تحریک آزادی ہند میں علماء و مشائخ کا کردار

63

تحریک آزادیِ ہند و پاک میں علماء و مشائخ کے کردار کو آج کی نئی نسل تقریباً بھول چکی ہے یا یوں کہیے کہ ایک منظم سازش کے تحت تاریخ کی کتابوں سے خارج کیا جارہا ہے۔ ایسے افراد کو پہلی صف میں دکھایا جارہا ہے جو پچھلی صف کے لوگ تھے یا پچھلی صف کے بھی نہیں تھے۔ موجودہ حالات میں تاریخ کے اس پہلو کو سامنے لانے کی ضرورت ہے۔ پہلی صف کے قائدین و کارکنوں کے سیرت و کردار کو اُجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔ جو مثبت اور مدلل انداز سے ہو اور سچ پر مبنی ہو۔
سیّد احمد شہیدؒ اور اُن کے ساتھیوں کا تحریک آزادیِ برصغیر میں کردار، جماعت مجاہدین کا عیسائیوں، سکھوں اور ہندوئوں سے جہاد، روہیل کھنڈ میں علماء کا جہادِ آزادی، بنگال میں علماء کے زیر قیادت آزادی کی تحریکیں، حیدر آباد دکن میں علماء کی جنگ آزادی، ریشمی رومال کی تحریک اور دیگر تحریکیں جاری و ساری رہیں۔ تحریک خلافت 1919ء میں شروع کی گئی جس میں مولانا محمد علیؒ جوہر، مولانا شوکت علیؒ، مولانا ظفر علی خانؒ، مولانا ابوالکلام آزادؒؔ اور دیگر علماء نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ یہ سب تحریکیں آزادی کی سنگ میل تھیں۔
دو قومی نظریہ کی بنیاد پر جمال الدین افغانیؒ نے 1879ء میں، مولانا عبدالحلیم شررؒ نے 1890ء میں، ولایت علی بمبوقؒ نے 1913ء میں، مولانا اشرف علی تھانویؒ اور مولانا مرتضیٰ احمد میکشؒ نے 1928ء میں مسلمانوں کے لیے ایک الگ ریاست کے قیام کی تجاویز پیش کیں اور جدوجہد کی۔مسلم لیگ کا قیام 1906ء میں، بنگال میں نواب سلیم اللہ، نواب وقار الملکؒ، نواب محسن الملکؒ کی تحریک اور سرپرستی میں ہوا۔ بعد میں قائد اعظم محمد علی جناحؒ، علامہ اقبالؒ، مولانا شبیر احمد عثمانیؒ، مولانا اشرف علی تھانویؒ، مولانا ظفر احمد انصاریؒ اور دیگر اکابرین کی شمولیت اور تعاون سے مسلم لیگ مضبوط ہوئی، آخر کار اسلامی جمہوریہ پاکستان کی خالق جماعت ہونے کا اعزاز ملا۔
1930ء میں مسلم لیگ کا سالانہ اجلاس الٰہ آباد کے مقام پر ہوا۔ جس میں علامہ محمد اقبالؒ نے خطبہ دیا۔ جس میں مسلمانوں کے لیے علیحدہ وطن کا نظریہ پیش کیا۔
چودھری رحمت علیؒ نے ایک کتابچہ بعنوان ’’اب نہیں تو پھر کبھی نہیں‘‘ now or never لکھ کر شائع کیا۔ اس بنیاد پر تحریک شروع کی ’’پاکستان‘‘ کا نام متعارف پہلی دفعہ کرایا۔ لبرل اور روشن خیال لوگ کہتے ہیں کہ قرار دادِ لاہور کو سب سے پہلے ہندو پریس نے پاکستان کی قرار داد قرار دیا حالاں کہ علیحدہ وطن کے نام سے منسوب تحریک 23 مارچ 1940ء سے بہت پہلے چودھری رحمت علیؒ نے شروع کی تھی۔
مولانا سیّد ابوالاعلیٰ مودودیؒ نے ماہنامہ ترجمان القرآن نومبر، دسمبر 1938ء کے شمارے میں تقسیم برصغیر کا خاکہ پیش کیا۔ سیّد مودودیؒ اسلامی حکومت کے قیام کی جدوجہد ایک عرصے سے کررہے تھے۔ (مولانا کے کتابچے کو مسلم لیگ نے پورے برصغیر میں تقسیم کیا جس کو دو قومی نظریہ کی بنیاد کہا جاسکتا ہے:مرتب) مسلم لیگ سندھ نے 1938ء میں تقسیم کے حق میں ایک قرار داد منظور کی۔
برصغیر پاک و ہند کی تقسیم کے متعلق بہت سے علماء و دانشوروں اور انجمنوں و اداروں نے تجاویز و خاکہ پیش کیے اور عیسائیوں، ہندوئوں کی غلامی سے نجات حاصل کرنے کی عملاً جدوجہد کی۔ اس جدوجہد کے تذکرے کے لیے کئی صفحات کی ضرورت ہے۔