ہر مشکل کے بعد آسانی

590

عالیہ زاہد بھٹی
مغرب کے بعدکا وقت کراچی کی اوسط درجے کی آبادی کا ایک عام سا گھر،اس میں موجود آٹھ نفوس اپنے رب کے آگے بیک وقت سر بسجود تھے،
جب سختی کے بعد نرمی ہو،جب مشکل کے بعد آسانی ہو،جب ناامیدی کے بعد امید ہو،اور خاص طور پر جب میرا رب کسی”شر”میں سے خیر نکال دے تو میرا خیال ہے کہ وہ انسان جس کے ساتھ یہ مذکورہ “وارداتیں” ہوں وہ ان لمحوں میں اپنے آپ کو دنیا کا خوش قسمت ترین شخص خیال کرتا ہے
میں بھی اپنے آپ کو اتنا ہی بلکہ اس سے بھی بڑھ کر خوش نصیب خیال کر رہی ہوں،
کہ یہ گھر میرا ہے جس کے آٹھ نفوس اپنے رب کے آگے جھکے ہوئے ہیں
پریشان نہ ہوں میں آپ کو تفصیل بتاتی ہوں
“ہوا کچھ یوں کہ” کورونا ” فتنہ جیسے ہی کراچی میں نمودار ہوا اس سے پہلے وہ اپنی نحوست کی دھاک دنیا سمیت ہم اہل کراچی پر الیکڑانک ،پرنٹ اور سوشل میڈیا کے ذریعے بٹھا چکا تھا،بن دیکھے ہی لوگ نفسیاتی مریض ہو چکے تھے۔
“کو رونا آنے والا ہے،کورونا آرہا ہےکورونا آگیا”
کچھ اسی طرح کی میڈیا ریٹنگ کا شکار میاں جی تو لیپ ٹاپ گود میں رکھ کر ہر صبح ناشتے کے ساتھ ہیڈ لائن سنتے ہوئے فری لانس ماہر صحافی کی طرح تبصرے سناتے بچوں کے ایمان کا امتحان بن رہے تھے،انہیں لاکھ سمجھایا،قرآن وحدیث سے دلائل دیئے مگر پروفیسر کے آگے بے چاری لیکچرر بھلا کہاں ٹک سکتی ہے،جواباً وہ بھی قرآن وحدیث کے حوالے سے ہی احتیاطی تدابیر پر دلائل کی بھرمار کر چکے تھے
اور سونے پر سہاگہ یہ شخص حکومت کے اعلان پر یونیورسٹی بند،اسکول بند،کالج بند،اور اب تک پتانہیں کیا کیا بند ہو کر رہ گیا
بھاری بھرکم”بھائی”جب یہ سب کچھ بند کراتے تھے تو ان حدود اربع اور”کچاچٹھا” جان کر سب بند ہو جانے کی وجہ سمجھ میں آتی تھی
مگر اب یہ منحنی سا لرزیدہ،خوابیدہ،کسی قدررنجیدہ وپیچیدہ مائکرو سکوپک وجود اور اس کے شہر بند کرا دینے کی”بھائی گیری” میری ناقص عقل سے ماوراتھی،اوپر سے صبح دوپہر شام تک ایک ہی موضوع ایک ہی گفتگو ایک ہی خوف جو اب فرسٹریشن میں بدلتا جا رہا تھا کہ میاں صاحب نے ایک اور حکم کا گولہ فائر کیا
“آپ بچوں کو لیکر جمعہ پڑھنے نہیں جائیں گی”
ہائیں،میں ششدر رہ گئی،
“آپ بھول رہے ہیں سر جی یہ میرا میکہ نہیں “دین” ہے جس پر نو کمپرومائز آپ نے میکے سے روکا ہم رک گئے آپ کو ہماری میکے میں آمدورفت پسند نہیں تھی کم کردی،والدہ کی بیماری پر آپ کی طرف مسائل تھے ہم نے صبر کیا وہ وفات پاگئیں ہم ناگزیر وجوہات کی بنا پر منع کردیئے گئے،منع ہو گئے یہی سوچ کر کہ آپ کی رضا جنت ملے گی اور اس جنت میں اس صبر پر میرے والدین بھی اعلی مقام پالیں گے تو ان سے وہاں ملاقات ہو جائے گی،اس پر صبر آگیا
مگر اسی رب کی نماز کی مسجد میں ادائیگی پر پابندی،نہیں یہ نہیں”
جذبات اس پابندی کو قبول نہیں کر پارہے تھے
“بیبی!تمہارے اور بچوں کے بھلے کو ہی کہہ رہا ہوں کہ فتنوں اور بلاؤں سے بچنے کا حکم بھی ہمیں ہمارے دین نے سکھایا ہے وبا سے بچنا اور انسانی جان کو ہلاکت سے بچانا سب سے بڑی عبادت ہے ” (جاری ہے)
وہ میری اس بارے میں فلاسفی جانتے تھے کہ ہمارے جمعہ کے اجتماعات ہمارے گھروں کے تمام بچوں کی تربیت کا انتہائی موثر ذریعہ ہیں جو باتیں ہم نہیں سمجھا پاتے وہ جمعہ کی پر نور ساعتوں میں امام صاحب کی خطابت میں اچھی طرح سمجھ آجاتی ہیں اور رجوع الی اللہ کا بہترین ذریعہ بھی ہوتی ہیں
“مگر احتیاط اپنی جگہ آپ تو اس طرح بچوں کو اللہ کے خوف سے دور اور کورونا کے خوف میں مبتلا کر دیں گے
پورا میڈیا احتیاط کی آڑ میں”وہن”کی بیماری لگا رہا ہے یعنی موت کا خوف ،احتیاط تو عام فلو میں بھی کرنی ہے اور میرا دین تو ہے ہی سراپا پاکیزگی،اور مساجد سے روکنا؟
مساجد تو حفاظت کا ذریعہ ہیں یہ آپ کو کیا ہوگیا ہے،آپ کو تو تیز برستی بارشوں میں میں روکتی ہوں مگر آپ پھر بھی جماعت سے نماز کو ترجیح دینے کا کہہ کر مسجد چلے جاتے ہیں اور آپ مجھے بلکہ ہمیں روک رہے ہیں”
میں بہت زیادہ شاکڈ تھی
“ارے بھئی میں تو جاؤں گا تمہیں اور بچوں کو روک رہا ہوں کہ تم پر اور بچیوں پر تو جماعت اور جمعہ لازم نہیں اور بچے بھی ابھی فرض کی عمر پر نہیں تو احتیاط کر لو”
وہ قطعیت سے بولے،یعنی اب مزید بحث نہیں
میں کمرے میں آکر اپنے رب سے شکوے شکایتیں کرنے بیٹھ گئ کہ میری استاد کہا کرتی تھیں کہ کسی اور کو کہنے سے بہتر ہے سب اسی سے کہہ دیا کرو وہ ہے ناں سنبھال لے گا ،میں بھی جب کمرے سے نکلی تو آنکھیں سوجی ہوئ مگر دل تروتازہ تھا کہ
“وہ ہے ناں،سب سنبھال لے گا”

ابھی یہ غم تازہ ہی تھا کہ دنیا میں آتے پے درپے فتنوں کی بارش میں بہت کچھ سننے میں آتا رہا مگر شام ڈھلے علماء کرام کی کونسل سے بھی اعلامیہ نشر ہو گیا کہ
جمعہ کو صرف دو فرض،عربی مگر مختصر خطبہ اور جلد واپسی اور گھروں میں سنتوں کی ادائیگی کی جائے
میں اور پریشان اور میاں صاحب بضد کہ اب باقی نمازوں میں بھی احتیاط کرو بیٹوں کو مسجد نہ بھیجو دونوں آلریڈی فلو اور بخار کی کیفیت میں مبتلا ہیں ان کو بھی نقصان ہوگا اور دوسرے بھی ان سے متاثر ہو سکتے ہیں سو نماز ان کو گھر پر ہی پڑھواؤ،
میں نے پھر آسمان کی طرف دیکھا کہ کب تک مدد آئے گی؟
کہاں ہے مشکل کے بعد آسانی؟
میں بھیگی آنکھیں صاف کر کے اپنے کام سے لگ گئی
عصر کی نماز کے بعد میاں صاحب کی واپسی چھینکوں کے ساتھ ہوئ اور مغرب کی نماز میں میری آنکھوں نے اپنے عام سے گھر کے عام سے قدرے بڑے کمرے میں 8جائے نماز صف در صف بچھتے دیکھیں
سب سے آگے ایک جائے نماز میاں صاحب کی
اس کے بعد دو،دونوں بیٹوں کی
اور پھر 4جائے نماز میری چار رحمتوں کی اور ان کے ساتھ ہی پانچویں میری
یہ تھی اس گھر کے ماشااللہ آٹھ نفوس پر مشتمل جماعت نماز مغرب کی
فرضوں کے بعد آیت الکرسی،پھر اجتماعی استغفار واذکار پھر سنت ونوافل کی ادائیگی کے بعد اجتماعی دعا
اللہ اکبر ، اللہ اکبر
اللہ جی میں نے تو صرف جمعہ کی نماز جماعت سے پڑھنی چاہی تھی آپ نے باقی نمازوں کی جماعت بھی دے دی کون کہتا ہے کہ مسجدیں ویران ہو گئیں
ارے گھر جو ویران تھے اللہ کے ذکر کے اصل طریقہ حسن سے ناآشنا تھے وہ آباد ہو گئے تو مسجدیں کیسے ویران ہو سکتی ہیں
میرے بچے کہہ رہے تھے کہ ڈیڈی جس طرح ٹہر ٹہر کر نماز پڑھاتے ہیں اور بعد میں ہماری نماز کی غلطیوں کو پوائنٹ آؤٹ کرتے ہیں اس سے تو ہماری نماز اچھی ہوئ اور دل بھی زیادہ لگا نماز میں،آئندہ ہمیشہ کے لئے یہی کریں گے کہ ڈیڈی لوگ طبیعت ٹھیک ہونے کے بعد بھی فرض نماز تو مسجد میں پڑھ کر آئیں مگر سنت ہمارے ساتھ ادا کریں تاکہ ہم بھی جماعت کی مضبوطی اور قوت اپنے اندر اتار سکیں
اجتماعی استغفار،اجتماعی دعا،اجتماعی نماز دلوں کو کتنی مضبوطی اور طاقت عطا کرتا ہے یہ تو ہم نے اب جانا
میرے کانوں میں گونج رہا تھا
فاِنَّ معَ االعسرِ یُسرا
اور سب بچے ڈسکس کر رہے تھے کہ اگلی نماز کے ساتھ کونسی سورت لیں تاکہ اس کی تفہیم کی تیاری کی جائے
میں نے آسمان کی طرف دیکھا
“ہاں اللہ جی میں شاید بہت جلد باز واقع ہوئی ہوں فوری نتیجہ چاہنے والی،جبکہ آپ کے تو ہر فیصلے میں حکمت ہے،تدبر ہے،امید ہے آس ہے آپ کا حکم تو لاگو ہو کر رہے گا خواہ جلدی یا دیر سے وہ نافذ ہونے کے لئے ہی آیا ہے
مجھے یاد آیا کہ آخری لمحات میں اپنی ماں سے نہ مل سکنے کا ملال مجھے کتنا پژمردہ رکھتا تھا حالانکہ امی نے فون پر یہی کہا تھا ناں کہ شوہر کی نافرمانی کرکے اللہ کو ناراض نہ کر لینا ہمارے درمیان ابھی بہت فاصلہ ہے جو تم نے اللہ کی رضا پالی تو جنت میں ہم ملیں گے تمہارے ابو بھی ہوں گے وہاں تم جلد بازی میں رب کی جنت سے دور نہ ہو جانا وہ قریب ہے بہت قریب
پھر میں نے اپنی ماں کے انتقال کے بعد دیکھا کہ اس وقت نہ جانے دینے پر شرمندگی اتنی ہے کہ آج ہر وہ دینی اجتماعیت کہ جس پر جانے کے لئے اکثر باتیں سننی پڑتی تھیں آج وہاں جانے کے لئے پک اینڈ ڈراپ کی سہولت دی جاتی ہے جنت کے ان قافلوں میں ہمرکاب ہوا جاتا ہے
تمہیں دنیا کا جلد حاصل ہونے والا فائدہ چاہیے یا آخرت؟
ہر مشکل کے بعد آسانی
میری استاد کی دعا
یااللہ شر میں سے خیر نکال
گھر میں پڑھی جانے والی نماز باجماعت میں سب سے چھوٹی بیٹی جو پونے دوسال کی ہے،جسے ڈاکٹرز کہتے تھے کمزور ہے ہر کام دیر سے کرے گی اپنی عمر کے مطابق نہیں تو وہ بھی نماز میں جب ہاتھ سینے پر باندھ کر اپنی توتلی زبان میں بولی
اللہ اکبر
تو ہم حیران رہ گئے کہ یہ تو سورہ رحمن سن سن کر کافی زیادہ فعال تو ہوچکی تھی سہارے سے کھڑے ہونا خود کھانا پینامگر بولنے میں مشکل تھی اس نے بھی کہہ دیا
اللہ اکبر
یہ بچی عام بچوں کے مقابلے میں دیر سے بیٹھی،دیر سے گردن ٹھہرائی،دیر سے چلنے کی کوشش کی مگر آخرت کے سودے میں بازی لے گئ کہ جس کا پہلا ادا ہونے والا لفظ
اللہ اکبر
کورونا کی احتیاط،کورونا کا خوف،کورونا سے درپیش مسائل
کورونا یوں،کورونا سے طواف کا رکنا،نمازوں کا چھٹنا مسجدوں کا ویران ہونا یہ سب پروپیگنڈہ ہے،دجالی فتنہ ہے کہ
جو ہے اصل میں وہ نہیں اور جو نہیں وہ ہے
اس لایعنی نظریات کی جنگ میں پڑے بغیر ابراہیم علیہ السلام کی سی یکسوئی سے اپنے رب کو پکاریں ہو سکتا ہے جو ہماری نگاہ میں شر ہے وہ رب اسی میں سے خیر نکال دے
جسے ہم نقصان سمجھ رہے ہیں وہ وقتی ہے،اس کے بدلے دائمی فائدہ ہمارا منتظر ہے
آج طواف تھوڑے عرصے کو رک گیا،پھر رواں ہو جائے گا
مگر سائنس آج رب کی قدرت کے آگے سرنگوں ہو گئ،ٹیکنالوجی ڈھیر ہو گئ ،مانا کہ طاغوت کا اپنا جال تھا
مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ
“آپ اپنے دام میں صیاد آگیا”
نائن الیون میں مانا کہ نقصان مسلمانوں کو ہوا بچا امریکا بھی نہیں
نائن الیون کے بعد دنیا میں جس رفتار سے اسلام پھیلا وہ بھی تاریخ کا سچ ہے
سو جتنے بھی میرے جیسے جلد باز افراد ہیں جو جلد ہی فائدہ چاہتے ہیں وہ سن لیں
اللہ اس کورونا پر صبر کر کے رجوع الی اللہ کی طرف لوٹے گا،کورونا سے نہیں اپنے رب سے صرف اپنے ہی رب سے ڈرے گا احتیاط بمعنی احتیاط ہی لے گا اور بندگی اور خوف صرف رب کا اختیار کرے گا تو اس کے لئے رب کا وعدہ ہے کہ
“انہیں نہ کوئی رنج ہوگا نہ ہی وہ غمگین ہوں گے”
بس کرنا صرف یہ ہے کہ فرصت کے ان لمحات کو کیش کرانا ہے اپنے اکاؤنٹ میں حفظ قرآن،تذکیرقرآن،تذکیہ نفس،محاسبہ ذات آور سب سے بڑھ کر اپنی اپنی رعیت کے ساتھ زیادہ سے زیادہ وقت گزارنے کی کوشش
تاکہ رب کی قائم کردہ جنت میں ان سب کے ساتھ ہمیشہ کا ساتھ پکا کرا لیں
میں نے ہمیشہ کی طرح آسمان کی طرف دیکھا
مگر اب ان نگاہوں میں شکایتیں نہیں تشکر تھا
“اللہ جی مرے امی ابو کو بتا دیں کہ میں اپنی پوری رعیت کے ساتھ ان سے دائمی ملاقات کی تیاری کر رہی ہوں آپ اپنا وعدہ یاد رکھئے گا اللہ جی”
میں نے بہت امید سے ، یقین کے ساتھ اپنی نگاہیں نیچی کر لیں
آسانیوں کو سوچنے کے لئے جو میرا رب مجھے دے رہا ہے