اونٹ پہاڑ تلے

262

مہوش حیات

’’شنو او شنو… اری کہاں رہ گئی کیا صرف اوپر ہی لگی رہے گی یا نیچے بھی کچھ کرے گی پورا گھر سر پر آ رہا ہے۔‘‘
صفیہ سیڑھیوں پر کھڑے خاصے کڑوے لہجے میں شنو کو یاد کر رہی تھی اسے دیکھتے ہی شنو کی مسکراہٹ یکدم غائب ہو گئی…’’ وہ… جی …وہ ‘‘
’’ وہ یہ مت کر تجھے کتنی دفعہ کہا ہے پہلے نیچے کی صفائی کیا کر پھر اوپر جا یا کر مگر تیری سمجھ میں تو کچھ آتاہی نہیں ہے ‘‘
’’جلدی ہاتھ چلا‘‘ شنو کو ہدایات دیتے ہوئے باہر جانے لگی اسی اثناء میں صدف بھی اپنے کمرے سے نکلتی لائونج میں آ گئی ’’ سلام بھابھی‘‘
’’اوہو… ہو گئی آپ کی صبح میڈم مانا میں اس گھر کی بڑی ہوں ، زیادہ ذمہ دار و زیادہ قابل ہوں لیکن چھوٹی بہو ہونے کے ناتے آپ کا بھی کچھ فرض بنتا ہے یا نہیں سارا دن میں کولہو کے بیل کی طرح گھر میں جتی رہتی ہوں اور آپ ہیں کہ فرصت ہی نہیں آرام سے ’’ صفیہ نے صدف کو دیکھتے ہی توپوں کا رخ اس کی طرف کر دیا ، صدف بیچاری بس چپ ہی رہ گئی وہ تھی ہی ایسی صفیہ بھابھی کی ہر کڑوی کسیلی بات چپ کر کے سن لے تی تھی ورنہ حقیقت یہ تھی کہ صفیہ چاہتی ہی نہیں تھی کہ اس کی سلطنت میں کوئی دخل اندازی کرے ۔
’’خیر آپ کو اگر توفیق ہو جائے تو دال چاول چن کر دھو کر رکھ دیجیے گا میں آ کر پکا لوں گی کیوں آپ سے تو کچھ ہوگا نہیں میں ذرا سبزی لے کر آتی ہوں’’ صفیہ معمول کے مطابق سبزی لینے نکل گئی ، واپسی کم ازکم ایک گھنٹے پہلے نہیں ہونی تھی اب محلہ کا حال احوال بھی تو لینا ہوتا ہے نا ‘‘
’’صفو…صفو…ماجد، صدف ، نومی سب کو بلائو جلدی ۔
کیا ہوا اتنی عجلب میں کیوں ہیں کیا کوئی خاص بات ہے ؟’’ صفیہ نے اپنے شوہر آصف کو خاصہ پریشان دیکھا۔
’’ہاں ظاہر ہے جبھی سب کو بلا رہا ہوں ضروری بلکہ بہت ضروری ہے‘‘
تھوڑی دیر میں سب گھر والے ایک جگہ جمع تھے ۔
’’ تو بہ توبہ… مجھے تو پہلے ہی شک تھا لیکن یہ پھوپھو… یہ پھوپھو جان یہ بھی ملی ہوئی تھی ابا جان کے ساتھ ارے یہ تو اللہ اللہ کرنے کے دن تھے ان کے ’’ صفیہ کی زبان پھر نیزے برسانے لگی ۔
’’بھائی جان اب کرنا کیا ہے یہ بتایے ، ماجد نے بڑے بھائی سے استفسار کیا ’’ کرنا کیا ہے بھئی ابھی تو صرف نکاح ہوا وہ بھی دونوں پھوپھیوں کی سر پرستی میں میرے پاس آفس میں بڑی پھوپھو کا فون آیا تھا ۔ اب پورے ایک ہفتے بعد محترمہ با قاعدہ رخصت ہو کر یہاں آئیں گی ۔ پھوپھو جان تو بہت تعریفوں کے پل باندھ رہی تھیں کہ اس کی اشد ضرور بھی تھی ۔ اس گھر کو ایسی ہی سمجھدار اور سلیقہ مند خاتون کی ضرورت تھی ۔ یہ سنتے ہی صفیہ کے تن بدن میں آگ لگ گئی گویا ایک نیا چیلنج اس کے سامنے منہ کھولے کھڑا تھا ۔
’’ کیا مطلب ہے میں نے یہاں اپنے آپ کو ختم کر لیا اس گھر کے چکر میں اور اب ایک خاتون کو ہم پر مسلط کیا جا رہا ہے ۔ کیا اس گھر کے معاملات میں اچھے سے نہیں چلا رہی تھی ارے کہاں کوئی کمی ہے ب تایے مجھے کوئی…’’صفیہ بیگم نے روایت کے مطابق پھر لعن طعن شروع کر دی’ ’پلیز صفیہ میں خود خاصہ پریشان ہوں تم یہ رونا پیٹنا بعد میں کر لینا میں کمرے میں جا رہا ہوں میرے لیے چائے لے کر آئو’’ آصف جو خاصہ پریشان تھا بہت عرصے بعد بیوی سے اس لہجے میں بات کر رہا تھا ورنہ اس کی کیا مجال…
سب کچھ معمول کے مطابق تھا پھر بھی غیر معمولی سب ڈائننگ پر بیٹھے ابا میاں کی طرف سوالیہ نظر سے دیکھ رہے تھے کہ اب وہ کچھ کہے اب کچھ کہے خیر سے جب کھانے سے فارغ ہو کر اُٹھنے لگے تو سر فراز صاحب نے بہت با رعب آواز میں سب کو مخاطب کیا ’’ میں جانتا ہوں آپ سب لوگوں کے ذہن میں اس وقت بہت سے سوالات ہوں گے کہ مجھے اس شادی کی ضرورت کیونکر پڑ گئی ۔ تو اس کا یہیجواب ہے کہ اس کی اشد ضرورت تھی اس گھر کو صحیح معنوں میں ایک ذمہ دار اور سگھڑ خاتون کی ضرورت تھی سر فراز صاحب نے صفیہ پر ایک اچٹتی نظر ڈالتے ہوئے کہا ، نکاح آپ کی دونوں پھوپھوں کی سر پرستی میں ہوا ہے اب ان شاء اللہ ایک ہفتے بعد نرگس بیگم اس گھر آ جائیں گی امید ہے کہ آپ سب لوگ میرے اور ان کے ساتھ تعاون کریں گے اور یقین رکھیں گے کہ میرا یہ فیصلہ سبھی کے حق میں بہتر ہے ‘‘ ابا میاں یہ سب فرما کے یہ جا وہ جا سب ایک دوسرے کو تکتے رہ گئے سوائے صفیہ بیگم کے جو اس وقت انگاروں پہ لوٹ رہی تھیں ابھی انہوں نے منہ کھولا ہی تھا کہ ننھی کرن آ گئی ۔
’’ ماما میری اردو کی بک نہیں مل رہی آپ نے دیکھی ہے؟
’’ہاں میری جیب میں ہے ‘‘ صفیہ بیگم میں کرخت آواز میں کہا وہیں ہو گی ڈھونڈ و گی تو ملے گی ناں!! ذرا خیال نہیں رکھتی اپنی چیزوں کا اب میں اکیلی کیا کیا دیکھوں اوپر سے کہا جاتا ہے کہ میں ذمہ دا نہیں…’’بس بس صفیہ چپ کرو اور جا کر دیکھو اس کی کتاب کہاں ہے ‘‘ آصف نے بھی صفیہ کو ہی جھاڑ دیا ۔
اونہہ چلو بتاتی ہوں تمہیں تو میں…صفیہ پائوں پٹختی لائونج سے نکل گئی ۔
صبح ہی سے گھر میں افرا تفری مچی ہوئی تھی نئی’’ اماں‘‘ کے استقبال کے لیے جو جو ہدایات دی گئیں تھیں ان پر عمل درآمد ہو رہا تھا ۔ ’’ اف اس قدر گرمی میں ذرا احساس نہیں ہے کہ کھانا باہر سے منگوا لیتے اب چار پانچ کلو کھانے میں پیسے ہی کتنے لگتے ہیں پھوپھو کو دیکھو اپنے گھر بیٹھ کر احکامات جاری کر رہی ہیں کہ یہ کرو وہ کرو یہ پکائو وہ پکائو اتنی سڑی گرمی میں جب سب ہو جائے گا تو آ جائیں گی اپنے کنبہ کے ساتھ ’’دعوت‘‘’’ کھانے‘‘ صفیہ اپنی آستین سے ماتھے پر آئے پسینہ صاف کرتے خود کلامی فرما رہی تھی یونہی جلتے جلاتے سارے کام نبٹائے اور خیر سے وہ وقت بھی آ ہی گیا کہ نوبیاہ تا جوڑا گھر میں آ گیا ’’اُف… اللہ صفیہ ، صدف، آصف ، ماجد ، نومی سب کے اس وقت ایک جیسے تاثرات تھے ۔ نرگس جی نرگس بیگم تھا ان کا نام اتنی سرخ و سفید و ترو تازہ کہ ہاتھ لگائو تو میلی ہو جائیں ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے کوئی ملکہ آ گئی ہو اور صفیہ اور صدف تو ان کے آگے ماسیاں لگ رہی تھیں ، یہ سب تو ظاہری تھا اب جواباً میاں نے ان کی قابلیت و ذہانت اور سگھڑاپے کے قصیدے شرع کیے تو بس ۔
’’نرگس بیگم بی اے پاس زمیندار گھرانے سے چھ بھائیوں کی اکلوتی بہن ہیں چار بھابھیوں و ان کے بچوں اور سب بھائیوں کو سنبھالے ہوئے تھیں گھر کی کرتا دھرتا تھیں یہ وہ … اور ہاں یہ ان کی پہلی شادی ہے ‘‘ یہ سب کچھ بتانے کے بعد گھر والوں کا باری باری تعارف کروایا گیا ۔ یہاں بھی صفیہ بیگم کو سبکی کا سامناکرنا پڑا جب سسر صاحب نے فرمایا کہ امید ہے کہ آپ کی سر پرستی میں صفیہ کو بھی گھر گھرستی کا صحیح طورطریقہ آ جائے گا ’’ کھانے وغیرہ سے فارغ ہو کر جب سب نے اپنی اپنی راہ لی تو نوبیاہتا جوڑے نے بھی اپنے کمرے کا رخ کیا ۔
بات سنیں یہ کیا تماشا ہے آپ کے ابا کوئی لڑکے بابے ہیں جو ایسی حرکتیں کرتے پھر رہے ہیں ۔ یہ عمر تو ان کی اللہ اللہ کرنے کی تھی نا کہ شادی کی اور چلو گر کرلی تو سو کر لی اوپر سے ان خاتون کو بھی لا کر ہمارے سر پر مسلط کر دیا ۔ گھر کی مالکن بنا کر بس اب دیکھ لیجیے گا اس گھر کا تو اللہ ہی حافظ ہم سب کو نکلوا کر چھوڑیں گی ۔ ارے انہیں کیا ضرورت پڑی ہے گھر گھرستی کی اور دیکھ کر ہی لگ رہا ہے کہ کتنا نخرہ ہو گا… اُف’’صفیہ اب بس بھی کر دو کسی وقت تو در گزر کر دیا کرو وہ ایسی تو نہیں لگ رہیں‘‘ لگ رہا تھا آصف ابھی بھی اپنی’’نئی اماں‘‘ کے زیر اثر ہیں جو اس کو اس طرح ٹوکا تھا ۔
آپ بھی ناں صفیہ پائوں پٹختی کمرے کی طرف چل دی ۔
ابھی نرگس بیگم کو اس گھر آئے چند دن ہی ہوئے تھے لیکن ان چند ہی دنوں میں گھر میں واضح فرق نظر آ رہا تھا کوئی تھا جو ہر چیز کا حساب کتاب رکھ رہا تھا ہر شخص کو اپنی من مانی کرنے کی اجازت نہیں تھی ۔ ابا توصبح کے گئے شام کو آتے اور گھر کی ساری کرتا دھرتا صفیہ بیگم ہی تھیں اب وہ سیاہ کریں یا سفید ان کی مرضی۔
’’ یہ گھر میں گروسر ی کون لاتا؟’’نرگس بیگم ناشتہ سے فارغ ہوتے ہی کچن میں آ گئی جہاں صفیہ دوپہر کے کھانے کی تیاری کر رہی تھی ۔
’’ میں لسٹ بنا دیتی ہوں ابا میاں کو اور وہ سامان لا دیتے ہیں کیوں آپ کیوں پوچھ رہی ہیں؟‘‘
’’ میں اس لیے پوچھ رہی ہوں کہ جب پہلے سے سامان موجود ہے تو نیا لانے کی کیا ضرورت ہے ؟ بندہ دیکھ تو لیتا ہے کہ کیا ہے کیا نہیں کہ نہیں بس سب منگوا لو دیکھنے کی زحمت کون کرے؟
’’ نہیں نہیں… وہ… وہ ایڈوانس میں منگوا لیتے ہیں کہ کبھی ضرورت ہی پڑجاتی ہے ‘‘۔
صحیح اگر ضرورت پڑتی ہے تو پہلے پرانا سامان نکلنا چاہیے ناں کہ جو نیا آیا وہ استعمال ہوتا جا رہا ہے اور پرانا پڑا سڑ رہا ہے بی بی بندہ ذرا دیکھ ہی لے تا ہے کہ کیا ہے کیا نہیں… کیا آئے گا اور کیانہیں…‘‘
’’ او ہو اب میں کیا کیا دیکھوں اور لوگ بھی رہتے ہیں اس گھر میں ان کو بولیے‘‘ صفیہ نے سپاٹ لہجے میں جواب دیا
’’ پہلی بات تو یہ ہے کہ آئندہ مجھ سے اس لہجے میں بات مت کرنا اور دوسرا یہ کہ میں نے تو سنا ہے تم یہ سب کام کسی دوسرے کو کرنے ہی نہیں دیتی‘‘
صفیہ یکدم چپ ہو گئی فرار کا کوئی دوسرا راستہ نہ تھا اور ہاں رات کا اتنا کھانا فرج میں رکھا ہوا ہے تو پھر یہ کھانا بنانے کی کیا تک ہے پہلے رات کا نمٹایاکرو پھر اگر ضرورت پڑے تو تھوڑا بہت کچھ کر لیا کرو اب روز دوپہر اہتمام کرنے کی ضرورت نہیں بس رات ہی میں کھانا بنے گا… فرج کی خبر لو تو پتا چلے نہ کیا گل سڑ رہا ہے ‘ ‘ صفیہ کے تن بدن میں آگ لگ گئی ، اس کی سلطنت میں اس حد تک دخل اندازی لیکن بولی کچھ نہیں کہ اسی میں عافیت تھی ۔
’’ بات سنو بیٹایہ ٹی وی کی آواز ہلکی کرو‘‘ ایک دن نرگس بیگم نے صفیہ کے بڑے بیٹے کو ٹی وی پر بے ہنگم ناچ گانا دیکھتے ہوئے کہا ۔
’’ کیوں آپ کو کیا پرابلم ہے آپ اپنے پورشن میں جایے۔ ہمارا جو دل چاہے گاکریں گے یہاں‘‘
یہ سننا تھا کہ نرگس نے سب سے پہلے تو ٹی وی کا پلگ نکال کر پھینکا پھر صفیہ کو بلا کر وہ سلاوتیں سنائیں کہ آج تک کسی کی ہمت نہ ہوئی تھی ’’ تم کسی کام کی عورت نہیں ہو نہ گھر گھرستی نہ بچوں کی تربیت… کچھ بھی نہیں اور اس پر اتنا زور حد ہے… آج فراز صاحب آتے ہیں تو بات کرتی ہوں میں’’ یہ سب کہہ کر نرگس بیگم یہ جا وہ جا آج صفیہ بیگم کی خیر نہیں تھی ابامیاں کھڑے ان سے خوب سوالات پہ سوالات کر رہے تھے اور وہ تھی کہ خاموش بت بنی کھڑی تھی ۔
’’ ہمیں اندازہ تو تھا ہی آپ کی قابلیت کا اب یقین ہو گیا ہے آپ نے کس طرح ہمارے گھرکا ہمارے بچوں کا بیڑا غرق کر دیا ہے بالکل ہمارے اللہ اللہ کرنے کے دن تھے لیکن ہمیں اندازہ ہو گیا تھا کہ ہمیں ایک مخلص عورت کی حد درجہ ضرورت ہے پھر شادی کی اجازت تو ہمارا مذہب بھی دیتا ہے بس اب آج سے گھر کی چھوٹی چھوٹی بڑی سے بڑی ذمہ داری نرگس بیگم ہی سنبھالیں گی ۔ آپ لوگ ان کی مدد کر سکتے ہیں ۔ اس سے زیادہ کچھ نہیں اور اگر کسی کو میری بات سے اتفاق نہیں تو اس گھر سے جا سکتا ہے ۔
صفیہ بھیگی بلی بنی سب کچھ سن رہی تھی اور اسے یہ بھی اندازہ تھا کہ حالات سے سمجھوتہ کرنے میں ہی اس کی عافیت ہے ۔