امریکی مرغیوں کی ڈربے میں واپسی (آخری قسط)

420

رواں برس نومبر میں اپنی انتخابی فتح کو یقینی بنانے کے لیے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ افغانستان سے بہر صورت اپنی افواج کا انخلا چاہتے ہیں۔ طالبان نے ٹرمپ کی اس ضرورت کا متاثر کن مہارت سے فائدہ اٹھایا ہے۔ 19برس سے جاری جنگ میں طالبان ایک فاتح فریق کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ جنگ کے پہلے عشرے ہی میں امریکیوں کو اندازہ ہوگیا تھا کہ طالبان کو سبق نہیں سکھایا جاسکتا لیکن وہ امریکی عوام جن کے ذہنوں میں یہ راسخ کردیا گیا ہے کہ امریکا ناقابل شکست ہے۔ انہیں کیسے یقین دلایا جائے کہ ریاست ہائے متحدہ اپنی تاریخ کی بدترین شکست سے دوچار ہو چکی ہے۔ صدر ٹرمپ نے اپنی پوری الیکشن مہم میں دنیا بھر میں امریکی مداخلتوں اور فوجوں کے قیام کو احمقانہ اور امریکی ٹیکس دہندگان سے بددیانتی قرار دیا۔ انہوں نے منہ پھٹ انداز میں امریکی عوام کو باور کرایا کہ امریکا اس جنگ کا کامیاب فریق نہیں ہے۔ وہ اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔ ہمیں ایک ایسے بندوبست کی راہ نکالنی چاہیے جو امریکی افواج کا بحفاظت انخلا یقینی بنا سکے۔
معاہدے کے مطابق امریکا آئندہ 135 دنوں کے اندر افغانستان کے پانچ امریکی فوجی اڈوں سے اپنی پانچ ہزار افواج نکال لے گا۔ اٹھارہ ماہ کے اندر تمام امریکی افواج کا انخلا مکمل کرلیا جائے گا۔ افغان جیلوں میں بند پانچ ہزار طالبان قیدیوں کی رہائی بھی اسی دوران عمل میں لائی جائے گی۔ جب کہ طالبان ایک ہزار قیدی رہا کریں گے۔ امریکا نے اسی دوران افغان کٹھ پتلی حکومت سے بھی ایک معاہدہ کیا ہے جس میں چالاکی کا مظاہرہ کرتے ہوئے تحریر کیا گیا ہے ’’افغان حکومت طالبان کے ساتھ اعتماد سازی کے لیے کافی تعداد میں دونوں طرف سے قیدیوں کی رہائی کے امکانات کا جائزہ لے گی‘‘۔ یعنی قیدیوں کی رہائی کا معاملہ افغان حکومت کی ذمے داری ہے۔ اس معاہدے کے تحت ہفتہ 14مارچ کو طالبان قیدیوں کے پہلے گروپ کو صدر اشرف غنی کو رہا کرنا تھا لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔ افغان حکومت کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ’’افغان حکومت تمام فہرستوں اور معاملات کی تحقیقات کررہی ہے کہ اس میں کیا خطرات ہیں اور کیا فوائد ہیں اور ان پر کس طرح عمل کیا جا نا ہے‘‘۔ صدر اشرف غنی کی یہ اوقات نہیں کہ امریکا کی مرضی کے بغیر ایسا کرسکیں۔ بہر حال معاہدے کے کچھ مثبت پہلو ہیں اور کچھ منفی۔ جنہیں بنیاد بناکر امریکا اور طالبان معاہدہ ختم بھی کرسکتے ہیں اور برقرار بھی رکھ سکتے ہیں۔ آئیے پہلے منفی پہلوئوں کا جائزہ لیتے ہیں۔
٭ معاہدے میں تقریباً15مرتبہ لکھا ہے۔ The islamic emirate of Afghanistan “which is not recognized by the United State of america and known as Taliban” مطلب اس کا یہ ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ امارات اسلامی افغانستان کو بحیثیت ریاست اور حکومت تسلیم نہیں کرتی۔ اسے محض طالبان پکارتی ہے۔ ٭8600 فوجیوں کا انخلا مزید ساڑھے نو مہینے کے بعد عمل میں لایاجائے گا وہ بھی تب جب طالبان معاہدے کی شرائط پر پورا اتریں گے اور افغان فریقین کے ساتھ شرکت اقتدارکی ڈیل مکمل کرلیںگے اور نئی حکومت کے قیام کے لیے درکار تمام مراحل پایہ تکمیل تک پہنچ جائیں گے۔ اس کا مطلب ہے طالبان کا حامد کرزئی، اشرف غنی، عبداللہ عبداللہ، اسماعیل خان اور ان لوگوں سے جو امریکا کی گود میں بیٹھے ہیں شرکت اقتدارار کا معاہدہ۔ معاہدے کی رو سے جب تک طالبان افغان فریقین کے ساتھ مل کر حکومت نہیں بنائیں گے افغانستان میں 8600 امریکی افواج موجود رہیں گی۔ ٭ ڈ یکلیریشن کے مطابق امریکا کے حامد کرزئی اور اشرف غنی کی حکومت کے ساتھ کیے گئے وہ معاہدے جن کے تحت امریکا افغانستان میں دہشت گردوں کے خلاف فوجی آپریشن کرسکتا ہے، بدستور نافذ العمل رہیں گے۔ معاہدے میں اس بات کا اعادہ کیا گیا ہے کہ امریکا افغان فوجیوں کی تربیت اور ان کی صلاحیتوں میں اضافے کے لیے بھی موجود رہے گا۔ ٭ معاہدے پر کسی امریکی عہدیدار کے دستخط نہیں ہیں۔ معاہدے میں 17مرتبہ ان الفاظ کی تکرار کی گئی ہے کہ امریکا افغانستان میں اسلامی حکومت کے قیام کو منظور نہیں کرتا۔
اب آئیے مثبت پہلوئوں کی طرف:
٭ طالبان کی طرف سے امریکا کو بڑی فراخدلی سے دی گئی ڈیڑھ برس کی مہلت طالبان کے اعتماد اور ان کی مضبوطی کی علامت ہے اور اس بات کا اظہار کہ چالیس برس سے وہ برسر جنگ ہیں لیکن اس کے باوجود تھکے نہیں ہیں۔ طالبان کی اکثریت ان نو جوانوں پر مشتمل ہے جو جنگوں کے سائے میں پل کر جوان ہوئے ہیں۔ جنگ ان کے لیے روز کا معمول اور عادت بن گئی ہے۔ وہ مستقبل میں بھی امریکی عزائم کو ناکام بنانے کا پورا حوصلہ رکھتے ہیں۔ ٭ معاہدے میں چالاکی سے رکھی گئی شقوں کا فائدہ اٹھا کر اشرف غنی کی حکومت طالبان سے برسر جنگ ہوئی تو امریکا فضائی حملوں سے اس کی مدد کرسکتا ہے۔ فضائی حملے طالبان کو جانی نقصان تو پہنچا سکتے ہیں لیکن افغانستان کے وسیع رقبے پر موجود ان کی عمل داری کو ختم نہیں کرسکتے۔ افغانستان کے نصف سے کہیں زیادہ علاقے پر طالبان کا کنٹرول ہے جہاں اسلامی شریعت نا فذ ہے۔ انیس برس تک امریکا کی پوری قوت سے موجودگی اس اقتدار کا خاتمہ نہیں کرسکی تو پسپا ہوتا ہوا امریکا اس اقتدار اور طالبان کو کتنا نقصان پہنچا سکتا ہے؟ ٭ طالبان گروپس اسلامی شریعت کے نفاذ اور آخری امریکی فوجی کی موجودگی تک جنگ کے ملا عمر کے قول پر متفق اور متحد ہیں۔ طالبان کی یہ فکر ان کی وہ طاقت ہے جو مستقبل میں اسلامی حکومت کے قیام کو ممکن بناتی ہے۔ اسلامی ریاست مسلمانوں کو وہ قوت فراہم کرتی ہے جس نے 27برس کے قلیل عرصے میں قیصر وکسریٰ کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا۔ کٹھ پتلی افغان حکومت اور امریکی ایجنٹوں کی کیا اوقات کہ وہ اس کا مقابلہ کرسکیں۔ ٭ اس معاہدے کے نتیجے میں طالبان امریکاکے پشت پناہ نظر آتے ہیں لیکن بہادر طالبان زیادہ عرصے یہ کردار ادا نہیں کرسکتے۔ امریکی چالاکیوں اور مزید قیام کی صورت میں وہ امریکا کے خلاف پھر صف آرا ہوسکتے ہیں۔ طالبان امریکا اور اس کی کٹھ پتلی حکومت کے خلاف ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جہاد سے دستبردار نہیں ہوئے۔
طالبان کو مذاکرات کی میز تک لانے میں پاکستان نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ نے بھی اس کا بر ملا اعتراف کیا ہے لیکن پاکستان اب بھی FATF کی گرے لسٹ پر موجود ہے۔ اس تنظیم نے پاکستان کو اس لسٹ سے نکالنے کے لیے مزید چار ماہ کی مہلت دے رکھی ہے۔ زبانی یا تحریری طور پر کہیں یہ یقین دہانی موجود نہیں ہے کہ چار ماہ بعد ہمیں یقینی طور پر اس لسٹ سے نکال دیا جائے گا۔
امریکا نے دو معاہدے کیے ہیں ایک اشرف غنی حکومت سے اور دوسرا دوحہ میں طالبان سے۔ ان معاہدوں میں موجودبعض شقیںاس مقصد کے لیے رکھی گئی ہیں کہ اشرف غنی حکومت طالبان کی راہ میں مشکلات کھڑی کرسکے اور امریکا ثالث کے طور پر طالبان کی مدد کے لیے آتا رہے۔ جیسا کہ ابتدا ہی میں قیدیوں کی رہائی کے معاملے میں صورت حال پیش آئی ہے۔ یوں معاہدے پر بروقت مکمل عمل ہوسکے گا اور نہ طالبان معاہدے سے نکل سکیںگے۔ جلد یا بدیر ان چالاکیوں کا جواب طالبان جنگ کی صورت میں دیں گے۔ اس صورت میں امریکا پاکستان سے پھر طالبان کے خلاف ڈو مور کا مطالبہ کرے گا۔ عمل نہ کرنے کی صورت میں FATF اور IMF کی مدد سے پھر پاکستان کو کسا جائے گا۔ امریکی مرغیاں مکمل طور پر ڈربے میں جائیں یا جزوی طور پر پاکستان کے حصے میں ان مرغیوں کا چھوڑا ہوا گند ہی آئے گا جسے صاف کرنے کے لیے امریکا پاکستان سے مطالبے کرتا رہے گا۔