مہاجرین کا بحران‘ ہیومن رائٹس واچ نے ترکی کی تائید کر دی

177

نیو یارک (انٹرنیشنل ڈیسک) ترکی کی جانب سے مہاجرین کے لیے سرحدیں کھولنے کے بعد یونان کے ساتھ درپیش تناؤ کے حوالے سے انسانی حقوق کی تنظیم ’ہیومن رائٹس واچ‘ نے ایک جامع رپورٹ اور جائزہ تیار کیا ہے، جس میں ترک مؤقف کی تائید کرتے ہوئے تصدیق کی گئی ہے کہ یونانی سرحد پر درپیش بحران کی وجہ سے یونان مسلسل ترکی کو تنقید کا نشانہ بنانے کے علاوہ انقرہ پر الزام عائد کررہا ہے اور ساتھ ہی تارکین وطن پر تشدد بھی کیا جا رہا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یونانی سیکورٹی فورسز اور نامعلوم افراد سرحد پر مہاجرین کو حراست میں لے کر تشدد کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ اس دوران مہاجرین پر جنسی حملے، انہیں بے لباس کرنے اور ترکی واپس بھیجنے کے واقعات بھی سامنے آئے ہیں۔ علاوہ ازیں سرحد پار کرنے کے لیے اپنی باری کے منتظر مہاجرین پر بھی یونان کی طرف سے آنسو گیس کی شیلنگ کی گئی ہے۔ واضح رہے کہ چند روز قبل جنگلاتی علاقے میں جمع تارکین وطن نے سرحد کی جانب پیش قدمی شروع کی تو یونانی فوجیوں نے ہوائی فائرنگ کردی اور آنسو گیس کے گولے پھینکے۔ دوسری جانب جرمنی نے انسانی بنیادوں پر مہاجرین قبول کرنے کا سلسلہ روکنے کا اعلان کردیا ہے۔ اس حوالے سے وزارت داخلہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ یہ اقدام کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے انسداد کے لیے کیا گیا جرمن حکومت نے ملک میں داخلے کے حوالے سے سفری پابندیاں بھی عائد کی ہیں، جس کا مطلب ہے کہ انسانی بنیادوں پر مہاجرین قبول کرنے کا سلسلہ روک دیا گیا ہے۔