کورونا سے گھبرانا نہیں ہے‘ پورے ملک میں پھیلے گا‘لاک ڈاؤن کریںتو لوگ بھوکے مرجائیں ‘ وزیراعظم

564
اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان وڈیو لنک کے ذریعے وفاقی کابینہ کے اجلاس کی صدارت کررہے ہیں

اسلام آباد(نمائندہ جسارت) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کورونا وائرس پورے ملک میں پھیلے گا لیکن گھبرانا نہیں ہے۔ ان کے بقول لاک ڈاؤن کریں گے تو لوگ بھوکے مرجائیں گے۔منگل کو سرکاری ٹی وی پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہاکہکورونا سے ملک میں افراتفری پھیل رہی ہے حالانکہ اس وائرس میں مبتلا 97 فیصد مریض ٹھیک ہوجاتے ہیں، عوام احتیاط کے طور پر زیادہ سے زیادہ وقت گھروں میں گزاریں، ملنا جلنا بند کریں اور ایک دوسرے سے مصافحہ کرنے سے گریز کریں۔ انہوں نے کہا کہ ہم مسلمان ہیں اور ہمارا ایمان ہے کہ زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ میں ہے، نبی کے فرمان پر عمل کرتے ہوئے قوم متحد رہے، ہمیں اس وبا کے خلاف جنگ ضرور جیتیں گے۔عمران خان کا کہنا تھا کہ چین نے کورونا پر تقریبا قابو پالیا ہے ، ہم بھی اس وائرس کا مقابلہ کریں گے ،چین سے مسلسل رابطے میں ہیں، ہمارے زائرین ایران گئے تو وہاں سے انہیں کورونا وائرس لاحق ہوا جو کہ ملک میں پھیلا،ہم اب تک 9 لاکھ افراد کی ائرپورٹس پر اسکریننگ کرچکے ہیں، پہلا کیس پاکستان میں 26 فروری کو رپورٹ ہوا، ہمیں اندازہ تھا کہ یہ وائرس یہاں بھی تیزی سے پھیل سکتا ہے، 20 کیس سامنے آنے پر نیشنل سیکورٹی کا اجلاس بلا کر دنیا بھر کے کیسز کا جائزہ لیا کہ جیسا کہ چین کی صورتحال ہے اور اٹلی میں لاک ڈاؤن ہوا لیکن برطانیہ کی سوچ مختلف ہے اور امریکا نے بھی شروع میں کوئی قدم نہیں اٹھایا اور ایک دم پورے کے پورے شہر بند کردیے۔عمران خان نے کہا کہ ہم نے بھی سوچا کہ کورونا وائرس کے 20 کیس سامنے آگئے اس لیے شہر بند کردیا جائے لیکن میں قوم کو آگاہ کرنا چاہتا ہوں کہ ہمارے ایسے حالات نہیں جیسا کہ یورپ اور امریکا کے ہیں، یہاں 25 فیصد لوگ تو بالکل ہی غریب ہیں اور بقیہ لوگ بھی معاشی مشکلات ہیں اگر ہم شہر کے شہر بند کردیں تو لوگ بھوک سے مرجائیں گے اس لیے ہمیں بہت سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنا ہوگا۔وزیراعظم نے کہا کہ اسی لیے ہم نے اسکول اور کالجز بند کیے، کمیٹی بنائی جو وزرا سے رابطے میں ہے، این ڈی ایم اے کو فعال کیا، آلات کا جائزہ لیا، ملک میں وینٹی لیٹرز کی کمی ہے اسی لیے فوری طور پر وینٹی لیٹرز کی تعداد بڑھانے کا حکم دیا، میڈیکل کی کورز کمیٹی مسلسل مشاورت کررہی ہے کہ دنیا میں کورونا کے خلاف کیا اقدامات کیے جارہے ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ چین ہماری مدد کررہا ہے ہمیں چین سے سبق سیکھنا ہے کہ ہم کیسے اس وائرس سے لڑسکتے ہیں، صدر عارف علوی اسی ضمن میں چین گئے ہوئے ہیں، ہمیں دنیا کو دیکھنا ہے کہ دنیا میں اس وائرس سے کیسے جنگ کی جارہی ہے، حکومت عوام کو آگاہ کرے گی کہ اس وائرس سے کیسے بچنا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس وائرس کے سبب معاشی معاملات میں بھی بگاڑ پیدا ہورہا ہے، بڑی عرصے بعد پاکستان کی برآمدات بڑھنا شروع ہوئی تھیں لیکن اب نظر آرہا ہے کہ اس پر منفی اثر پڑے گا اسی طرح ملک میں شادی ہالز، ریستوران اور شاپنگ سینٹرز پر بھی اثر پڑے گا ہمیں معاشی معاملات کو بھی دیکھنا ہے۔عمران خان نے آخر میں علما سے اپیل کی کہ وہ ذمے داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے عوام کو مشکل وقت میں احتیاط کی ہدایت کریں۔قبل ازیں امریکی خبر ایجنسی کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس ترقی پذیر ممالک کی معیشتوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے لہٰذا ترقی یافتہ ممالک پاکستان جیسے دیگر ترقی پذیر ممالک کا قرضہ معاف کرنے کے بارے میں سوچے، اس اقدام سے ہمیں کورونا وائرس سے نمٹنے میں مدد ملے گی۔عمران خان نے کہا کہ کورونا ملک میں پھیلا تو معیشت بحال کرنے کی کوششوں کو سنگین نقصان ہوگا جب کہ اتنے بڑے بحران سے نمٹنے کے لیے ہمارے پاس طبی سہولتیں ناکافی ہیں۔