ایڈہاک پر تعیناتیاں کسی صورت قابل قبول نہیں،ینگ ڈاکٹرایسوسی ایشن

52

کو ئٹہ(نمائندہ جسارت)ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان نے کہا ہے کہ ایڈہاک بیسڈ تعیناتیاں کسی صورت قابل قبول نہیں،صوبے میں ایڈہاک اور کنٹریکٹ کے نام پر ڈاکٹروں کو تضحیک اور دھوکا دہی کا نشانہ بنایا جاتا جارہا جوکہ ان کی ڈگریوں اور مستقبل کیساتھ ایک گھنائونے مذاق سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔ینگ ڈاکٹرز کے ترجمان کے مطابق وزیر اعلیٰ بلوچستان اور صوبائی سیکرٹری صحت اپنی نااہلی اور ناکامی چھپانے کیلیے ایڈہاک کے نام پر صوبے کے ڈاکٹرز،ہیلتھ سسٹم اور ان غریب عوام کیساتھ اس گھنائونے مذاق کے بجائے سپریم کورٹ کے فیصلے پر فی الفور عمل درآمد کرتے ہوئے صوبے کے دور دراز ڈسٹرکٹس میں پچھلے ایک سال کا کنٹریکٹ مکمل کرنے والے بیروزگار ڈاکٹروں کی اپنے ڈسٹرکٹس میں مستقلی کے احکامات جاری کیے جائیں،تاکہ اپنے متعلقہ ڈسٹرکٹس میں تعینات ڈاکٹرز موجودہ ایمرجنسی صورتحال میں مکمل یکسوئی کیساتھ اپنی خدمات انجام دے سکیں،موجودہ ایمرجنسی صورتحال میں جہاں دنیا بھر میں ڈاکٹروں کی مستقل بنیادوں پر تعیناتیاں اور ہیلتھ سسٹم کی بہتری پر ایمرجنسی بنیادوں پر کام کیا جارہا ہے وہاں حکومت بلوچستان ایڈہاکزم کا سہارا لیتے ہوئے صوبے کے ہیلتھ سسٹم کو مزید تبائی کے دہانے پر لے جارہی ہے۔ترجمان نے واضع کیا کہ صوبے میں شعبہ صحت کو تباہی سے بچھانے اور حکومت کی جانب سے غلط پالیسیوں کے خلاف روز اول سے ہی آواز اٹھاتے رہے ہیں لہٰذا ان ایڈہاک بیسڈ تعیناتیوں کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں۔ترجمان نے مذید کہا کہ مشکل کی اس گھڑی اور موجودہ ایمرجنسی حالات میں عوام کے ساتھ کھڑے ہیں ترجمان نے تمام ینگ ڈاکٹرز سے تاکید کرتے ہوئے کہا کہ تمام ینگ ڈاکٹرز موجودہ کورونا کرائسسز میں بطور رضا کار کسی بھی ایمرجنسی صورتحال سے نمٹنے کیلیے ہمہ وقت تیار رہیں،صوبے کے عوام کو کسی بھی صورت حکومتی غلط پالیسوں کے کی وجہ سے مشکلات کا سامنا نہیں کرنے دیں گے۔