سکھر، ٹی ایم اے فنڈ میں خوردبرد کے الزام میں 11 ٹھیکیدار گرفتار

75

سکھر/ سرگودھا (اے پی پی/ آئی این پی) نیب سکھر نے تعلقہ میونسپل ایڈمنسٹریشن فیض گنج کے افسران کیخلاف بدعنوانی کی تحقیقات کیس کے سلسلے میں ٹی ایم اے فنڈز میں خوردبرد اور استفادہ کرنے کے الزام میں 11 کنٹریکٹرز کو گرفتار کرلیا۔ نیب کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق نیب سکھر ٹی ایم اے فیض گنج نے فنڈز کی مکمل تحقیقات کی جس میں گرفتار ٹھیکیداروں کو فائدہ اٹھانے والوں میں پایا گیا ہے۔ سندھ ہائیکورٹ سکھر نے ملزموں کی ضمانت قبل از گرفتاری کی عبوری ضمانتیں مسترد کردیں، پلی بارگین کے تحت اب تک 16 ملین روپے کی رقم واپس کی جا چکی ہے۔ علاوہ ازیں نیب حکام نے سرگودھا سے تعلق رکھنے والے لیگی رکن قومی اسمبلی محسن شاہنواز رانجھا اور ان کے والد کیخلاف اختیارات کا ناجائز استعمال کرنے اور غیر قانونی اثاثہ جات کی تحقیقات شروع کردی ہے، اس سلسلے میں ان کی بطور پارلیمانی سیکرٹری اطلاعات و نشریات ریڈیو پاکستان میں غیر قانونی بھرتیوں کا ریکارڈ بھی طلب کر لیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق سابق لیگی دور حکومت میں انہوں نے اپنے والد سابق ایم پی اے چودھری شاہ نواز رانجھا کے ساتھ ملکر غیر قانونی اثاثہ جات بنائے، اسی طرح پاکستان براڈ کاسٹنگ کارپوریش میں غیر قانونی بھرتیاں کیں جبکہ چودھری شاہنواز رانجھا پر ان کے ایم پی اے دور میں غیر قانونی اثاثہ جات بنائے۔ اس سلسلے میں محسن شاہنواز رانجھا کے ترجمان نے کہا کہ نیب حکومتی اشاروں پر وہی کچھ کر رہی ہے جو لیگی قیادت کے ساتھ کیا جا رہا ہے، یہ سیاسی انتقام کی بدترین مثال ہے۔