امریکہ طالبان معاہدہ آج ہوگا، دو دہائیوں پر محیط جنگ خاتمے کے قریب

338

دوحہ: افغانستان اور امریکہ میں دو دہائیوں پر محیط جنگ خاتمے کے قریب ،تاریخی امن معاہدہ آج قطر میں ہوگا۔

دوحہ معاہدے کےتحت افغانستان سے امریکی افواج کا انخلا ہوگا جبکہ اس کے جواب میں طالبان کو ضمانت دینی ہے کہ افغان سرزمین دہشت گردوں کےاستعمال نہیں کرنے دیں گے۔ معاہدے کےتحت افغانستان میں مکمل جنگ بندی کو یقینی بنایا جائےگا جبکہ طالبان اور افغان حکومت کے درمیان مستقل قیام امن کیلئے مذاکرات ہوں گے۔

قطر کےدارالحکومت دوحہ میں امریکا اورطالبان کے درمیان طے پانے والا معاہدہ نہ صرف تاریخی بلکہ افغانستان میں امن، سلامتی اور خوشحالی کی جانب بہترین سنگ میل ثابت ہوگا۔ معاہدے سے افغانستان میں موجود 14 ہزار امریکی اور 17 ہزار نیٹو فوجیوں کے انخلا کی راہ ہموار ہوگی۔

قطر میں تقریب کا باقائدہ آغاز 3 بجے ہوگا جس میں پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سمیت 50 ملکوں کےنمائندےشریک ہوں گے۔

Image result for taliban and us peace talks

قطر میں جاری طالبان امریکا معاہدے سے نہ صرف 19سالہ جنگ کا خاتمہ ہوگا بلکہ پاکستان سمیت خطےمیں پائیدار امن کی راہ ہموار ہوگی۔

امریکا اور طالبان کے درمیان 2018 سے جاری مذاکرات کے کئی کامباب اور ناکام ادوار ہوئے، ان مذاکرات کے نتیجے اور طرفین کی طرف سے امن کی خواہش کے نتیجے میں دوحہ میں افغان امن معاہدےپر امریکا اور طالبان کے دستخط در اصل معاہدے کے سہولت کار پاکستان کے بیانیے کی فتح ہے جس میں پاکستان کہہ چکا کہ افغان مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں ہے۔

واضح رہے کہ قطر میں طالبان کےسیاسی دفتر کے ترجمان سہیل شاہین کا کہنا ہے کہ 7 روز میں افغانستان میں کوئی بڑا واقعہ نہیں ہوا، معاہدے پر دستخط ہونے کے بعد ہم آگےچلیں گے۔