عراق: نامزد وزیراعظم کا سال بھر میں انتخابات کرانے کا اعلان

180

بغداد (انٹرنیشنل ڈیسک) عراق میں وزیر اعظم کے عہدے کے لیے نامزد ہونے والے عدنان زرفی نے اعلان کیا ہے کہ اگر ان کی حکومت اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو وہ یک سال کے اندر ہی آزاد اور منصفانہ انتخابات کرانے کی کوشش کریں گے۔ مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق زرفی کا مزید کہنا تھا کہ وہ کئی ماہ سے حکومت کی بدعنوانی اور عہدے داروں کی نااہلی کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں کے مطالبات پر سنجیدگی سے غور کریں گے۔ اعلیٰ سرکاری ذرائع نے خبر رساں اداروں کو بتایا ہے کہ عدنان زرفی کی نامزدگی مبینہ طور پر اس لیے کی گئی ہے کیوں کہ حریف سیاسی جماعتیں کسی ایک امیدوار کے نام پر متفق نہیں ہو رہی تھیں جبکہ تمام فریقوں کی جانب سے کسی غیر متنازع اور غیر جانبدر شخص کو بطور وزیر اعظم نامزد کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا تھا، تاہم موجودہ نامزدگی کے اعلان کے فوراً بعد ہی پارلیمان میں دوسرے سب سے بڑا اور بااثر پارلیمانی گروپ الفتح نے عدنان زرفی کی مخالفت کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ وہ امریکا کے وفادار ہیں اور ہم عراقی صدر کی جانب سے غیر آئینی اقدام کو مسترد کرتے ہیں۔ دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کا کہنا ہے کہ اگر عدنان زرفی بنیادی ضروریات کی فراہمی یقینی بناتے ہوئے عراق کی خودمختاری برقرار رکھیں گے اور انسانی حقوق کا تحفظ کریں گے تو امریکا ان کی حمایت جاری رکھے گا۔ واضح رہے کہ عدنان زرفی امریکا کے اتحادی سابق وزیر اعظم حیدرالعبادی کے قائم کردہ ایک چھوٹے پارلیمانی گروپ النصر کے سربراہ ہیں۔ انہوں ایک سیکولر سیاست دان بھی سمجھا جاتا ہے۔ سابق عراقی صدر صدام حسین کے دور میں زرفی ملک چھوڑ کر امریکا چلے گئے تھے، جہاں وہ ایک پناہ گزیں کے طور پر رہتے رہے۔ذرائع کے مطابق وزیر اعظم کے عہدے کے لیے نامزد کیے گئے عدنان زرفی کے پاس امریکی شہریت بھی ہے، تاہم وزارت عظمیٰ کا عہدہ سنبھالنے کے لیے انہیں امریکی شہریت ترک کرنا ہوگی۔