقوں میں تقسیم ہے۔
اس وقت جب ملک سخت ترین مشکلات کی زد میں ہے کورونا وائرس نے دنیا بھر میں تباہی مچائی ہوئی ہے پاکستان جو معاشی طور پر ایک کمزور ملک ہے ایک بڑا طبقہ جو غربت کی زندگی گزارنے پر مجبور ہے ان کو وبائی مرض سے محفوظ رکھنے کے لیے حکومت جو اقدامات اُٹھا رہی ہے یقینا وہ درست ہوسکتے ہیں مگر ان اقدامات میں بڑی خامیاں اپنی جگہ موجود ہیں جن کو دور کیے بغیر نہ کورونا وائرس پر قابو پایا جاسکتا ہے اور نہ ہی عوام پر۔ سب سے پہلے تو فوری طور پر حکومت اپوزیشن مشترکہ پریس کانفرنس کر کے عوام کو اعتماد میں لیں لاک ڈائون یا کرفیو سے پہلے عوام کو اعلانات سے ہٹ کر عملی طور پر ہنگامی بنیادوں پر یقینی ریلیف فراہم کیا جائے قومیں حکومتوں کا ساتھ اُس وقت ہی دیتی ہیں جب حکومتیں اپنی قوموں کو مکمل ریلیف کی فراہمی یقینی بناتی ہیں۔ ایسا اقدامات سے گریز کیا جائے جو حکومت اداروں اور عوام کے بیج تصادم کا اندیشہ بن جائے لوگوں کو بغیر ریلیف کے گھروں میں قید کرنا یقینا ہمیں کسی اور جنگ میں مبتلا کر سکتا ہے یہ قوم معاشی طور پر مفلوج ہے اس کے زخموں پر مزید نمک پاشی سے گریز کیا جائے ایسا نہ ہو کہ ہم کورونا سے جنگ کو چھوڑ کر آپس کی جنگ میں مبتلا ہوجائیں۔ حکومت، اپوزیشن، ادارے، علماء و مشائخ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے عوام کو ریلیف اور کورونا وائرس کو شکست دیتے ہوئے اللہ سے اپنے گناہوں کی معافی طلب کریں تاکہ آئندہ ہمیں ایسی آزمائش کا سامنا نہ کرنا پڑے۔